• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں تحقیق اور سائنس خواہ جتنی بھی ترقی کر لے اس کی کامیابی کا تناسب کبھی سو فیصد نہیں ہو سکتا۔ سائنس مسلسل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے نتائج نئی معلومات کے ساتھ بدل بھی سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کامل علم اور کامل اختیار کی مالک ہے جس کے فیصلے قطعی اور سو فیصددرست ہوتے ہیں۔علم کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے کسی ایک ذہن یا ایک کتاب میں سمو دینا ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے واقعے سے بھی یہی سبق ملتا ہے۔ روایت کے مطابق جب آپ سے پوچھا گیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے تو آپ نے فرمایا کہ میرے علم سے بڑھ کر کس کا علم ہو سکتا ہے کیونکہ مجھے اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہے۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں متوجہ فرمایا کہ ان کا علم اللّٰہ کے لامحدود علم کے مقابلے میں سمندر سے ایک قطرے کے برابر بھی نہیں اور انہیں حضرت خضرؑ کے پاس جانے کا حکم دیا جنہیں بعض معاملات کا ایسا علم عطا کیا گیا تھا جو حضرت موسیٰؑ کے پاس نہیں تھا۔اس تمہید کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بعض اوقات سائنس ایسے پیچیدہ معاملات سے دوچار ہو جاتی ہے جو انسانوں اور خاندانوںکیلئے غیر معمولی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ میڈیکل کی تاریخ میں ماں کا ڈی این اے بچوں کے DNA سے میچ نہیں ہوا اور اس ٹیسٹ نے اپنی ہی اولاد کی ماں ماننے سے انکار کردیا۔

2002 ء میںامریکہ کی ریاست واشنگٹن میں رہنے والی 26؍سالہ خاتون لیڈیا فیئرچائلڈ (Lydia Fair Chaild )کی زندگی ایک ایسے موڑ پر آگئی جسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا اور اس وقت کے ریسرچر بھی پریشان ہوگئے۔اس خاتون کے دو بچے تھے اور وہ تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ اسی دوران شوہر سے علیحدگی کے بعد اس نے حکومتی مالی معاونت کیلئے درخواست دی۔ معمول کے مطابق بچوں اور ماںکے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے مگر حیرت انگیز طور پر نتائج نے سب کو چونکا دیا۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کا ڈی این اے اپنی ماں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔دورانِ حمل تیسرے بچے کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا لیکن وہ بھی ماں کے ڈی این اے سے میچ نہ کر سکا۔سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا کہ خاتون جھوٹ بول رہی ہے اور یہ بچے اس کے نہیں ہیں۔ تین مرتبہ ڈی این اے ٹیسٹ کیاگیا مگر ہر بار نتیجہ وہی آیا۔ حکومت نے نہ صرف مالی امداد دینے سے انکار کر دیا بلکہ بچوں کی تحویل کا مقدمہ بھی شروع کر دیا۔ مزید اطمینان کیلئے ایک سرکاری افسر کو ڈلیوری کے وقت موجود رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیدا ہونے والا بچہ اسی خاتون کا ہے۔ افسر کی موجودگی میں بچے کی پیدائش ہوئی مگر اس کے بعد ہونے والے ڈی این اے ٹیسٹ نے پھر وہی حیران کن نتیجہ دیا۔خاتون انتہائی پریشان تھی کیونکہ ٹیسٹ کے مطابق بچے اس کے نہیں تھے۔ اس کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھنے لگیں اور وہ ڈپریشن میں چلی گئی۔اگرچہ حکومتی ادارے اپنی رائے پر قائم رہے لیکن ماں کی وکیل نے ہمت نہیں ہاری۔ تحقیق کے دوران اسے معلوم ہوا کہ بوسٹن میں کیرن کیگن نامی ایک خاتون کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے۔ مزید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ایک نہایت نایاب جینیاتی کیفیت ہے جسے چائمیرزم (Chimerism) کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں دو مختلف قسم کے DNA ایک ہی بچے کے اندر پائے جاتے ہیںعموما دو الگ الگ بیضے دو الگ الگ سپرمزسے مل جاتے ہیں جسکے نتیجے میں جڑواں Twins بچے پیدا ہوتے ہیںاس جینیاتی کیفیت میں یو ٹرس میں یہ دو جڑواں بچے آپس میں ملکر ایک بچہ بن جاتے ہیں ۔ اس طرح جو بچہ دنیا میں آتا ہے اس میں دو طرح کے خلیات Cells ہوتے ہیں اور ان خلیوں کےDNA بھی الگ ہوتے ہیں۔ اس میں جسم پر مختلف رنگ کے داغ ہوسکتے ہیںاس کے علاوہ اس کی دونوں آنکھوں کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں۔وہ اپنی زندگی نارمل اور صحتمند طریقہ سے گزارتے ہیں اور انہیں ساری زندگی اس تبدیلی کا پتہ بھی نہیں چلتا ۔ DNA ٹیسٹ کی سہولت کیونکہ آسانی سے مہیا نہیں ہوتی اس لئے دنیا میں اس بیماری کے لوگوں کی صحیح تعداد معلوم کرنا بہت مشکل ہے ۔ عام طور پر ڈی این اے ٹیسٹ خون یا منہ کے خلیوں سے کیا جاتا ہے لیکن اس کیس میں جسم کے مختلف حصوں سے نمونے لیے گئے۔ حیرت انگیز طور پر مختلف اعضا سے حاصل ہونے والا ڈی این اے ایک دوسرے سے مختلف نکلا۔ اس طرح اس خاتون کے جسم میں دو مختلف جینیاتی نظام موجود تھے۔ان کے خون اور منہ کے خلیوں کا ڈی این اے ایک تھا جبکہ تولیدی نظام کا ڈی این اے مختلف تھا اور یہی دوسرا ڈی این اے ان کے بچوں میں منتقل ہوا تھا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی جڑواں بہن کا جینیاتی حصہ بھی اپنے اندر لیے ہوئے تھیںحالانکہ وہ بہن پیدائش سے پہلے ہی انہی کے جسم کا حصہ بن چکی تھی۔اس حیران کن دریافت کے بعد عدالت نے تمام الزامات واپس لے لیے، بچوں کی تحویل ماں کے حوالے کر دی گئی اور لیڈیا فیئرچائلڈ باعزت بری ہو گئیں۔ آج بھی یہ واقعہ طب اور جینیات کی دنیا میں ایک تاریخی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سائنس بے شک انسان کی عظیم ترین علمی کاوشوں میں سے ایک ہے لیکن اس کے علم کی بھی حدود ہیں۔ قدرت کے بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیتے ہیں اور جنہیں سمجھنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ اس لیے انسان کو اپنے علم پر غرور کے بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ کامل علم صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی سب سے بڑا مددگار، سب سے بڑا کارساز اور ہر ظاہر و پوشیدہ حقیقت کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔

تازہ ترین