• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ انتظامیہ ایچ ون بی ویزے کی 1 لاکھ ڈالرز فیس عائد کرنے میں پھر ناکام

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایچ ون بی ویزے کے اجراء پر 1 لاکھ ڈالرز فیس عائد کرنے میں ٹرمپ انتظامیہ کو پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکا کی اپیلز کورٹ نے ایچ ون بی ویزے کے لیے 1 لاکھ ڈالرز فیس بحال کرنے سے انکار کر دیا۔

بوسٹن میں قائم فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے 3 رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ اپیل میں اس کے مؤقف کی کامیابی کا واضح امکان موجود ہے یا یہ کہ حکومت نے اپنی قانونی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔

یہ فیصلہ اس مقدمے میں سامنے آیا جو 20 ڈیمو کریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے دائر کیا تھا۔

 نچلی عدالت نے 8 جون کو اپنے فیصلے میں ایچ ون بی ویزے پر عائد 1 لاکھ ڈالرز فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس نے حکومت کو اس نوعیت کا ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جاری کیے گئے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ایچ ون بی ویزے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ ایچ ون بی پروگرام کو امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے 20 ہزار اضافی ویزے مختص ہوتے ہیں، یہ ویزے عموماً 3 سے 6 سال کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔

ٹرمپ کے فیصلے سے قبل غیر ملکی کارکن کے لیے ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے کی فیس مختلف عوامل کے مطابق تقریباً 2000 سے 5000 ڈالرز کے درمیان ہوتی تھی۔

نئی فیس ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتی جو پہلے ہی امریکا میں اسٹوڈنٹ ویزے پر موجود ہوں اور بعد میں ایچ ون بی ویزا حاصل کریں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید