پنجاب حکومت نے طلباء کیلئے الیکٹرک بائیک کی اسکیم شروع کی ہے جس میں معمولی ڈاؤن پیمنٹ اور آسان اقساط میں الیکٹرک بائیکس دی جائیں گی۔ اس حوالے سے مجھے ایک خاتون نے میسج کیا ہے جو بہت ہی اہم ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب تک پہنچنا بھی بہت ضروری ہے۔خاتون ایک نجی ادارے میں جاب کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ورکنگ لیڈیز کو بھی اس سہولت میں شامل کیا جائے کیونکہ ہم بھی چاہتی ہیں کہ ہم بسوں ویگنوں میں دھکے کھانے کی بجائے اپنی سواری پر سفر کریں اور عزت دارانہ طریقے سے جاب پر جائیں۔بالکل ٹھیک ڈیمانڈ ہے اور میں بھی اس کی حمایت کرتاہوں۔ا سٹوڈنٹس کے ساتھ ساتھ ورکنگ لیڈیز کو بھی الیکٹرک بائیک ملنی چاہیے کیونکہ یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جنہیں بعض اوقات مین روڈ تک کیلئے بس یا ویگن تو مل جاتی ہے لیکن اکثر وہاں سے اپنے آفس تک جانے کیلئے الگ سے رکشہ کروانا پڑتاہے یا پیدل ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتاہے۔مریم نوازصاحبہ کو اس اسکیم میں چھوٹاسااضافہ کرکے ورکنگ لیڈیز کو شامل کرنا ہے اور بہت سی خواتین کی دعائیں ان کے نامہ اعمال میں شامل ہوجائیں گی۔جو خواتین اپنے گھرانے کی معاشی مشکلات کم کرنے کیلئے مختلف جگہوں پر کام کر رہی ہیں وہ ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار اداکررہی ہیں لہٰذاان کو جتنی بھی سہولیات دی جائیں کم ہیں۔طلباء و طالبات کی طرح ان کیلئے بھی رعایتی سفری کارڈ کی سہولت ہونی چاہیے۔
٭ ٭ ٭
ایک بہت معروف صحافی دوست سے بات ہورہی تھی۔ان سے میرا لگ بھگ پینتیس سال پرانا یارانہ ہے۔ تب یہ ایک چھوٹے سے لوکل اخبار میں بہت قلیل تنخواہ پر کام کرتے تھے۔ سچ کہنے سے نہیں ڈرتے تھے اور متعددبار اِن پر حملے ہوئے، کیس ہوئے لیکن ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ چونکہ محنتی تھے اس لیے آگے سے آگے بڑھتے رہے۔ لوکل سے نیشنل پیپر میں آگئے، پھر ٹی وی چینلز کا دور آیا تو انہوں نے ایک چینل جوائن کرلیا۔ ترقی کرتے کرتے اینکر بھی بن گئے اور آج بھاری معاوضے پر ایک چینل سے وابستہ ہیں۔حیرت انگیز طور پر اب یہ سچ سے کافی پرہیز کرنے لگے ہیں۔کہیں کسی بات کی اصلیت بھی معلوم ہو تو گول مول کرکے نکل جاتے ہیں۔ایک دن میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ تو سچ کے بڑے علمبردار تھے پھر اب کیوں کمپرومائز ہوجاتے ہیں۔انہوں نے جواب دیاکہ”تب میرے اسٹیک اتنے ہائی نہیں تھے۔ تنخواہ اتنی قلیل تھی کہ نہ بھی ملتی تو حالات میں کوئی خاص فرق نہ پڑتا اس لیے سچ بولنا میرے لیے نقصان دہ نہیں تھا۔میرے پاس کچھ تھا ہی نہیں لہٰذا بے باکی سے سرشار تھا۔اب معاملہ کچھ اور ہے۔ اب میں جس ادارے کے ساتھ وابستہ ہوں وہ مجھے لاکھوں میں تنخواہ دیتاہے۔اس تنخواہ سے میں بجلی کا بل ادا کرتا ہوں، بچوں کی فیسیں بھرتاہوں، گھر کا نظام چلاتاہوں۔ اگر آج مجھے ادارے سے فارغ کر دیا جائے تو میں سڑک پر آجاؤں گا لہٰذا مجھے سوچ سمجھ کر بات کرنا پڑتی ہے۔اب مجھے ادارے کی پالیسی کا بھی خیال رکھنا ہوتاہے اور اپنے گھر کا بھی لہٰذا میرے سامنے آنے والا سچ بھی اِن دو مجبوریوں کی بندوق سے مارا جاتاہے۔رسک لینے کی عمر گزر جائے تو نوکری بچانے کی فکر زیادہ ہوجاتی ہے اس لیے میں جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے وہی کر رہا ہوں جو اِن حالات میں میرے لیے سروائیول کاراستہ ہے۔“
٭ ٭ ٭
کچھ لوگوں پرمون سون بڑابھاری پڑتا ہے۔ یوٹیوب پر لوگوں کوازدواجی زندگی خوشگواربنانے کے طریقے بتانیوالی ایک صاحبہ نے دوسرےشوہر سے خلع لینے کے بعد اخلاقیات کوبم سے اڑا دیا ہے۔شوہرصاحب بھی پیچھے نہیں رہے اور دونوں ایک دوسرے کو ذلیل کرکے ایک دوسرے کی آڈیوز چلا کے ثابت کر رہے ہیں کہ قصورمخالف فریق کا تھا۔ شوہرکو ذرا ایک طرف رکھیں کہ وہ تین میں نہ تیرا میں،نہ اس نے کبھی کوئی اخلاقی درس دیا نہ کوئی اُسے جانتا ہے۔لیکن خاتون توشادی شدہ زندگی کامیاب بنانے کے ایک سو ایک طریقے بتایا کرتی تھیں۔فرماتی تھیں کہ شوہر گالی بھی دے تو یہ بھی محبت ہوتی ہے۔اب خودپرآن پڑی ہے تو اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ الٹ پڑرہے ہیں۔ میں نے ان کی وڈیوز بغور دیکھی ہیں جن میں محترمہ خودہی اعلان فرما رہی ہیں کہ میں نیک،شریف، ایماندار،وفادار، سچی، مظلوم۔شوہر سے نجات حاصل کرتے ہی موصوفہ نے شوہر اور اس کی ساری فیملی پرغلیظ ترین الزامات کی بوچھاڑ کر دی تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران وہ یہ بھی کہتی رہیں کہ اگر شوہر نے اُن پر کوئی الزام لگایا تو وہ اُسے چھوڑیں گی نہیں۔یہ بھی کہا کہ میرے پاس ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں اور پھر یہ بھی کہا کہ میرے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔فرماتی ہیں کہ میرا کہا ہوا ہی ثبوت مانا جائے۔ میں حیران ہوں کہ بظاہرڈیسنٹ اورباشعورنظرآنے والی یہ بی بی کیاکررہی ہے۔پچھلے مون سون میں انہوں نے ایک سوسائٹی میں سیلاب آنے کی وجہ سے اپنا گھر ڈوبنے کا رونا رویا تھا اور جب بات کھلی کہ نہ وہ گھر ان کا اپنا ہے نہ اُس میں پانی آیا تو یہ پینترابدل گئیں اور فرمایا کہ میں عوامی خدمت کررہی تھی۔اب پھرمون سون ہے اورانہوں نے شادی کوخیر باد کہہ دیاہے۔خلع لینا ان کا حق ہے لیکن جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ تو سبھی کہتے ہیں۔ ایسے بیہودہ الزامات تو جاہل طلاق یافتہ جوڑے جگہ جگہ لگاتے نظرآتے ہیں۔کیافرق نکلا آپ میں اورعام ان پڑھ عورت میں؟