بھارتی سیکیورٹی فورس کی خاتون افسر سونیا سہراوت کو مردہ کاکروچ کی تصویر شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا۔
امتحانی اصلاحات کے مطالبے پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران ریپڈ ایکشن فورس کی اسسٹنٹ کمانڈنٹ سونیا سہراوت ایک متنازع انسٹاگرام پوسٹ کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئیں۔
سونیا سہراوت کے انسٹاگرام پر 6 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، وہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران تعینات تھیں۔ اس احتجاج میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں وہ بھی زخمی ہوئیں اور ان کا ہاتھ فریکچر ہوگیا۔
ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک اسٹوری کا اسکرین شاٹ وائرل ہوا، جس میں ایک مردہ کاکروچ کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا ’’خود کو تو ٹھیک نہیں کر سکتے، ملک کو ٹھیک کرنے نکلے ہیں۔‘‘ بعد ازاں یہ اسٹوری حذف کر دی گئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی پر بالواسطہ طنز قرار دیا، جو امتحانی اصلاحات کے لیے احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔
اس کے بعد کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا حاضر سروس سیکیورٹی اہلکاروں کو جاری سیاسی یا عوامی احتجاج سے متعلق اپنی رائے عوامی سطح پر ظاہر کرنی چاہیے اور ان پر تنقید شروع کردی گئی۔
اس دوران صارفین نے سونیا سہراوت کی پرانی انسٹاگرام پوسٹس بھی کھنگالیں، جن میں احتجاج سے چند روز قبل گوا کی سیر کی تصاویر شامل تھیں۔