انزلہ صدیقی
گرچہ دَورِ جدید میں ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت اور ناگزیریت سے کسی طور مفر ممکن نہیں لیکن جب کوئی ایجاد سہولت کے دائرے سے تجاوز کرکے انسانی زندگی پراس طرح غالب آجائے کہ رشتوں کا تقدّس، خلوص اور سماجی توازن بھی نگلنے لگے، تو نتیجتاً سماجی المیہ جنم لیتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، چند سال قبل ایک تمثیلی اشتہار کافی مقبول ہوا تھا، جس میں ڈیجیٹل آلات کو لوگوں کو اپنوں سے دُور کرتے دکھایا گیا تھا۔
افسوس، صد افسوس کہ آج وہی اشتہار، جو اُس وقت بظاہرایک فسانہ معلوم ہورہا تھا، ایک تلخ، جگرسوز اور بھیانک معاشرتی حقیقت بن چُکا ہے اور ہم ایک ایسے ’’عہدِ بےحسی‘‘ میں جی رہے ہیں کہ جہاں ظاہری رابطے تو مضبوط ترین سطح پر پہنچ چُکے ہیں مگر دِلوں کے درمیان فاصلے صدیوں پر محیط ہوگئے ہیں۔
ہر چند کہ اس ’’ڈیجیٹل انقلاب‘‘ نے ہمارا رہن سہن خاصا بہتر کردیا، لیکن اس کے بدلے ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت سے دُوری کی بہت سخت قیمت بھی چُکانی پڑی ہے۔ ہم نے مادی ترقّی کو توگلے لگالیا، مگراس خوش حالی کے پیچھے چُھپی رُوح کی تنہائی محسوس کرنے سے قاصر رہے۔ آج رشتوں کی وہ چاشنی، جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتی تھی، وائی فائی کے سگنلز ہی میں کہیں کھو گئی ہے اور ہم ایک ایسے ہجوم میں تنہا کھڑے ہیں کہ جہاں ہر فرد مصروف ہے۔ کسی کے پاس، کسی کے لیے کوئی وقت نہیں۔
دسترخوان کا نوحہ اور رشتوں کا قحط:خُوب صُورت مشرقی روایت کے مطابق رات کے کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا جا رہا تھا۔ تمام اہلِ خانہ کو محبّت بَھری آوازیں دے کران کےکمروں سے لاؤنج میں مدعو کیا گیا۔ سب اپنے اپنے ٹھکانوں سے برآمد تو ہوئے مگر ہر ایک کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون کی بےجان اسکرین نے اُس کی توجّہ یرغمال بنا رکھی تھی۔
لذیذ کھانوں کی اشتہا انگیز خوش بُو پورے ماحول میں رچی بسی تھی لیکن طعام کی میز پر بھیانک خاموشی کا راج تھا۔ خاندان کا ہر فرد سَرجُھکائے بیٹھا تھا اور آپس میں دن بَھر کا احوال بانٹنے، سُکھ دُکھ شیئر کرنے یا ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے کی بجائے سب کی انگلیاں موبائل فون کی اسکرین پر حرکت کر رہی تھی۔
کسی نے ایئرپوڈز لگا کر خُود کو گردوپیش سے لا تعلق کر رکھا تھا، تو کوئی نیلی روشنی اُگلتی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اور ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے افراد ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی تھے۔ اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہزاروں، لاکھوں میل دُور بیٹھے ’’ورچوئل یا مجازی شناساؤں‘‘ کو تو ہمارے لاؤنجز میں لاکھڑا کیا ہے لیکن سچے، مخلص رشتوں کی قدر واہمیت ختم کردی ہے۔
وہ گھر، جہاں کبھی شام ڈھلے قہقہے گونجتے تھے، اب صرف نوٹیفکیشنز کی بِیپ سُنائی دیتی ہے۔ وائی فائی کے سگنلز تو دن بہ دن طاقت ور ہوتے جا رہے ہیں لیکن دِلوں کے رابطےدَم توڑ رہے ہیں۔ اب دسترخوان صرف پیٹ بَھرنے کی جگہ بن کررہ گیا ہے، جہاں وجود تو اکٹھے ہوتے ہیں مگر رُوحیں اپنے اپنے ڈیجیٹل جزیروں میں بھٹک رہی ہوتی ہیں اور یہ سرد مہری کسی بھی معاشرے کی فکری موت کا پیش خیمہ ہے۔
