بھارتی ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے دعویٰ کیا ہے کہ 18 جولائی کو پولیس مجھے احتجاجی مقام سے زبردستی اٹھا کر اسپتال لے گئی تھی جہاں میرے ساتھ قیدی جیسا سلوک کیا گیا۔
انہوں نے اپنے تازہ بیان میں بتایا ہے کہ سرکاری اسپتال کو ایک طرح سے چھاؤنی بنا دیا گیا تھا، مجھے کمرے سے باہر جانے، ملاقات کرنے اور موبائل فون یا لیپ ٹاپ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
سونم وانگچک نے کہا ہے کہ بعد میں نجی اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود میری نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میرے ساتھی، طلبہ اور حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے وقت میرے ساتھ موجود نہیں تھے۔
سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو میں 26 دن تک بھوک ہڑتال نہ کرتا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے، اسی لیے میں نے امن قائم رکھنے اور حالات کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
سونم وانگچک کے مطابق مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جیتیندر سنگھ نے اسپتال میں مجھ سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ میں بحث، معاوضے پر غور اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات نہ بنانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابتداء میں حکومت صرف زبانی یقین دہانی دے رہی تھی لیکن میں نے تحریری ضمانت پر اصرار کیا اور اسی کے بعد ہڑتال ختم کی۔