• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی مضبوط بنیاد تین بنیادی شعبوں تعلیم، صحت اور زراعت پر استوار ہوتی ہے۔ یہی وہ ستون ہیں جو نہ صرف قوموں کی تعمیر کرتے ہیں بلکہ معیشت، سماجی ترقی اور عوامی خوشحالی کا ضامن بھی ہوتے ہیں۔ افسوس کہ قیامِ پاکستان سے آج تک ان تینوں شعبوں کیلئے نہ تو کوئی مستقل اور مربوط پالیسی تشکیل دی جا سکی اور نہ ہی انکی ترقی کو قومی ترجیحات میں وہ مقام دیا گیا جسکے یہ حقیقی طور پر مستحق تھے۔ اکثر ایسے افراد کو فیصلہ سازی کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جن کے پاس نہ ان شعبوں کا مطلوبہ تجربہ تھا اور نہ ہی ترقی کا واضح وژن ۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا چار فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ صحت پر خرچ کرتے ہیں جبکہ تعلیم اور زراعت کے شعبوں کو بھی خصوصی مراعات اور حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں صحت اور تعلیم کا بجٹ مسلسل کم ہوتے ہوتے ایک فیصد سے بھی نیچے آ پہنچا ہے۔ ایک طرف مراعات یافتہ طبقے کو بے شمار سہولتیں فراہم کی جاتی ہیںجبکہ دوسری جانب عام شہریوں کیلئے بنیادی سہولتوں کا حصول بھی روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔حال ہی میں پنجاب حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے طبی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔ اس فیصلے کے تحت 44 مختلف شعبوں میں سیکنڈ ایف سی پی ایس یعنی لیولIV کی ٹریننگ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں بند کر دی گئی ہے جو درحقیقت پاکستان میںجدید ترین طبی تعلیم حاصل کرنے والوں کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ یہ ٹریننگ پچھلے6 سال سے جاری تھی اور تقریبا 2081 ڈاکٹرز سیکنڈ FCPS کرچکے ہیں اور اس وقت پاکستان بھر سے1843 اس کی ٹریننگ لے رہے ہیں۔کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان ایک قومی ادارہ ہے جس کا قیام 1962ء میں کراچی میں ایک باقاعدہ ایکٹ کے تحت عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام میں اُس وقت کے وفاقی وزیرِ صحت جنرل واجد علی برکی کا نمایاں کردار تھا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ پاکستانی ڈاکٹر جو بیرونِ ملک جا کر جدید تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں اپنے ہی وطن میں عالمی معیار کی پوسٹ گریجویٹ تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک ماہر ڈاکٹرز کی خدمات پہنچ سکیں۔اس ادارے سے آج تک 40فیلوز (FCPS ) اورتقریبا 12 ہزار ممبر (MCPS ) کو ڈگری دی جاچکی ہے ۔ یہ پاکستان کا وہ ادارہ ہے جہاں اس وقت 42 ہزار کے قریب ڈاکٹر ز پوسٹ گریجویٹ کے تقریباً 94 مختلف شعبوں میںتربیت حاصل کررہے ہیں۔یہ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جاکر نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کو بہترین طبی سہولیات فراہم کررہے ہیں بلکہ دنیا بھرمیں روزگار حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کرنے کے ساتھ کثیر زر مبادلہ بھیج کر ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔اس کے تقریباََ 7000 کے قریب سپروائزر ہیں، یہ ادارہ قومی تشخص بنانے میں بھی بڑا کردار ادا کررہا ہے کیونکہ تمام سرکاری ، نیم سرکاری ، پرائیویٹ اور فوجی میڈیکل ادارے اس سے منسلک ہیں ۔اس کے پاکستان میں 16 ریجنل سنٹرز کراچی ، لاہور ، اسلام آباد،راولپنڈی ، کوئٹہ ، پشاور ، ایبٹ آباد ، لورا لائی ، گلگت ، مظفر آباد ، میر پور ، لاڑکانہ، تربت، ڈیرہ اسماعیل خان، ملتان اور بہاولپور میں اسپیشلسٹ تیار کررہے ہیں۔یہ وہ ادارہ ہے جس سے آسٹریلیا، برطانیہ ، آئر لینڈ ، گلف ممالک، سعودی عرب، نیپال، بنگلہ دیش ، نیوزی لینڈ اور جرمنی کے میڈیکل ادارے وابستہ ہیں اس ادارے سے جنرل ضیاء الحق ،بے نظیر بھٹو، جنرل راحیل شریف اور پرنس کریم آغا خان جیسے لوگوں کو اعزازی ڈگری دی گئی۔ پچھلے دنوں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیر اعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی میں FCPS کی اعزازی ڈگری دی گئی جسکی وجہ سے پاکستان کو دنیا بھر میں شہرت اور عزت ملی ۔پنجاب حکومت نے بیک جنبش قلم سیکنڈ FCPS کی تربیت کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس فیصلے سے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں جدید اور اعلیٰ درجے کی طبی سہولتوں کے فروغ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کس سوچ اور کس کے مشورے کے تحت ایسا فیصلہ کیا گیا جبکہ ہمارے حکمران خود علاج کیلئے بیرونِ ملک جدید ترین طبی مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کا سب سے معتبر طبی ادارہ اعلیٰ معیار کے اسپیشلسٹ تیار کرنا چاہتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔بدقسمتی سے ملک میں ڈاکٹروں کے لیے ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جہاں میرٹ کی بجائے سفارش اور مالی اثرورسوخ کو اہمیت ملتی ہے۔ مسلسل غیر یقینی پالیسیوں اور سختیوں نے نوجوان ڈاکٹرز کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر دیا ہے جہاں انہیں بہتر مواقع، عزت اور پیشہ ورانہ ترقی میسر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج برین گین کے بجائے برین ڈرین کا شکار ہے۔ تاہم سی پی ایس پی ان چند اداروں میں شامل ہے جو اس رجحان کو کم کرنے اور باصلاحیت افراد کو ملک میں ہی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسے ادارے قومی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی سرپرستی اور مضبوطی دراصل عوام کی فلاح، بہتر علاج اور مستقبل کی مضبوط صحتِ عامہ میں سرمایہ کاری ہے۔ ایسی تمام پالیسیوں کو ختم کرنا چاہئے جو طبی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں تاکہ ملک بہترین اور عالمی معیار کے ڈاکٹر پیدا کر سکے۔ میں نے اپنے دورِ وزارت میں پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً 88 ڈاکٹرز کو پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع فراہم کیے گئے مگر افسوس کہ بعد میں یہ منصوبہ بھی بند ہو گیااور چھوٹے شہروں کو بھی بہترین طبی سہولیات سے محروم کردیاگیا۔

تازہ ترین