’’فبنگ‘‘ : فریبِ نظر، ایک خاموش وبائی مرض: جدید نفسیات، عُمرانیات اور انسانی رویّوں پر تحقیق کرنے والے عالمی ماہرین نے اس رویّے کو ایک باقاعدہ ذہنی و سماجی بیماری قرار دیا ہے، جسے علمی اصطلاح میں ’’فبنگ‘‘ (Phubbing) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ’’فون‘‘ اور ’’اسنبنگ‘‘ (دانستہ نظرانداز کرنے) کا مجموعہ ہے۔
اس سے مُراد ایسا بدترین سماجی رویّہ ہے، جس میں آپ کے سامنے آپ کی بوڑھی ماں، مخلص ترین دوست، بھائی یا کوئی بھی جیتاجاگتا انسان گفتگو کی امید لیے بیٹھا ہو، آپ اُس کا وجود پسِ پُشت ڈال کر ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون کی اسکرین ہی کو ترجیح دیں۔ یہ عمل درحقیقت سامنے بیٹھے شخص کے جذبات و احساسات کی ایک ایسی خاموش تذلیل ہے کہ جو ہمارے معاشرے میں معمول بنتی جارہی ہے۔
ہم سوشل میڈیا پر میلوں دُور بیٹھے کسی اَن جان شخص کی عام سی پوسٹ پر لمحوں میں لائیکس اورکمنٹس کی برسات کردیتے ہیں مگر اپنے پاس بیٹھے معمروالد کے چہرے پرتحریر تھکن اور تنہائی کی داستان پڑھنے سے قاصر ہیں۔ ’’فبنگ‘‘ کا یہ مرض رشتوں کے درمیان ایسی دُوریاں جنم دے رہا ہے کہ جنہیں پاٹنا ممکن نہیں ہوگا اور یہی وہ نقطہ ہے کہ جہاں سے خاندان کی اکائی بکھرنا شروع ہوتی ہے اور بدگمانیاں، گھریلو جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ یاد رہے، جب انسان کو اپنوں سے توجّہ نہیں ملتی، تو وہ احساسِ بیگانگی کا شکار ہو کر اسکرین میں پناہ لینے پرمجبور ہوجاتا ہے۔
روشن رُخ : ضرورت، افادیت اور اعتدال: ہم اس صورتِ حال کا ذمّے دار ٹیکنالوجی کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ ڈیجیٹل میڈیا بذاتِ خود ایک نعمت ہے، جس نے علم اور روزگار کے نئے در وا کیے اور مِیلوں کی دُوریاں سمیٹیں۔ اصل مسئلہ ایجاد نہیں، اس کا منفی یا بےجا استعمال ہے۔
ہم نے اسکرین کو اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقّی کا زینہ بنانے کی بجائے اپنا آقا و حاکم بنا لیا ہےاور اعتدال کا دامن توجب بھی ہاتھ سے چُھوٹتا ہے، لازمی نتیجہ بگاڑ کی صُورت برآمد ہوتا ہے۔ چناں چہ خرابی اسکرین میں نہیں، ہمارے اُس رویّے میں ہے کہ جو ہمیں ضرورت اور لَت کے مابین فرق نہیں کرنے دے رہا۔
ایموشنز پرایموجیز کو ترجیح: آج ایک ہی چاردیواری کے اندر رہنے والے رشتوں کے مابین حقیقی مکالمے کی جگہ واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام اسٹوریز اور فیس بُک پوسٹس نے لے لی ہے۔ جذبات و احساسات کا اظہار الفاظ کی چاشنی، لہجوں کی نرمی کی بجائے بےجان ایموجیز کا محتاج ہو کے رہ گیا ہے۔
گھر کے بزرگ، جنہیں اپنی زندگی کےآخری مرحلے میں اپنوں کی قُربت، توجّہ اور چند میٹھے بولوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، گھر کے ایک کونے میں بیٹھے، اسکرینز میں گُم اپنی اولاد کو حسرت بَھری نگاہوں سے تکتے رہتے ہیں۔
