معروف بھارتی کامیڈین منور فاروقی نے طلبہ کے احتجاج پر نامور شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھا دیا۔
منور فاروقی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر احتجاج کے 25 دن بعد اچانک سامنے آنے والے فلمی ستاروں پر ایک تحریری نوٹ شیئر کیا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ بیشتر سیلیبریٹیز کو صرف اس وقت بولنے کا خیال آیا جب وزیر اعظم نے بات کی اور عوام کا رجحان بدلا۔ گزشتہ 25 دنوں سے جب نوجوان سڑکوں پر نکلے، تنقید کا سامنا کیا اور آواز اٹھانے کی قیمت چکائی، تب تک زیادہ تر لوگ خاموش رہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اگر آپ کوئی موقف اپنا رہے ہیں تو اسے بغیر کسی خوف کے اپنائیں، صرف اس وقت نہیں جب ماحول محفوظ ہو جائے۔ دباؤ یا عوامی رائے کی وجہ سے دکھائی جانے والی حمایت ہمت نہیں بلکہ سہولت کاری ہے۔
منور فاروقی نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا اگر زیادہ با اثر شخصیات ہفتوں پہلے آواز اٹھاتیں، تو شاید حالات اس حد تک نہ بگڑتے۔
واضح رہے کہ شعبہ تعلیم میں بے ضابطگیوں کے الزامات، بالخصوص نیٹ (NEET) کے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے تناظر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں یہ احتجاج دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔
سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کر کے اس احتجاج میں شمولیت اختیار کی تھی۔