• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہا جا رہا ہے کہ اگلے دس پندرہ سال کے اندر آدھے سے زیادہ کام اے آئی سنبھال لے گی اور انسانی محنت کے کام روبوٹس سنبھال لیں گے۔ خوراک وافر مقدار میں پیدا ہوگی، خوشحالی نظر آئے گی اور لوگوں کی مصروفیات ایک دم سے ختم ہو جائیں گی لہٰذا انکے پاس وقت ہی وقت ہوگا۔ بظاہر سننے میں بڑا اچھا لگتاہے کہ انسان کام کی پریشانیوں سے آزاد ہوکر لمبی لمبی محفلیں لگائیں گے اور ایک دوسرے سے گپیں لگانے کا وقت میسر آئے گا۔ لیکن ایسا تو موبائل فون کی آمد کے وقت بھی کہا جا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے 90کی دہائی کے آخر میں ایک غیر ملکی جریدے میں آرٹیکل پڑھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ موبائل فون عام ہوگا تو سڑکوں پرٹریفک کم ہوجائے گا۔وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ چونکہ لوگوں کو ذاتی طورپر کہیں جاکر معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، رابطے کا ذریعہ صرف لینڈ لائن فون ہے اس لیے انہیں کسی سے ملنے یا بات کرنے کیلئے گھر سے نکلنا پڑتاہے لیکن جب موبائل عام ہوجائے گاتو وہ فون پر ہی بات کرلیا کرینگے اوریوں سڑکوں پر دباؤ نہیں پڑیگا۔لیکن الٹ ہوگیا۔موبائل بھی عام ہوگیا اور سڑکیں بھی بلاک ہونے لگیں۔لوگ پہلے سے زیادہ دورہوگئے۔فرض کیاکہ اوپرجوکچھ بیان کیا گیا ہے کچھ سال تک ایسا ہی ہوتاہے تو کیا واقعی انسان دوبارہ سے گھروالوں،رشتہ داروں، دوستوں یاروں سے جڑ جائیگا؟کیا واقعی اتناوقت ہوگا کہ ہم بغیر کسی پریشانی کے پاؤں پسارے گپیں لگا سکیں؟ ٹیکنالوجی کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے تو اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن فرض کیا ایسا ہوجاتاہے توہمارے پاس کرنے کو کیا ہوگا؟اس کابہترین تجربہ کرونا کے دنوں میں ہوچکا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران سب گھر میں تھے۔ سڑکیں ویران تھیں۔دفاتر کو تالے تھے۔ اعلیٰ درجے کی ہڈ حرامی میسر تھی لیکن کیا اس سے ٹوٹے ہوئے رشتے بحال ہوئے، خوشگواریت کاکوئی جھونکاآیا؟ دماغی و جسمانی سکون کا احساس ہوا؟جن لوگوں کو معاشی تحفظ حاصل تھا کیا ان کی زندگی جنت کا نمونہ بنی؟۔زیادہ آسانی زیادہ مشکلات پیدا کردیتی ہے۔انسان متحرک رہناپسندکرتاہے اورجب کرنے کو کچھ نہ ہو تو کچھ نہ کچھ کرنے کی عجیب و غریب سوچیں دماغ کو گھیر لیتی ہیں۔میرے ایک کولیگ نے کرونا کے دنوں میں سلائیوں کی مدد سے سوئیٹر بُننا سیکھ لیا تھا۔

کسی کاآئی کیو لیول چیک کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسی سے پوچھ لیں ، آئی کیوکیا ہوتا ہے۔ بیشترکایہی جواب آئے گا کہ یہ آنکھوں کی کمزوری کو کہتے ہیں۔آپ کوجابجاایسے لوگ ملیں گے جوسادہ ترین بات کا بھی عجیب و غریب مطلب نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کل ایک جگہ قلندری دال چاول کھانے کا موقع ملا۔ساتھ والی میز پر تین چار صاحبان بیٹھے تھے اور ان کی آوازیں بخوبی ہر ایک کے کانوں تک جارہی تھیں۔کسی مسئلے میں بحث ہورہی تھی کہ اتنے میں ایک صاحب مدلل انداز میں بولے’سولرپینل اتنے زیادہ لگ رہے ہیں کہ سورج کی تپش میں کمی ہوتی جارہی ہے اور شدید خطرہ پیدا ہوگیاہے کہ کہیں سورج بجھ ہی نہ جائے۔‘ میں نے بے اختیار گردن گھما کر دیکھا تو اُن کی یہ بات سن کر اُن کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے۔ ایک نے پوچھا کہ پھر کیا کرنا چاہیے؟اس سے آگے کی بات مجھے نہیں پتا کیونکہ خوش قسمتی سے میری دال چاول کی پلیٹ ختم ہوگئی تھی۔میرے ایک جاننے والے ہیں، ویلے نکمے رہنے میں ان کا دماغ بہترین ڈوپامین ریلیز کرتاہے لیکن گھر میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے روزلڑائیاں ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک نرسری پر ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ منی پلانٹ کے دس گملے خرید نے آئے ہیں۔حیرت ہوئی کہ قبلہ کو کب سے باغبانی کا شوق پیدا ہوگیا۔ رازداری سے بتانے لگے کہ جہاں منی پلانٹ کا پودا ہوتاہے وہاں دولت کی کمی نہیں ہوتی۔ان کی بات سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ ایلون مسک کے گھرمیں ہزار دو ہزار منی پلانٹ کے پودے ضرور لگے ہوں گے۔

ایک دور تھا جب ادبی رسالوں کی بھرمار تھی۔ چونکہ انٹرنیٹ نہیں تھا اس لیے ادبی رسالوں میں کسی کی تحریر کاشائع ہونا ہی شہرت کا باعث بن جاتا تھا۔ اخبار ات کے دو دو صفحات کے ادبی ایڈیشن شائع ہوتے تھے اور ادبی صفحے کا انچارج ہرشاعرادیب کی آنکھوں کا تارا ہوتا تھا۔لیکن پھر بیڑاغرق ہونا شروع ہوا۔پہلے اخبارات کا ادبی صفحہ نصف ہوا، پھر نصف سے بھی نصف اور پھر غائب ہوگیا۔ادبی رسائل بندہوگئے اورہربندے نے اپنا فیس بک پیج بنا لیا۔لیکن حیرت انگیزطور پر کچھ دیوانے آج بھی موجود ہیں جو ذاتی پیسے لگا کر نہ صرف ادبی رسائل شائع کر رہے ہیں بلکہ شاعروں ادیبوں کو اُن کے گھروں تک بلامعاوضہ بذریعہ ڈاک بھیج بھی رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام محترم عامر بن علی کا ہے۔ میاں چنوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جاپان میں ہوتے ہیں۔ لگ بھگ پچیس سال سے معروف شاعرحسن عباسی کی زیرادارت ’ارژنگ‘ کے نام سے غیرمنافع بخش ادبی رسالہ ہر ماہ تواتر سے شائع کر تے ہیں اور ساری ادبی برادری کو بھیجتے ہیں۔ کاغذ سے ٹوٹتے ہوئے ادبی رشتے کو بچانے والے عامر بھائی کیلئے ڈبل سیلوٹ کہ جوادبی برادری کی نفسیات سے واقف ہونے کے باوجوداس کارِلاحاصل کو ادب کی خدمت کے طورپرجاری رکھے ہوئے ہیں۔ویسے مجھے تو لگتاہے کہ ادب اب خدمت سے زیادہ دعاؤں کا محتاج ہوچکاہے۔عامربن علی ادب کے ڈوبتے ہوئے دل کو مسلسل سی پی آر دیے چلے جارہے ہیں کہ شائد کسی دن چمتکارہوجائے، یہ مشقت وہی کرسکتاہے جو بیمار سے بے لوث انسیت رکھتا ہو۔عامربن علی صرف ادبی رسالہ ہی شائع نہیں کرتے بلکہ خود بھی بہت اچھے شاعر،ادیب اور سفرنامہ نگار ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔اُن کا یہ شعر توآپ نے کہیں نہ کہیں ضرور سنا ہوگا کہ

حُسن اور حکومت سے کون جیت سکتاہے

یہ بتاؤ دونوں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟

تازہ ترین