٭ فیری میڈوز جاتے سیّاحوں کی کار کو حادثہ،7 افراد ہلاک۔ ٭ اسکردو روڈ پر حادثہ، ایک ہی فیملی کے6 افراد جاں بحق۔٭ نیلم ویلی میں سیّاحوں کی کار موڑ کاٹتے گہری کھائی میں جا گری، لاشوں کی تلاش کا کام جاری۔٭ مقامی بس بریک فیل ہوجانے سے دریائے سوات میں جاگری، 13مسافر جاں بحق۔٭ بابوسرٹاپ میں سیّاحوں کی جیپ اندھے موڑ پر توازن برقرار نہ رکھنے کے سبب دریا میں جاگری 4 افراد ہلاک۔٭ مَن چلا نوجوان ویڈیو بناتے دریائے سوات میں ڈوب گیا۔٭عید کی تعطیلات پر شمالی علاقوں میں سیّاحوں کارش، لاکھوں سیّاح لینڈسلائیڈنگ کے باعث مختلف مقامات پر پھنس گئے۔٭ کار کا ٹائر پَھٹنے سے سیّاحوں کی ویگن قراقرم ہائی وے پر مخالف سمت سے آنے والی بس سےٹکراگئی،ایک ہی خاندان کے6 افراد جاں بحق، 10زخمی۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پراِس قسم کی افسوس ناک خبریں روزمرّہ کا معمول بن چُکی ہیں۔
اگر روزانہ نہیں، تو ہر دوسرے،تیسرے دن ایسے الم ناک واقعات ہرایک کو سوگ وار کر جاتے ہیں۔ دنیا میں ہرسال لاکھوں افرادکا خون سڑکوں پر بہتاہے، لیکن جب یہ خون خُوب صُورت وادیوں، جھیلوں، شان دارپہاڑوں، شاداب وادیوں اورقدرت کے شاہ کار نمونوں میں بہنے لگے، تو اِن اَن مول خزانوں کا منظر نامہ یک سَر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے، خاص طور پر اُس وقت یہ غم سِوا ہوجاتا ہے، جب پتا چلتا ہے کہ اب تک قدرت کی اُن شاہ کار تخلیقات دیکھنے والے کتنے ہی خاندان، ٹریفک حادثے کے باعث ہمیشہ کے لیے ان وادیوں میں گم ہو کر رہ گئے۔
28 ہزار مربع میل پر مشتمل پاکستان کے بالائی شمالی علاقوں کا شمار دنیا کے حَسین ترین جغرافیائی علاقوں میں ہوتاہے۔ یہ علاقہ گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا، خاص طور پر سوات، ہنزہ ویلی، کاغان ویلی، اسکردو، ناران اور چترال وغیرہ پر مشتمل ہے۔ یہ ریجن دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں کا مسکن بھی ہے، جس میں قراقرم، ہمالیہ اور کوہِ ہندوکش شامل ہیں۔ ان میں دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی، کے-ٹو بھی شامل ہے۔
یہاں جھیل سیف الملوک اور فیری میڈوز جیسے سحر انگیز مقامات بھی ہیں۔ یہاں قدم قدم پر قدرت کی صنّاعی کے دل فریب نظارے سیّاحوں کو اپنے سحر میں جیسے جکڑ سا لیتے ہیں۔ یہاں کی آب شاریں، چشمے، جھیلیں، دریا، برف پوش پہاڑ، گلیشیئرز آسمان کو چُھوتے چنار کے درخت، چرندپرند، نباتات، پھل پھول، انسانوں کو حیرت میں گم کردیتے ہیں۔
اِن قدرتی نظاروں کےعلاوہ یہ علاقہ خشک میوہ جات، کئی مقامی ثقافتی روایات، شینا، بلتی، واکی، پشتو اور دیگر انوکھی زبانوں کا گہوارا بھی ہے۔ پاکستان اور چین کو ملانے والی مشہورِ زمانہ قراقرم ہائی وے بھی یہیں واقع ہے، جسے دنیا کا8 واں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی طور پر پاکستان کا یہ علاقہ ’’چُھپی ہوئی جنّتِ ارضی‘‘ (HIDDEN ADVENTURE PARADISE) کہلاتا ہے۔
پاکستان کے یہ شمالی علاقے، کئی دہائیوں سے پاکستانی اور غیرمُلکی سیّاحوں کی توجّہ کا مرکز چلے آرہے ہیں اور ہر سال اِن سیّاحوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ مقامی سیّاحوں کا تو یہاں سال کے بیش ترحصّے میں آنا جانا لگا رہتا ہے، لیکن تعطیلات کے موقعے پر تو گویا پورا مُلک اُمڈ آتا ہے۔
ان مواقع پر بعض اوقات 7لاکھ سے زائد سیّاح جمع ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتا ہے اور سیّاح کئی کئی روز تک اِن وادیوں کے خطرناک رستوں میں پھنسے رہتے ہیں۔
شدید برف باری کے موسم کے علاوہ یہ علاقے بالمعموم سیّاحوں کی آمدورفت کا ذریعہ بنے رہتے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق 2025ء میں تقریباً 10 لاکھ سے زیادہ سیّاحوں نے گلگت، بلتستان کے سیّاحتی مقامات کا رُخ کیا، جن میں16500 سیّاح غیر مُلکی تھے۔
خیبر پختون خوا کے سیّاحتی مقامات سوات، کاغان، ناران، گمراٹ وغیرہ جانے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی، جن میں غیر مُلکی سیّاحوں کی تعداد8 ہزار تھی، جب کہ 2015ء میں صرف گلگت بلتستان جانے والوں کی تعداد دولاکھ کے قریب تھی۔