وہ اپنے ماضی کی یادیں،تجربات شیئر کرنا چاہتے ہیں، مگر کسی کے پاس اُن کی بات سُننے کے لیے وقت ہی نہیں۔ یہ خاموشی اور دُوری رشتوں کو کھوکھلا کر کے معاشرے کو نفسیاتی مریضوں کی آماج گاہ بنا رہی ہے۔ ہم دنیا بَھر کو یہ دِکھانے میں مصروف ہیں کہ ہم کتنے خوش ہیں، جب کہ گھر کے اندر تک بکھری اُداسی کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔
معصوم اذہان پر ہول ناک اثرات اور مصنوعی احساسِ تفاخر: حد سے زائد اسکریننگ کے سب سے زیادہ ہول ناک اور لرزہ خیز اثرات معصوم بچّوں پر مرتّب ہورہے ہیں، کیوں کہ اب بچّوں کی تخلیقی کائنات بھی چند انچ کی اسکرینز کے حصار میں مقیّد ہو کر رہ گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچّوں کو قصوروار تو ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات یک سَر فراموش کر دیتے ہیں کہ انہیں اس دلدل میں جھونکنے والے والدین خُود ہی ہیں۔
ماضی میں ٹیلی ویژن پر مخصوص اوقات میں بچّوں کے لیے تعمیری، تربیتی یا تفریحی پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں لیکن آج ’’اسمارٹ ٹی وی‘‘ کے طلسم نے اس تفریح کو لَت میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب گھروں میں نصب بڑی بڑی اسکرینز پر یا تو کارٹونز کا ایک لامتناہی سلسلہ چل رہا ہوتا ہے یا پھر بچّے آن لائن متشدّد ویڈیو گیمز میں مگن نظر آتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جب بڑی اسکرینز کا طلسم ٹوٹتا ہے، تو ان کے ناتواں ہاتھوں میں موبائل فونز اور ٹیبلٹس موجود ہوتے ہیں۔
یہاں ایک انتہائی تلخ اور افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بچّوں کو اسمارٹ فونز سمیت دیگر منہگے گیجٹس دِلوانا اب ان کی تعلیمی ضرورت کی بجائے مصنوعی تفاخر، ریاکاری اور مسابقت کا ذریعہ بن چُکا ہے۔ جب ہم خاندان، برادری یا پڑوس میں کسی بچّے کے ہاتھ میں جدید ترین گیجٹس دیکھتے ہیں، تو ہماری مڈل یا اپر مڈل کلاس کی جُھوٹی انا جاگ اُٹھتی ہے، ہم احساسِ کم تری سے مغلوب ہوکر بِلا سوچے سمجھے اپنے بچّوں کو بھی اسمارٹ فونز یا ٹیبلٹس لا کر تھما دیتے ہیں اور اسی سبب اُن کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔
ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ والدین اور گھر کے دیگر بڑے خود اسکرینز میں اس قدر محو ہوچُکے ہیں کہ بچّوں کو وہ وقت، توجّہ اور پیار دینے سے قاصر ہیں، جواُن کا بنیادی حق ہے۔ درحقیقت، والدین کی غفلت کے سبب ہی بچّے اسکریننگ کی لت میں مبتلا ہو کرحقیقی رشتوں کی گرم جوشی سے یک سر بیگانے ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب بڑھتا ہوا اسکرین ٹائم ہماری اگلی نسل کی تخلیقی، فکری اور ذہنی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اب اُن کی دُنیامیدانوں کی مٹی،کتابوں کی خوش بُو اور تتلیوں کےتعاقب کی بجائےمحض اسکرینزتک محدود ہوکررہ گئی ہے۔
اُن میں صبر وبرداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے کہ ورچوئل ورلڈ میں ہر چیز ایک کلک پرمل جاتی ہے، جب کہ حقیقی زندگی صبر اور محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ نتیجتاً، ہم نادانی میں اعصابی طور پر ایک کم زور نسل تیار کررہے ہیں، جو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی۔
