پاکستان میں اس وقت اگر سب سے قیمتی شے کی کوئی کمی ہے تو وہ امن ہے۔ امن صرف بندوقوں کے خاموش ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں شہری بلا خوف و خطر اپنی زندگی بسر کریں، بچے اسکولوں اور مدارس میں اطمینان سے تعلیم حاصل کریں، نوجوان اپنے مستقبل کے خواب دیکھ سکیں، سرمایہ کار سرمایہ لگانے میں خود کو محفوظ محسوس کریں اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھا جائے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو بدامنی، دہشت گردی، انتہاپسندی، سیاسی کشیدگی اور سماجی تقسیم جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اگرچہ ریاستی اداروں، سکیورٹی فورسز اور عوام نے بے شمار قربانیاں دے کر دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن پائیدار امن کیلئے اب بھی بہت سا سفر طے کرنا باقی ہے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، اس کا حل مذاکرات، آئین اور قانون کی بالادستی میں تلاش کیا جاتا ہے، نہ کہ تصادم اور کشیدگی میں۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد جتنا مضبوط ہوگا، امن اتنا ہی مستحکم ہوگا۔پاکستان میں بے امنی اور دہشت گردی کی کئی وجوہات رہی ہیں۔ جب کسی نوجوان کو تعلیم، روزگار، کھیل، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں ملتا تو شدت پسند عناصر اس کی محرومیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ کتاب، قلم، کھیل، تحقیق اور روزگار سے بھی کیا جاتا ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر توجہ دینا ہوگی۔ دینی مدارس پاکستان کا ایک اہم تعلیمی حصہ ہیں جہاں لاکھوں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان اداروں نے دینی تعلیم کی خدمت کی ہے، لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ ان کے انتظامی اور تعلیمی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کی ضروری مہارتوں سے بھی آشنا ہوسکیں۔ اس کا مقصد دینی تعلیم کو کمزور کرنا نہیں بلکہ طلبہ کیلئے مواقع وسیع کرنا ہے۔ مدارس کے نصاب میں کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت (AI)، پروگرامنگ، ریاضی، سائنسی تحقیق، ڈیجیٹل میڈیا، انگریزی زبان، کاروباری تعلیم، ماحولیاتی آگاہی اور شہری ذمہ داری جیسے مضامین بھی شامل کیے جائیں۔ آج کی دنیا علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کی دنیا ہے۔ اگر مدارس کے طلبہ بھی جدید علوم میں مہارت حاصل کریں گے تو وہ نہ صرف ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں گے بلکہ مذہبی اور جدید تعلیم کے درمیان موجود فاصلہ بھی کم ہوگا، اسی طرح کھیل نوجوانوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے بیشتر مدارس اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے مناسب میدان ہی موجود نہیں۔ اگر ہر بڑے مدرسے کے ساتھ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، باسکٹ بال، والی بال اور ٹیبل ٹینس کی سہولتیں فراہم کی جائیں تو طلبہ کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں نمایاں بہتری آئے گی۔ کھیل برداشت، نظم و ضبط، ٹیم ورک، قیادت اور مثبت مقابلے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں،جو ایک متوازن شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس کے درمیان صوبائی اور قومی سطح پر باقاعدہ ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں۔ ان مقابلوں میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مختلف پس منظر رکھنے والے نوجوان ایک دوسرے کو سمجھ سکیں، دوستی اور احترام کے رشتے قائم ہوں اور معاشرتی فاصلے کم ہوں۔یقیناً انہی میدانوں سے مستقبل کے قومی اور بین الاقوامی ہیروز سامنے آئیں گے جو پاکستان کا نام روشن کریں گے۔پاکستان میں بے شمار باصلاحیت نوجوان مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ حکومت، نجی شعبے اور فلاحی اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں، نوجوان سائنس دانوں، محققین اور اختراع کاروں کی مالی معاونت کریں تاکہ صلاحیت غربت کی نذر نہ ہو۔ اسی طرح قومی یک جہتی کیلئے بین الصوبائی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ مدارس کے طلبہ کے تعلیمی دورے مختلف جامعات، تحقیقی مراکز، ٹیکنالوجی پارکس اور صنعتی اداروں تک ہونے چاہئیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو بھی مدارس کے مطالعاتی دورے کرائے جائیں تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں کم ہوں۔ مکالمہ فاصلے کم کرتا ہے، جبکہ تنہائی شکوک کو جنم دیتی ہے۔قومی سطح پر تقریری مقابلے، مباحثے، مضمون نویسی، سائنسی نمائشیں، روبوٹکس مقابلے، مصنوعی ذہانت کے مقابلے، قرآن فہمی، سیرت النبیﷺ، آئین پاکستان، انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ، قومی یک جہتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی خدمت جیسے موضوعات پر مشترکہ پروگرام منعقد کئے جائیں جن میں مدارس، کالجز، یونیورسٹیاں اور دیگر تعلیمی ادارے برابر کی نمائندگی کریں۔ جب نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں گے تو نفرت کی جگہ احترام اور تعصب کی جگہ مکالمہ جنم لے گا۔اگر مدارس کے طلبہ کو AI، کوڈنگ، سائبر سکیورٹی، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فری لانسنگ کی تربیت دی جائے تو وہ عالمی معیشت کا فعال حصہ بن سکتے ہیں۔ مدارس میں باقاعدہ طبی معائنہ، نفسیاتی رہنمائی، کھیلوں کی میڈیکل سپورٹ، متوازن غذا اور ذہنی صحت سے متعلق پروگرام شروع کئے جائیں۔ امن صرف حکومت یا سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مذہبی رہنمائوں کا کردارسب سے اہم ہے۔ مساجد اور مدارس میں رواداری، برداشت، اخلاق، قانون کی پاسداری، اختلافِ رائے کے آداب اور قومی وحدت پر زیادہ توجہ دی جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ قومی سطح پر ایک جامع ’’امن، تعلیم اور نوجوان ترقی پالیسی‘‘ تشکیل دے جس میں مدارس، سکولوں، کالجوں، جامعات، کھیلوں کے اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو شریک کیا جائے۔ ہر ضلع، تحصیل، مرکزی گاؤں خصوصاً دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں یوتھا سپورٹس کمپلیکس، ٹیکنالوجی لیب، لائبریری، ڈیجیٹل لرننگ سینٹرز اور کمیونٹی ڈائیلاگ فورم قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع میسر آئیں۔ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ نفرت نہیں بلکہ تعلیم کرے گی، بندوق نہیں قلم کرے گا، تقسیم نہیں اتحاد کرے گا۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو علم، کھیل، تحقیق، ٹیکنالوجی، مکالمے اور مساوی مواقع فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی خود بخود کمزور پڑ جائیگی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف امن کی خواہش نہ کریں بلکہ امن کی بنیادیں بھی مضبوط کریں۔ تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں امن، ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف بڑھ سکے گا۔