پاکستان کی سیاسی تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں اچانک نہیں آتیں، ان سے پہلے ماحول بنتا ہے، بیانات آتے ہیں، سیاسی درجہ حرارت بڑھتاہے، انتخابی مہمات کا لہجہ بدل جاتاہے اور طاقت کے مراکزکے گرد غیرمعمولی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔اسی لئے ذہن میں پہلا سوال یہی پیدا ہوتاہے کہ اگر واقعی ”نظام“خطرے میں ہے تو خطرہ کس سے ہے؟ کیا وزیر داخلہ محسن نقوی کا زیر بحث یہ پیغام،بعدازاں وضاحت صرف شہباز شریف حکومت کیلئے تھی؟ اگر وزیراعظم شہباز شریف ریاستی معاملات کو آگے بڑھانے اور اتحادی حکومت کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر اصل سوال یہ بنتا ہے کہ نظام کے راستے میں رکاوٹ کون ہے؟سیاست میں بعض اوقات اصل پیغام الفاظ میں نہیں بلکہ الفاظ کے درمیان چھپا ہوتا ہے۔ سمجھ دار کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اسی لئے اس بیان کو صرف حکومت کے خلاف یا حکومت کے حق میں دیا گیا بیان سمجھنا شاید اس کی محدود تشریح ہوگی۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات نے بھی کئی سوالات چھوڑے ہیں۔انتخابی جلسوںمیںجو لہجہ اختیار کیا گیا، جس شدت سے ایک دوسرے کو مخاطب کیا گیا اور جس انداز میں سیاسی صف بندیاں سامنے آئیں، وہ معمول کی انتخابی سیاست سے کچھ مختلف محسوس ہوئیں۔پاکستان کی سیاست میں جب بھی کوئی بڑی تبدیلی آئی، اس سے پہلے سیاسی موسم بدلا۔ کبھی بیانات نے راستہ بنایا، کبھی اتحاد ٹوٹے، کبھی نئے اتحاد وجود میں آئے اور کبھی ایسی شخصیات آمنے سامنے آگئیں جن کے بارے میںایساتصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اسی لئے آج کے حالات کو محض روزمرہ کی سیاست سمجھ کر نظر انداز کرنا شاید درست نہیں ہوگا۔اگر واقعی سیاسی ہوائیں رُخ بدل رہی ہیں تو پھر ہر سیاسی جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آندھی کسی ایک دروازے پر نہیں رُکتی۔ جب کوئی سیاسی طوفان آتا ہے تو وہ حکومت اور اپوزیشن میں فرق نہیں کرتا۔ اگر نظام کمزور ہوگا تو اسکی زد میں سب آئیں گے۔ حکومت بھی، اپوزیشن بھی، سیاست بھی اور معیشت بھی۔آج بلاول بھٹو وکٹ سے باہر کھیل کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، جبکہ حکومتی حلقے اپنی سیاسی پوزیشن کو پہلےسے زیادہ مضبوط قرار دے رہے ہیں۔پاکستانی سیاست کا تجربہ مگر یہ بتاتا ہے کہ یہاں آخری منظر اکثر وہ نہیں ہوتا جسکا آغاز میں اندازہ لگایا جا رہا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اتنے اہم منصب پر بیٹھا ہوا شخص ”نظام“ کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہا ہے تو اس تشویش کے پس منظر پر سنجیدہ بحث ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیان کی کئی تشریحات کی جا رہی ہیں۔ کوئی اسے حکومت کیلئے انتباہی نوٹس قرار دے رہا ہے، کوئی اسے سیاسی قوتوںکیلئے پیغام سمجھ رہا ہے، جبکہ کچھ مبصرین کے نزدیک یہ اس بے چینی کا اظہار ہے جو اس وقت ملک کے سیاسی ماحول میں محسوس کی جا رہی ہے۔پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجوں سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جب ملک بحران اور سیاسی تقسیم کا شکار ہو، تو نظام جیسے لفظ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا نظام ہے جسکے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ’’گر چکا ہے؟‘‘ کیا اس سے مراد صرف حکومت ہے؟ یا پورا سیاسی ڈھانچہ؟ یا پھر ریاستی نظم و نسق؟سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں حکومتیں آتی اور جاتی رہی ہیں، لیکن ریاستی نظام ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھتا رہا ۔ اس لئے کسی بھی بیان کی تشریح احتیاط سے ہونی چاہئے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب حکومت کا ایک مرکزی اور طاقت ور ترین وزیر ایسے الفاظ استعمال کررہاہو تو اس کے اثرات دور تک جاتے ہیں اور سیاسی حلقے اپنے اپنے زاویے سے ان کا مطلب نکالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف ایک جماعت یا ایک شخصیت سے وابستہ نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی کمزوری، ناقص پالیسی سازی اور باہمی عدم اعتماد کا نتیجہ ہیں۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات بھی انہی سیاسی مباحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح نئی نہروں، ڈیموں، صوبائی حقوق اور وسائل کی تقسیم جیسے معاملات بھی قومی سیاست کا اہم حصہ ہیں۔ یہ اختلافات نئے نہیں، لیکن ان کا حل صرف آئین، پارلیمنٹ اور بین الصوبائی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے آزادکشمیر کی انتخابی مہم کے دوران دعویٰ کیا کہ شہباز حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اسی طرح دیگر جماعتوں نے بھی اپنے اپنے بیانیے پیش کیے۔ یہ سب جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی، نقصان صرف جمہوریت اور ریاست کا ہوا۔ اقتدار مستقل کسی کے پاس نہیں رہتا، لیکن ریاست مستقل رہتی ہے۔ اسی لئے سیاسی قیادت کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وقتی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایسا ماحول پیدا نہ کرے جس سے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر ہو۔آج اگر عوام میں بے چینی ہے تو اس کی بڑی وجہ معاشی مشکلات ہیں۔ نوجوان روزگار، کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ ، صنعت کار پالیسیوں میں تسلسل اور عام شہری امن، انصاف اور بنیادی سہولتوں کا خواہاں ہے۔ عوام کی نظر میں یہی اصل نظام ہے۔ اگر ان کی زندگی بہتر نہیں ہوتی تو وہ کسی بھی سیاسی نعرے سے مطمئن نہیں ہوں گے۔محسن نقوی کے بیان کو اگر ایک سیاسی تنبیہ سمجھا جائے تو شاید اس کا مثبت پہلو یہی ہو سکتا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اپنے رویوں پر نظرثانی کریں ورنہ نقصان پورے سسٹم کا ہوگا۔