ذرائع آمدورفت تک آسان رسائی، سیّاحت کا شوق اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اِن سیّاحوں کی تعداد میں ہرسال اضافہ ہوتا رہا ہے اور اب تو حالت یہ ہے کہ تعطیلات کے موقعے پر سیّاحتی مقامات پر ٹریفک بری طرح جام ہوتا ہے اور اسی حساب سے ٹریفک حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں موٹرسائیکل سوار نوجوانوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔
اب ہر شخص کی دست رَس میں موبائل فون ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے بھی اِن سیّاحتی مقامات کی خُوب صُورتی جس قدرعام ہوتی جارہی ہے، وہاں جانے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اِنہی عوامل کی بناء پر پاکستان کی ٹورازم انڈسٹری اب 5 ارب ڈالرز کا ہندسہ چُھو رہی ہے۔
اندھے موڑ، تنگ راستے
بلاشبہ قیامِ پاکستان کے بعد صوبہ سرحد کے نام سے موسوم (موجودہ خیبرپختون خوا اور گلگت، بلتستان) میں کئی ادوار میں ترقیاتی کام ہوئے، جو اُس وقت کی آبادی کے لحاظ سے کافی تھے۔ ایک بڑا کارنامہ قراقرم ہائی وے کی تعمیر تھی، جو کہ حسن ابدال سے خنجراب پاس کے ذریعے پاکستان کو چین سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے اونچی پختہ سڑک ہے۔
اِس کے بعد بابوسر پاس کے ذریعے مانسہرہ کو چلاس سے ملانے والی بابوسرروڈ اور پھر اسکردو روڈ ہے۔ متعدّد لنکس روڈ ہنزہ ویلی، اسکردو ویلی، فیری میڈوز اور ناران جیسے سیّاحتی مقامات کو ملاتے ہیں، لیکن بعدازاں سیّاحوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کے باوجود انفرا اسٹرکچر جدید ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اَپ گریڈ نہ کیا جاسکا۔
اگر کچھ کام ہوا بھی تو نیم دلی سے ہوا۔ یہ علاقے حکومتوں کی اِتنی زیادہ توجّہ حاصل نہ کرسکے، جتنے وہ اِس کے مستحق تھے۔ سیّاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر کم پڑنے لگا۔ چناں چہ تواتر سے لڑھکتی چٹانوں، سیلابی ریلوں اور شدید برف باری وغیرہ نے سڑکیں بُری طرح تباہ کردیں۔ مختلف حکومتوں کی مسلسل غفلت اور عدم توجّہی نے سیّاحوں کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔
چناں چہ تنگ سڑکیں، انتہائی تیکھے اور اندھے موڑ، ناہم وارراستے، سیّاحتی مقامات تک جانے والے کچّے پتھریلے راستوں کے دائیں بائیں حفاظتی ریلنگ اور دیواروں کا فقدان اور اِسی طرح کی دیگرخامیوں نے سیّاحوں کے لیے خُوب صُورت وادیوں کا یہ سفر انتہائی پُرخطر بنا دیا۔ خاص طور پر مرکزی سڑکوں سے دُور دراز سیّاحتی مقامات تک جانے والے غیرہم وار تنگ پتھریلے راستے موت کے پھندوں سے کم نہیں، جہاں جیپیں اور کاریں کڑے امتحان سے گزرتی ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سیلابوں، لینڈ سلائیڈنگز، زلزلوں کی وجہ سے متاثر ہونے والی رابطہ سڑکوں کی مرمّت پر خاطرخواہ توجّہ نہیں دی گئی اور سیّاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر نئے چیلنجر پر قابو پانے کے ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اِن علاقوں کا سہانا سفر خطرناک سے خطرناک تر ہوتا چلا گیا۔
حکومتیں سارا ملبہ فطرت کی چیرہ دستیوں پر ڈال دیتی ہیں۔ تعمیرومرمّت کا جوکام سال بَھر جاری رہنا چاہیے، وہ صرف مخصوص مدّت تک محدود ہوگیا۔ اِس دَوران خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں، بالخصوص سڑکوں کی تعمیر و مرمّت میں بے قاعدگیوں کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بننے لگیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، بعض سڑکوں اور دیگر حفاظتی اقدامات میں مبیّنہ طور پر غیرمعیاری ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا، جس سے یہ سڑکیں سیلابی ریلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ ایک اور رپورٹ میں ایبٹ آباد، ٹھنڈیانی روڈ کی تعمیرومرمّت میں دو اعشاریہ 75 ارب روپے کی بےقاعدگیوں کی مبیّنہ طور پر نشان دہی کی گئی۔
