پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کے رہائشی میر رضا علی کے والد میر حسین کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے پر قرض تھا تو پورے ملک پر بھی قرض ہے۔
سٹی کورٹ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر حسین نے کہا ہے کہ پولیس کی اب تک کی تفتیش اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، رپورٹ سے اندازہ کر رہے ہیں کیا تفتیش ہو رہی ہے، کبھی مالی مسائل کی بات کرتے ہیں کبھی کچھ اور۔
میر رضا علی کے والد نے کہا ہے کہ ہم قتل کی بات کر رہے ہیں مگر تفتیش کچھ اور ہو رہی ہے، پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر کیوں غائب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہپولیس نے ابھی تک ہمارا بیان ریکارڈ نہیں کیا ہے، پولیس ہم سے کچھ اور بات کرتی ہے باہر کچھ اور، میڈیا پر خبر چلنے کے بعد پولیس سے رپورٹ مانگی تو ملی، ہم پہلے ہی تکلیف میں ہیں ہمیں انصاف چاہیے۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل میر رضا علی خان کے والد نے میڈیکل رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
’جیو نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا علی کے والد حسین رضا کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو قتل کیا گیا جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ بیٹے کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا، اسے پیچھے سے گولی ماری گئی، میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے؟ میڈیکل رپورٹ میں تشدد کا کیوں نہیں بتایا گیا؟
واضح رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