امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے ایران پر ایک روز کے لیے حملے روکنے کا حکم دیدیا۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق جمعہ کو ایران کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ صدر کے حکم کے بعد ایران کے خلاف روزانہ ہونے والے حملوں کا تقریباً دو ہفتے طویل سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق فوج ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کی تیاری کررہی ہے تاہم صدر ٹرمپ نے اس کی تاحال منظوری نہیں دی ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر ایران پر حملوں کی منظوری دوپہر کے وقت دیتے تھے جس کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران پر بمباری کردی جاتی تھی۔
جمعہ کو بھی صدر ٹرمپ کو ایسا ہی منصوبہ پیش کیا گیا تھا مگر صدر ٹرمپ نے فوج کو حکم دیا کہ حملے نہ کیے جائیں۔
اس حکم نامے کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور اس کی شدت بڑھانے کا آپشن بھی ہے جس میں ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر اسمارٹ اسٹریٹیجی یہ ہے کہ ایران سے ڈیل کی جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران زیادہ سے زیادہ سنجیدہ ہورہا ہے، ہم حملوں کے لیے تیارہ ہیں مگر ایران سے بات بھی کی جارہی ہے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے حملے روکنے کا حکم ایسے وقت میں دیا جب اومانی وفد مذاکرات کے لیے جمعہ کو ایران پہنچا تھا تاکہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نیا معاہدہ کیا جاسکے۔
امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران اور اومان کے درمیان اس معاملے پر اسی ویک اینڈ پر معاہدہ کرلیا جائے گا، اس کے بعد صدر ٹرمپ پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ اس مجوزہ ڈیل کو منظور کریں یا نہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارن انقلاب فورس نے امریکی فوجی اڈوں پر لڑاکا طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ حملوں میں 17 ڈرون طیارے تباہ کیے۔
پاسدارن انقلاب فورس نے کہا کہ ہینگر میں کھڑا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ، پی 8 طیارہ بھی تباہ ہوا، سی 17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ طیارے بھی ایرانی حملوں میں تباہ ہوئے۔