سچی بات یہ ہے کہ عالم کفر تو ملت واحد ہے مگر مسلمان منقسم ہیں۔ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں یا ایک کی تباہی پر دوسرے خاموش ہیں ۔اقبال کی تو آرزو تھی
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ اب یمن کے حوثی نیا چیلنج بن کر سامنے آرہے ہیں۔ اقبال کے دور کی نسبت اب مسلم ممالک پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ آبادی بھی دو ارب ہو چکی ہے۔ مسلم ممالک ہیں 57۔ا قوام متحدہ کے کل ارکان 195یعنی دنیا میں 30 فیصد کے قریب مسلم ممالک ہیں۔ اگر یہ آپس میں متحد ہوں ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہوں تو اقتصادی طور پر دوسرے کسی بھی بلاک سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔ اسلام امریکہ کینیڈا یورپ میں تیزی سے پھیلتا مذہب ہے۔ یہ تو افرادی وسائل کی قوت ہو گئی۔ معدنی قدرتی وسائل بھی اللہ تعالیٰ نے بے حساب بخشے ہیں۔ پہلے تیل کی بات کر لیں۔ عرب ملکوں میں دنیا کےتیل کے43 فیصد ذخائر ہیں۔ پھر ایران بھی خام تیل سےمالا مال ہے۔ قدرتی گیس ایران، قطر ،سعودی عرب، متحدہ امارات، الجیریا میں وافر مقدار میں ہے۔ قطر کے پاس مائع گیس دنیا کی 85 فیصد ہے 2030 تک کیلئے۔ سونا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، الجیریا ،پاکستان میں وافر مقدار میں ہے ۔فاسفیٹ سعودی عرب، مراکش، اردن میں۔ المونیم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا میں۔ تانبہ زنک سعودی عرب، ایران، پاکستان انڈونیشیامیں۔ فولاد ایران، سعودی عرب ،ماریطانیہ، ترکی میں۔ یورینیم قازقستان میںدنیا میں سب سے زیادہ۔ نائجر کرومیم ،ترکی، قازقستان میں۔نکل انڈونیشیا دنیا میں سب سے زیادہ ،اس کے علاوہ بھی دھاتیں، پتھر چاندی، پوٹاش، نمک پاکستان اور کئی دوسرے ملکوں کے پاس ہیں ۔پام آئل زرعی آبپاشی بے حد۔ مشرق وسطی ،خلیج ،شمالی افریقہ، وسطی ایشیا ،جنوب مشرقی ایشیا ،جنوبی ایشیا میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور سمندر کو لا تعداد نعمتیں عطا کی ہیں۔
یہ سب ممالک او آئی سی کے ممبر ہیں اگرچہ او آئی سی نے ان شعبوں سے متعلق بہت سے ادارے بھی قائم کیے ہیں،ماہرین کے گروپ بھی ہیں۔ لیکن ایسی کوئی اطلاعاتی ایجنسی نہیں ہے جہاں سے بٹن دبا کر آپ کو ساری تازہ ترین معلومات مل سکیں۔
عسکری تربیت ،جدید ٹیکنالوجی اور ہلاکت خیز اسلحےکے حوالے سے بھی مسلم دنیا بہت طاقتور ہے۔ دنیا میں عسکری حوالے سے ترکی9ویں ،انڈونیشیا 13ویں، پاکستان 14ویں ،ایران 16ویں، مصر 19 ویں، سعودی عرب 25ویں ،متحدہ عرب امارات 54 ویں، الجیریا 27ویں ،بنگلہ دیش 37 ویں، ملائشیا 42 ویں حیثیت رکھتے ہیں۔ واحد مسلم ایٹمی طاقت ہونے کا فخر پاکستان کو حاصل ہے مگر مجموعی طور پر اسلامی دنیا کی اپنی کوئی نیٹو نہیں ہے۔سب اسلامی ملکوں میں کوئی دفاعی پیکٹ نہیں ہے۔سعودی عرب نے 41ملکوں کا ایک دفاعی اشتراک بنایا تھا ۔ پاکستان کےایک سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے انسداد کیلئے اس کولیشن کے ملٹری کمانڈر ہیں۔ امریکہ نے کمیونزم کے مقابلےکیلئے نیٹو تشکیل کی تھی۔ جو کمیونزم ختم ہونے کے بعد اب بھی سرگرم ہے۔ اس کے مقابلے میں کمیونسٹ وارسا پیکٹ ہوتا تھا ۔کمیونزم کے انہدام کے بعد وارسا پیکٹ بھی ختم ہو گیا۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں ،نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں سے دوپہر کے کھانےپر تبادلہ خیال کا دن۔ ہماری اولادوں میں بھی مسلمانوں کی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے نہ تھامنے کی بہت سی شکایات ہیں۔ ان کو زیادہ فکر ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں تجارت کیوں نہیں ۔ اپنی ایک کرنسی کیوں نہیں ۔ میں اتوار کو محلے داری کی بھی فرمائش کرتا ہوں کہ نماز عصر کے بعد آپ اپنے محلے والوں سے ملیں۔ کسی گھر میں اکٹھے ہو جائیں۔ اپنے محلے کی مسجد میں بیٹھ سکتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہوں ۔جو تنازعات آپ خود طے کر سکتے ہیں وہ کر لیں حکومت کا انتظار نہ کریں۔
سوال یہ بنیادی طور پر پیدا ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں کے نوجوان خاص طور پر پاکستانی اور فلسطینی غیر مسلم ملکوں میں جا کر وہاں کی معیشت، تعلیم، صحت کے شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ذہانت، صلاحیت اور استعداد مسلم دنیا کی اقتصادی اور سائنسی ترقی میں کیوں استعمال نہیں ہو سکتی۔ مسلمان ملکوں کے زر مبادلہ کے ذخائر بھی بہت ہیں۔ ایسی کوئی تحریک چلتی ہے نہ تحقیقی ادارے سفارشات دیتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کے قدرتی ،معدنی ،افرادی وسائل مسلم دنیا کی اقتصادی اہلیت، عسکری قوت اور سیاسی مفاہمت بڑھانے اور مسلمانوں کی فی کس آمدنی باوقار بنانے کے کام آ سکیں ۔او آئی سی کے موجودہ چیئرمین کون ہیں۔ کیا انہوں نے اس اعلیٰ حیثیت سے حالیہ سنگین جنگی صورتحال پر کوئی پالیسی بیان جاری کیا ۔موجودہ چیئرمین افریقی ملک گیمبیا کے صدر آدمہ بیرو ہیں جہاں کی مسجدوں سے اذانوں کی آواز بلند ہوتی ہے ۔کم آمدنی کا ملک ہے آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ آبادی صرف 29لاکھ ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر 508ملین ڈالر۔ 15ویں اسلامی سربراہ کانفرنس گیمبیا کے شہر بنجول میں منعقد ہوئی تھی میزبان ملک کا چیف ایگزیکٹو او آئی سی کا سربراہ ہوتا ہے۔مسلم دنیا کی اقتصادی ،سائنسی ،تعلیمی ،سماجی، عسکری ترقی میں رکاوٹ کیا ہے۔ جتنے متمول ملک ہیں وہاں بادشاہتیں ہیں۔ سعودی عرب، مسقط، برونائی میں مکمل سلطانی۔ مراکش، اردن، ملائشیا ،کویت، بحرین میں آئینی بادشاہت۔ ترکی، مصر، انڈونیشیا، الجیریا اور وسطی ایشیا کے کئی ملکوں میں صدارتی نظام ۔پاکستان ، عراق، لبنان اور بنگلہ دیش میں پارلیمانی نظام۔ ایران میں صدارتی جمہوریت مگر سپریم لیڈر رہبر معظم مذہبی لحاظ سے۔ متحدہ عرب امارات میں منتخب بادشاہت۔ تیونس ماریطانیہ میں ملا جلا صدارتی نظام ۔اکثر مسلم ممالک میں میرٹ کا قتل ہوتا ہے۔ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہے۔ عام آدمی کیلئے زندگی یورپی ملکوں کی طرح آسان نہیں۔عدالتیں بے اختیار ہیں ۔غیر مسلم ملکوں میں انڈیا میں مسلمان 20 کروڑ ،امریکہ میں ایک کروڑ ،کینیڈا میں22لاکھ ،چین میں تین کروڑ، روس میں 60 ملین، یورپ میں بھی 24 ملین ہیں۔
ایک نظر ڈال لیں اگر مسلمان حکمران واقعی اسلامی روایات اور خلفائے راشدین کی پالیسیوں کے پاسدار ہوں، آپس میں یک خیال اور یک زبان ہوں تو یہ عالمی سیاسی افق پر غالب آ سکتے ہیں۔ فلسطینی، کشمیری نسل در نسل اس طرح اسرائیلی اور بھارتی جارحیت کا ہدف نہ ہوں اور مسلمان ممالک امریکہ اور یورپ کے محتاج نہ ہوں ۔امریکہ اسرائیل کا سرپرست ہے اسے مسلمانوں کا اتحاد قبول نہیں ہے۔1963بلکہ اس سے بھی پہلے سے وہ مسلمانوں کے انقلابی رہنماؤں کے تختے الٹتا آرہا ہے۔اقبال سے بات شروع کی تھی ان کےشکوہ جواب شکوہ سے ایک شعر پر ہی ختم کرتے ہیں۔
حرم پاک بھی اللّٰہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک