نیٹ امتحانات میں مبینہ بےضابطگیوں کے خلاف نئی دہلی میں جاری طلبہ کے مظاہروں پر وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ ویڈیو پیغام کے بعد بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
انسٹاگرام پر ایک ٹوٹے ہوئے دل کے ایموجی کے ساتھ دیا مرزا نے نوٹ شیئر کیا جس میں لکھا، ’جناب! ان والدین کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں جن کے بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، نہ ان طلبہ اور سونم وانگچک کے لیے کوئی جذبہ جو ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔‘
انہوں نے مزید تحریر کیا، ’آپ کو کچھ کہنے میں 47 دن لگ گئے اور اب جب آپ بولے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ ایسا کچھ نہیں جو ان لاکھوں ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ سکے۔‘
نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے مسلسل احتجاج اور سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا تھا کہ حکومت پیپر لیکس کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لیے ’فاسٹ ٹریک عدالتیں‘ قائم کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ لاکھوں طلبہ اور والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور حکومت کی پہلی ترجیح طلبہ کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