• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی قوم کی فلاح و بہبود اس کے عوام کی صحت، توانائی اور زندگی کی حرارت سے گہرا ربط رکھتی ہے، اور اس تعلق کے مرکز ميں کھیلوں کا کردار موجود ہے۔ کھیل محض تفريح يا دل بہلانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی، سماجی ہم آہنگی اور قومی فخر کیلئے ايک طاقت ور محرک ہیں۔ جو قوم جامع ترقی اور پائیدار نشوونما کی خواہش رکھتی ہے، اس کیلئے اس بنیادی تعلق کو سمجھنا اور اس میں سرمایہ کاری کرنا ناگزیر ہے۔یہ سبق پاکستان کیلئے شاید سب سے زیادہ معنی خیز ہے۔ ایک ایسا ملک جو صرف تین سے چار دہائیاں پہلے عالمی کھیلوں میں صفِ اول کی اقوام ميں شمار ہوتا تھا، آج بڑی حد تک اسی عظمت رفتہ کی یاد پر زندہ ہے۔ يہ سمجھنے کیلئے کہ ہم نے کيا کھویا اور کیا دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کامیاب قومیں کھیلوں میں اتنی بھاری سرمایہ کاری کیوں کرتی ہیں، پھر پاکستان کے عروج و زوال کے سفر کو دیکھنا ہوگا، اور آخر میں بحالی کا ايک حقیقت پسندانہ راستہ متعین کرنا ہوگا۔ کھیل ایک ہی وقت میں قوم کی کئی سطحوں پر خدمت کرتے ہیں۔ يہ جسمانی صحت کا فطری ذریعہ ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب بیٹھے رہنے کا طرزِ زندگی عام ہو رہا ہے اور بیماریوں ميں اضافہ ہو رہا ہے، باقاعدہ جسمانی سرگرمی موٹاپے، دل کے امراض اور ذیابیطس کو کم کرتی اور پيداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی طرح کھیل ذہنی پختگی وتوانائی کی بھی بنیاد ہیں، کيونکہ نظم و ضبط، ٹيم ورک، ہدف مقرر کرنے اور ثابت قدمی کا جو تقاضا کھیل کرتے ہیں، اس سےاعتماد پيدا ہوتا اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے،خاص طور پر نوجوانوں کو جذبات کے اظہار کا ايک مثبت راستہ ملتا ہیں۔کھیل سماجی ڈھانچے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ يہ نسلی، معاشی اور ثقافتی رکاوٹوں سے اوپر اٹھ کر مختلف طبقات کو ایک مشترکہ جذبے کے تحت یکجا کرتے ہیں، جبکہ قومی اور بین الاقوامی مقابلے فخر اور وابستگی کے احساس کو روشن کرتے ہیں۔ آخرکار کھیلوں کا شعبہ کوچنگ، اسپورٹس میڈیسن، ایونٹ مینجمنٹ اور ميڈیا کے وسیع نظام کے ذریعے معاشی سرگرمی، روزگار، سياحت اور انفراسٹرکچر کو بھی حرکت دیتا ہے۔ یوں یہ فوائد مل کر کھیل کو قومی ترقی کا ايک حقیقی آلہ بناتے ہیں، نہ کہ محض ايک ضمنی مشغلہ۔دنیا میں کھیلوں کی بڑی طاقتیں اتفاقاً اس مقام تک نہیں پہنچیں، اور جو ثمرات انہوں نے حاصل کئے وہ تمغوں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

امریکا، چین، جاپان، روس، جرمنی، آسٹریلیا اور دیگر ممالک نے ایتھلیٹک برتری کے منظم نظام قائم کئے، اور اس عمل میں اپنی عالمی ساکھ، قومی فخر، نوجوانوں کی تربیت، عوامی صحت، سماجی نظم، بین الاقوامی شناخت، معاشی مواقع اور نرم طاقت کو مضبوط کیا۔مختلف معاشروں ميں کھیلوں پر مسلسل سرمایہ کاری نے قومی شناخت، عالمی اثر و رسوخ اور سماجی ترقی کو تقویت دی ہے۔ امریکا اسکول، کالج اور سائنسی بنیادوں پر کھیلوں کو فٹنس کلچر کے ساتھ جوڑتا ہے، جس سے اولمپک برتری اور عالمی برانڈ طاقت کو سہارا ملتا ہے۔ چین نے منظم اکيڈمیاں اور ٹیلنٹ پائپ لائنز بنا کر خود کو کھیلوں کی طاقت میں بدل دیا، جو اسکے وسیع تر عروج کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جاپان، روس، جرمنی، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا بھی یہ دکھاتے ہیں کہ کھیل کس طرح نظم، اتحاد، فخر، اجتماعی شرکت اور قومی پیش رفت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ہر مثال میں کھیلوں کی کاميابی بہتر صحت، متحرک نوجوانوں، سماجی ہم آہنگی، ادارہ جاتی نظم اور قومی اعتماد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ مختصر يہ کہ کھیل ایک ایسا قومی منافع دیتے ہيں جو نسل در نسل بڑھتا چلا جاتا ہے۔تین سے چار دہائیاں پہلے پاکستان اس کہانی کا محض تماشائی نہیں تھا بلکہ اس کے مرکزی کرداروں میں شامل تھا۔ ہم عالمی ميدان میں خاموش اعتماد کے ساتھ اترتے تھے اور تمغے، ٹرافیاں اور عزت لے کر واپس آتے تھے۔ پاکستان نے اپنے حجم سے کہیں بڑھ کر کئی کھیلوں ميں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔پاکستان نے ایک زمانے ميں ہاکی، اسکواش، کرکٹ، اسنوکر، باکسنگ، ريسلنگ اور ايتھليٹکس ميں عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہاکی اور اسکواش ميں بڑے عالمی اعزازات جیتے، کرکٹ ميں 1992ء کے ورلڈ کپ کے ذریعے تاریخی کامیابی حاصل کی اور جہانگیر خان، جان شیر خان، بھولو پہلوان، عبدالخالق اور دین محمد جیسے عظیم کھلاڑی پيدا کئے۔لیکن يہ قابلِ فخر ورثہ کمزور ادارہ جاتی سرپرستی، کھلاڑیوں کی فلاح کے فقدان، محدود پنشنز اور سابق چيمپئنز کو نظرانداز کرنے کے باعث ماند پڑ گيا۔ دین محمد کا غربت میں انتقال اس قومی ناکامی کی ایک دردناک مثال ہے۔ پاکستان کو اپنے ہیروز کو صرف فتح کے دنوں میں ہی نہیں سراہنا چاہئے،انہیں ان کےبڑھاپے یا مشکل وقت ميںبھی یاد رکھنا چاہئے۔آج صورتحال کا فرق نہایت تکلیف دہ ہے۔ کبھی عظیم سمجھے جانے والے ادارے بکھر چکے ہیں۔ہاکی اپنے سابقہ وجود کا محض سایہ رہ گئی ہے، اسکواش کورٹس ویران ہیں اور ان عظیم کھلاڑیوں کا متبادل پيدا کرنےکیلئے کوئی قومی نظام موجود نہیں، باکسنگ اور ريسلنگ عوامی یادداشت سے تقريباً غائب ہو چکے ہیں اور کرکٹ بھی افراتفری اور اوسط درجے کی کارکردگی کے درميان جھولتی رہتی ہے۔ علاقائی اور عالمی پوڈيمز پر پاکستان کی موجودگی تیزی سے کم ہوئی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان اب تقریباً صرف کرکٹ کے ساتھ رہ گیا ہے جو عوامی توجہ کا واحد بڑا کھیل ہے، جبکہ تقريباً ہر دوسرا شعبہ شدید زوال کا شکار ہو چکا ہے۔يہ زوال تنہا نہیں آیا۔ جیسے جیسے کھیل کمزور ہوئے، ویسے ہی وہ چیزیں بھی کمزور ہوئیں جنہیں کھیل کبھی توانائی دیتے تھے۔ اس کمی کا عکس ایک کم اعتماد قومی ذہنیت، بگڑتی جسمانی صحت، بے سمت نوجوانوں، کمزور ہوتے ادارہ جاتی نظم اور محدود ہوتی بین الاقوامی ساکھ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں ميں کھیلوں کی ثقافت کا انہدام وسیع تر قومی مشکلات کی علامت بھی ہے اور ان کا سبب بھی۔بحالی کا آغاز وہیں سے ہونا چاہئے جہاں چیمپئن بنتے ہیںیعنی اسکولوں، کالجوں، جامعات اور بڑے اداروں سے۔ کھیل کو ثانوی سرگرمی کے بجائے قومی ترقی کی ترجیح سمجھا جانا چاہئے اور اسے تعلیم اور عوامی پالیسی دونوں میں شامل کیا جانا چاہئے۔ پاکستان کو کھیلوں پر سنجيدگی سے اور بلا تاخیر از سرِ غور کرنا ہوگا، کیونکہ کھیلوں کی طاقت اور قومی فلاح و بہبود ساتھ ساتھ اٹھتے اور گرتے ہیں۔ یہ زوال ناقابلِ واپسی نہیں ہے۔ جب معیشت سنبھل رہی ہے اور قومی مزاج بہتر ہو رہا ہے تو عمل کا وقت یہی ہے۔ کلاس رومز اور کيمپسز سے شروع ہونے والی منظم سرمایہ کاری، طویل المدت منصوبہ بندی، اور کھیل کو مشغلے کے بجائے قومی ترقی کے ستون کے طور پر اختیار کرنے سے پاکستان ایک بار پھر صحت مند، پُراعتماد، منظم اور باوقار ملک بن سکتا ہے۔

تازہ ترین