• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر گزرتا دن نئی معاشی آزمائش لے کر آتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، برآمدات میں کمی اور قرضوں کا بوجھ ہے، تو دوسری جانب ایسے فیصلے سامنے آ رہے ہیں جو معاشی استحکام کے بجائے غیر یقینی صورتحال کوبڑھا سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک فیصلہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ہے۔ اس فیصلے کے معاشی، سماجی اور کاروباری اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا ایک ایسی معیشت، جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہو، روزانہ بدلتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے؟دنیا کی مضبوط معیشتوں کی بنیاد استحکام، پیش گوئی اور اعتماد پر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار، صنعت کار، تاجر، کسان اور عام شہری اس وقت فیصلے کرتے ہیں جب انہیں آنیوالے دنوں کی معاشی سمت کا اندازہ ہو۔ اگر بنیادی ایندھن کی قیمت ہی روزانہ تبدیل ہونے لگے تو پورا معاشی نظام بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں تقریباً ہر شے کی قیمت ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات سے جڑی ہے، وہاں پٹرول اور ڈیزل کی روزانہ قیمتوں کا مطلب صرف پمپ پر نئی قیمت لگانا نہیں بلکہ پورے معاشی ڈھانچے کو روزانہ ہلا دینا ہے۔پٹرول اور ڈیزل محض گاڑیاں چلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ زراعت، صنعت، تعمیرات، تجارت، ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی ترسیل سمیت پوری معیشت کی شہ رگ ہیں۔ جب انکی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر گندم سے لے کر سبزی، دودھ، ادویات، سیمنٹ، سٹیل، کپڑا،اسکول وین، رکشہ، بس اور ٹرک تک ہر چیز پر پڑتا ہے۔ اگر یہ قیمت روزانہ بدلے گی تو کیا ہر شعبہ روزانہ اپنی قیمتیں تبدیل کرے گا؟ اگر ہاں، تو پھر مہنگائی پر قابو کیسے پایا جا سکے گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کی معاشی ساخت امریکہ، یورپ یا خلیجی ممالک جیسی مضبوط ہے؟ وہاں مارکیٹ کا نظام شفاف، مقابلہ بازی موثر، صارفین کا تحفظ مضبوط اور ادارے فعال ہیں، جبکہ پاکستان میں صورتحال اسکے برعکس ہے۔ یہاں قیمت بڑھنے کی خبر چند گھنٹوں میں بازار تک پہنچ جاتی ہے، مگر قیمت کم ہونے کا فائدہ عوام کو کئی ہفتوں بلکہ مہینوں بعد بھی نہیں ملتا۔اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو سب سے زیادہ متاثر ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہوگا۔کرائے کس بنیاد پر مقرر ہونگے؟ کیا ہر صبح نیا کرایہ نامہ جاری ہوگا؟ اگر ایک ٹرک کراچی سے لاہور مال لے کر روانہ ہوتا ہے اور راستے میں دو مرتبہ ڈیزل کی قیمت بدل جاتی ہے تو اس کی لاگت کا حساب کون کرئیگا؟ یہ غیر یقینی کیفیت کاروبار کیلئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔اگر ایندھن کی قیمت بھی روزانہ بدلے گی تو خام مال کی ترسیل، مصنوعات کی تیاری اور تیار مال کی سپلائی کی لاگت بھی مسلسل تبدیل ہوتی رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صنعت کار قیمتیں پہلے سے زیادہ رکھیں گے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچ سکیں۔ یوں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مزید غیر مسابقتی ہو جائیں گی۔تعمیراتی صنعت بھی اس فیصلےسے شدید متاثرہوگی۔اگرایندھن کی قیمت روزانہ بدلے گی تو سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری اور دیگر تعمیراتی سامان کی ترسیل کی لاگت بھی روزانہ تبدیل ہوگی، نتیجتاً سرکاری منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ، نجی شعبہ نئی سرمایہ کاری سے گریز کرئیگا۔زرعی شعبہ اس پالیسی سے شاید سب سے زیادہ متاثر ہو۔کسان اپنی فصل کی لاگت کا حساب کیسے رکھے گا؟ اسکے نتیجے میں خوراک کی قیمتوںمیں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا اور غذائی مہنگائی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔اس سے بھی بڑا مسئلہ نفسیاتی اور سماجی اثرات کا ہے۔ بازار میں افواہوں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو نئی زندگی مل جائیگی۔ تاجر ممکنہ اضافے کے خوف سے پہلے ہی قیمتیں بڑھا دیں گے، کمی آنے پر انہیں کم کرنے میں تاخیر کریں گے۔ نقصان صرف اور صرف عام صارف کا ہوگا۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر اس قسم کے فیصلے کرنیوالے کیا زمینی حقائق سے واقف ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی کسی مزدور، ریڑھی بان، رکشہ ڈرائیور، کسان یا چھوٹے دکاندار کی زندگی کا جائزہ لیا ہے؟ جو شخص اپنی روزانہ کی آمدنی سے شام کا کھانا خریدتا ہے، اس کیلئےروزانہ بدلتی ہوئی قیمتیں کسی معاشی اصلاح سے زیادہ ایک نئے امتحان کے مترادف ہوں گی۔ سرمایہ کاری کا پہلا اصول پالیسی کا استحکام ہے۔ اگر حکومت ہر روز بنیادی اخراجات کو تبدیل کرئیگی تو سرمایہ کار طویل المدت منصوبوں سے گریز کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ مقامی سرمایہ بھی محفوظ منڈیوں کا رُخ کر رہا ہے۔حکومت کے ترقیاتی منصوبے بھی اس فیصلے سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ ٹھیکیدار اضافی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ نرخ طلب کریں گے، منصوبے تاخیر کا شکار ہوں گے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑئیگا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں تنخواہیں روزانہ نہیں بڑھتیں، نہ ہی پنشن، اجرت یا کاروباری منافع روزانہ تبدیل ہوتا ہے۔ اگر آمدنی ماہانہ ہے لیکن اخراجات روزانہ بدل رہے ہوں تو معاشی توازن کیسے قائم رہے گا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہیں جن کا جواب شاید اس فیصلے کے حامیوں کے پاس بھی واضح طور پر موجود نہیں۔پاکستان اس وقت معاشی اعتماد کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مزید غیر یقینی پیدا کرنا معاشی استحکام کی راہ ہموار نہیں کرئیگابلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی کی رفتار کو مزید سست کر سکتا ہے ،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی منڈی کے اثرات سے پاکستان مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتا، لیکن معاشی اصلاحات ہمیشہ مقامی حالات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اگر کسی فیصلے سے عوامی مشکلات میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور کاروباری بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو اس پر وسیع مشاورت، پارلیمانی بحث اور ماہرینِ معاشیات کی آراحاصل کرنا ناگزیر ہے۔آج پاکستان کو روزانہ بدلتی قیمتوں کی نہیں بلکہ مستقل معاشی پالیسی، ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافے، زرعی ترقی، توانائی کے متبادل ذرائع، صنعتی بحالی اور کاروباری اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو عوام، صنعت اور سرمایہ کار تینوں کو یقین دلائیں کہ ریاست کی معاشی سمت واضح اور پائیدار ہے۔ایسی ہر پالیسی، جو غیر یقینی، مہنگائی اور بے اعتمادی میں اضافہ کرے، اس پر ازسرنو غور کیا جانا چاہئے۔

تازہ ترین