• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ، وزیر تعلیم کے استعفے پر ابھیجیت دیپکےکا چیف جسٹس کو پیغام

فوٹو: بھارتی میڈیا
فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ۔"

ابھیجیت دیپکے نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر چیف جسٹس ہمیں کاکروچ نہ کہتے تو میں بھارت واپس نہیں آتا اور یہ تحریک کبھی شروع نہیں ہوتی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوانوں کی جانب سے یہ تحریک 15 مئی کو سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک سماعت کے بعد شروع ہوئی تھی، جب چیف جسٹس سوریا کانت نے سینئر ایڈووکیٹ کے عہدے سے متعلق کیس کے دوران کہا تھا کہ کچھ نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں، جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی پیشے میں کوئی جگہ۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت کی تھی کہ ان کا اشارہ صرف جعلی قانون کی ڈگری رکھنے والوں کی طرف تھا، بے روزگار نوجوانوں کی طرف نہیں، تاہم یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔

اس کے اگلے ہی روز بوسٹن میں مقیم طالب علم اور عام آدمی پارٹی کے سابق کمیونیکیشنز اسٹریٹجسٹ ابھیجیت دیپکے نے ایک طنزیہ پوسٹ کے ذریعے کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اسے ان تمام ’’کاکروچوں‘‘ کا پلیٹ فارم قرار دیا جو بے روزگار، سوشل میڈیا پر سرگرم اور نظام پر تنقید کرنے والے نوجوان ہیں۔

بعد ازاں نیٹ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر عوامی غصہ بڑھنے کے ساتھ یہ مہم ایک بڑی احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی، ابھیجیت دیپکے جون کے آغاز میں بھارت واپس آئے اور جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت سنبھالی۔

تحریک کا بنیادی مطالبہ امتحانی بے ضابطگیوں پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ 28 جون کو سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی، جو 26 روز بعد اس وقت ختم ہوئی جب حکومت نے تحریری یقین دہانی کروائی کہ پرامن مظاہرین کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے، پارلیمنٹ میں امتحانی اصلاحات اور احتساب پر غور ہوگا، جبکہ مبینہ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ 20 جولائی کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کے باوجود احتجاج جاری رہا، اور بالآخر حکومت کو دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا۔

دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عہدہ چھوڑ رہے ہیں، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ جنتر منتر اور ملک بھر کی صورتحال سے ملک دشمن عناصر فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید