• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے یاد ہے اسکول کی سخت اور خوف سے بھری لائف کے بعد جب پہلی بار کالج کاسامنا ہوا تھا تو سب لڑکے بہت خوش تھے۔ ہم نے سنا ہوا تھا کہ کالج میں ٹیچر ڈنڈے نہیں مارتے، گالیاں نہیں دیتے اور بڑا دوستانہ ماحول ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ ہمارے ایک ٹیچر کئی دفعہ ہمیں دوران لیکچر کوئی لطیفہ بھی سنا دیتے۔پوراکالج اِن ٹیچر کا فین تھا ۔ ایک دن خلاف معمول وہ بڑے سنجیدہ تھے۔کلاس میں آئے تو ایک لڑکے کو اشارہ کرکے اپنے پاس کھڑاکرلیا۔ پھر ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بولے’کیسی طبیعت ہے؟‘۔ لڑکے نے مسکرا کر کہا’اے ون سر‘۔ ساری کلاس بھی مسکرانے لگی۔ ٹیچر کی آواز بلند ہوئی’آپ سب لوگوں سے میں دوستوں کی طرح ملتاہوں لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ میں آپ کا دوست نہیں ہوں۔‘ ساری کلاس کو ایک دم سانپ سونگھ گیا۔ آواز دوبارہ گونجی ’میں بطور ٹیچر اگر آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھوں،آپ کو ہیلوینگ مین کہو ں تو یاد رہے کہ یہ کہنے کا حق صرف میرا ہے۔ آپ ایسا کبھی نہیں کہہ سکتے آپ سب کو اپنی لمٹس کا اندازہ ہونا چاہئے۔ کوئی سینئر کسی جونیئر کے سر پر ہاتھ پھیرکرپیار دے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی دن جونیئر بھی یہی حرکت فرما دے۔ ہر عمر، ہرعہدے اور ہرصنف کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔کسی کی ذرا سی مسکراہٹ یا فرینکنس سے یہ نتیجہ نہیں نکال لینا چاہئے کہ اب آپ کو بھی لنگوٹئے دوست والے حقوق حاصل ہوگئے ہیں‘۔آج اُن ٹیچر کی بات اسلئے یاد آئی کہ سوشل میڈیا پر ایک سینئر ایکٹر کے حوالے سے موضوع گرم ہے جن سے ایک جونیئر نے مذاق کیا اور زیادہ ہی کردیا۔ کوئی چیز حد سے تجاوز کی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ میں اور آپ نہیں کر سکتے اسکا حق اسی کو ہے جس کے ساتھ یہ پیش آئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے مریض کہے کہ میرے پیٹ میں درد ہے اور ڈاکٹر کہے کہ نہیں تم بالکل ٹھیک ہو۔ مریض جو کہے گا وہی مانا جائیگا کیونکہ درد کا احساس اسے ہو رہا ہے۔ تو اگرکوئی کہے کہ مجھے آپ کی بات ناگوار گزری ہے تو اسے یہ نہ ثابت کریں کہ ایسا کچھ نہیں۔

پاکستان میں معیاری فلموں اور ڈراموں کیلئے حکومت نے فنڈز دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی سطح پر ایک فلم مینجمنٹ کمیٹی بنائی گئی ہے جو منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ کے انڈرہے۔گزشتہ دنوں اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔چونکہ مجھے بھی اس میں بورڈ ممبر نامزد کیا گیا ہے اسلئے میں بھی کارروائی میں موجود تھا۔یہاں جو فلمیں فنڈنگ کیلئےشارٹ لسٹ کی گئی ہیں بظاہر ان کے آئیڈیاز بہت یونیک ہیں۔ان کے بنانے والے اس کام کا تجربہ بھی رکھتے ہیں لہٰذااُمیدکی جاسکتی ہے کہ یہ شائقین کے معیار پر پوری اتریں گی۔لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا۔ اچھی سے اچھی فلم بھی کامیابی کی گارنٹی نہیں ہوتی اور بری سے بری فلم بھی سپرہٹ ہوجاتی ہے۔میراخیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ یکدم ہی فلمیں سپرہٹ ہونا شروع ہوجائیں گی۔ یہ سلسلہ کچھ وقت مانگتا ہے۔ اگر بہترا سکرپٹ، جاندار ڈائریکشن اور نئے آئیڈیاز پر فلمیں ڈرامے بنتے رہیں تو دیکھنے والوں کو بھی مسلسل نئی چیز میسر ہوگی۔ اچھی فلم ناکام بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔اس کوشش کوجاری رکھنا چاہئے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر فلم ٹائی ٹینک جتنے بجٹ کی ہو یا لندن امریکہ میں ہی فلمائی جائے۔ فلم کا کونٹینٹ اور پیشکش اسے قابل توجہ بناتی ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسی لازوال فلمیں بنی ہیں جو تین سے چار لوکیشنز پر ہیں، چند کردار ہیں لیکن کہانی پر گرفت اتنی مضبوط ہے کہ دیکھنے والے کو ہلنے تک نہیں دیتیں۔ہمیں بہترین پروڈکشن کے ساتھ شارٹ فلمیں بھی بنانی چاہئیں۔ اس وقت کئی گورنمنٹ اورپرائیویٹ یونیورسٹیز میں فلم اینڈ ٹی وی کے شعبے قائم ہیں۔ انکے اسٹوڈنٹس کو آفردینی چاہئے کہ وہ بھی معیاری آئیڈیاز لائیں، فنڈنگ لیں اور شارٹ فلمز بنائیں۔

میں نے شاید دو ماہ پہلے کالم میں لکھا تھا کہ گرمی کو محسوس کرنے کی بجائے سردی کی آمد کو محسوس کرنا شروع کردیں تاکہ خوشی کااحساس ہوسکے۔ کل ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ واقعی اگست آگیا ہے اب تو موسم میں بھی تھوڑی تبدیلی محسوس ہونی شروع ہوگئی ہے۔ اُنکی اِس بات سے مجھے احساس ہوا کہ میں بھی پیشین گوئیاں کرسکتا ہوں اور اگر احباب حسد کا مظاہرہ نہ کریں تو مجھے کھلے دل سے عامل تسلیم کرسکتے ہیں کیونکہ اب تو میں یہ بھی بتا سکتاہوں کہ بجلی کب جائیگی۔ فی الحال آنے کا وقت نہیں بتا سکتا، اس بارے میں پریکٹس جاری ہے۔ اب دور بدل گیا ہے۔پرانے اور ان پڑھ عامل بابے کسی کام کے نہیں۔اب پڑھے لکھے عاملوں کا دور ہے جو یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک پر بھی اپنے کمالات دکھاتے ہوں۔ آج کل کا عامل ٹائی لگاتا ہے، انگریزی بولتا ہے اور ڈالرز میں فیس لیتا ہے۔

تازہ ترین