’’مجازی دُنیا‘‘ کا سراب: لائیکس کی غلامی اور ذہنی تناؤ: اگر ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بغورجائزہ لیں، تو بظاہر تو ہم سب ہمہ وقت اپنی بناوٹی خوشیوں، مصنوعی مسکراہٹوں اور فلٹرز لگی تصاویرکی نمائش میں مصروف ہیں،لیکن اسکرینز آف ہوتے ہی تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں، خود کو ذہنی تناؤ کا شکار، بےجان و بےرُوح محسوس کرنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی یہ دوڑ دراصل ایک ایسا سراب ہے، جس نےانسان کواپنا اسیروغلام بنا لیا ہے۔ اسی سبب آج کا انسان ہر وقت ایک خودساختہ ذہنی تناؤ کا شکاررہنے لگا ہے۔ دوسروں سے پیچھے رہ جانے کا خوف ایک نفسیاتی عارضہ بن چُکا ہے۔
اب ہم ہرلمحہ اس اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ’’فلاں کے ویوز مجھ سےزیادہ کیوں ہوگئے‘‘یا’’میری تصویر پر کتنے لائیکس آئے؟‘‘ ہم دنیا بھر کو متاثر کرنے کی کوشش میں اپنا سکون اور اُن لوگوں کو کھو رہے ہیں کہ جو ہماری زندگی کا اصل سرمایہ ہیں۔
توازن و اعتدال کی راہ اور اصلاحِ احوال: اب وقت آگیا ہےکہ ہم اسکرین ٹائم کے طوفانِ بلاخیز کے سامنے بند باندھیں اور ہوش کے ناخن لیں۔ ٹیکنالوجی کو زندگی سے مکمل طور پر خارج کرنا ممکن ہے اور نہ ہی یہ کوئی عقل مندانہ فیصلہ، لیکن زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال وتوازن برقرار رکھنا لازمی ہے۔
اگر ہم اپنی آئندہ نسل اور رشتوں کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں فوری طور پر اسکرین سے کچھ وقت کی دُوری اختیار کرنے یعنی ’’ڈیجیٹل ڈی ٹاکس‘‘ کی طرف آنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ہمیں اپنے گھروں کے اندر کچھ سخت اصول و ضوابط نافذ کرنا ہوں گے۔
مثال کے طور پر گھر کے اندر کچھ ایسے اوقات اور مقامات متعین کیے جائیں، جن میں موبائل فون کا استعمال ممنوع ہو، جیسا کہ کھانے کی میز پر، فیملی لاؤنج میں اور سونے سے ایک گھنٹا پہلے تمام ڈیجیٹل آلات کو خود سے دُور رکھنے کی عادت اپنائی جائے۔ علاوہ ازیں، چوبیس گھنٹوں میں سے کم ازکم ایک یا دو گھنٹے ایسے ضرور ہونےچاہئیں کہ جن میں خاندان کے تمام افراد اسکرین کے بغیر ایک ساتھ بیٹھیں، چائے پیتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیاں کریں۔
اسی طرح بچّوں کےلیے بھی اسکرین کا ایک وقت مقرّرکیا جائے اور انہیں جسمانی کھیل کُود، کُتب بینی اور دیگر تعمیری مشاغل کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی ذہنی نشوونما قدرتی ماحول میں ہوسکے، نیز والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچّوں کونت نئے گیجٹس کی بجائے اُن کے قیمتی وقت اور خالص توجّہ کی زیادہ ضرورت ہے۔
سو، ہمیں آج ہی سے اپنا خاندانی نظام اور سماج بچانےکے لیے اپنے رویّے بدلنے ہوں گے۔ اسکرینز کی عارضی چمک دمک سے نکل کر رشتوں کے دیرپا نُور کو دوبارہ اپنے گھروں میں جگہ دینی ہوگی۔ وگرنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہم لائیکس، ویوز حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے سچّے، پُرخلوص رشتوں اور اپنے بچّوں کے مستقبل ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