اکثر سڑکوں کی بحالی میں عام طور پر عدم توجّہی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے، بلکہ ٹریول ٹائم بھی بڑھ جاتا ہے اور حادثات کا زیادہ امکان رہتا ہے۔ اِس تمام تر صُورتِ حال سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ قدرت کے شاہ کار دُوردراز مناظر تک رسائی اور سیّاحت کو فروغ دینے کے لیے سرکاری سطح پر جو حفاظتی اقدامات ضروری تھے، خیبر پختون خوا کی مختلف حکومتیں کرنے میں ناکام رہیں، جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ناردرن ایریا کے سیّاحتی مقامات پرجانے کے لیے جب بھی کوئی فرد یا خاندان گھر سے نکلتا ہے، تو اہلِ خانہ ڈھیروں دُعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور اُن کی گھر واپسی تک اُن کی سلامتی کی دُعائیں ہی مانگتے رہتے ہیں۔ ڈر و خوف کے سائے اِن علاقوں کی سیّاحت کا ایک منفی پہلو ہے۔
انسانی جانوں کا خراج
پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیّاحت کے دوران ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کا کوئی مستند ریکارڈ دست یاب نہیں۔ سیّاحوں کی یہ اموات محض متعلقہ تھانوں تک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ تک محدود ہوتی ہیں، جب کہ کئی حادثات تو سرے سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ویسے بھی یہ حادثات چند دِنوں تک میڈیا کی خبروں کا عنوان بننے کے بعد ماضی کا حصّہ بن جاتے ہیں۔
تاہم ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، شمالی علاقوں میں گزشتہ چند برسوں میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے اعداد وشمار کچھ یوں ہیں۔ 2016ء میں150، 2017ء میں70، 2018ء میں 180، 2019ء میں 200۔ 2020ء میں کورونا کی وجہ سے بہت کم سیّاح شمالی علاقوں میں گئے، 2021ء میں220 ، 2022ء میں250 ، 2023ء میں 280 ، 2024ء میں 300 اور 2025ء میں 200 سیّاح اِن وادیوں کی نذر ہوگئے۔
یہ بڑے حادثات کے اعداد وشمار ہیں، جب کہ چھوٹے حادثات میں معمولی زخمی ہونے والے سیّاح ان میں شامل نہیں۔ اِن میڈیا رپورٹس کے برعکس، یہ تاثرعام ہےکہ حادثات میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم اگر یہ رپورٹ درست مان لی جائے، تب بھی یہ وادیاں ہر دوسرے، تیسرے روز اوسطاً ایک انسانی جان کا خراج وصول کررہی ہیں۔
اگرچہ خیبرپختون خوا کی کسی حکومت نےاِن حادثات کامصدّقہ طور پر اعلان نہیں کیا، لیکن اگر اندازہ لگایا جائے کہ یہ خُوب صُورت، دل فریب وادیاں گزشتہ دو، تین دہائیوں میں کتنے بچّوں، مَردوں اور عورتوں کے خون کا نذرانہ لےچُکی ہیں، تو جسم میں جھرجھری سی آجاتی ہے اور ساتھ ہی ذہن دنیا کے اُن پُرخطر سیّاحتی مقامات کی طرف چلا جاتا ہے، جہاں کے حفاظتی اقدامات اِتنے سخت، مثالی اورمؤثر ہیں کہ اِس نوعیت کےحادثات خال ہی ہوتے ہیں۔
ہمارے یہاں عموماً ایسےحادثات کی تمام تر ذمّے داری موسمی حالات، قسمت اور سیّاحوں کی اپنی غلطی پر ڈال کر بری الذمّہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر کوئی کام اِس لیے نہیں کیا جاتا کہ موسمی حالات پھر خراب کردیتے ہیں۔ ہمارے ماہرین، چینی انجینئرز ہی سے پوچھ دیکھیں کہ اُنہوں نے اپنے انتہائی پُرخطر سیّاحتی مقامات کا سفر کیسے محفوظ بنایا، تو شاید ہمارا بھی کچھ بھلا ہو جائے۔
بظاہر صوبائی حکومت اِن علاقوں میں تعمیر و ترقّی اور انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے کثیر رقم مختص کرتی ہے، لیکن اِس رقم کےمثبت اثرات اورٹھوس نتائج بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ اِس بار بھی2026-27ء کے بجٹ میں صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 2 اعشاریہ 17 ٹریلین کی رقم مختص کی ہے، جس میں شمالی علاقوں کے ذرائع آمدورفت کے لیے تو کوئی خاص رقم مختص نہیں کی گئی، تاہم سیّاحوں کی سہولتوں اور سڑکوں کی تعمیر و مرمّت کا ذکر ضرور موجود ہے۔
صوبے کو شمالی علاقوں میں سیّاحت سے سالانہ8 سے 12 ارب روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ گلگت، بلتستان نے اِس شعبے سے 400 ملین روپے کمائے۔ تاہم، مزید سہولتیں فراہم کر کے یہ آمدنی تین سے چار گُنا بڑھائی جاسکتی ہے۔
’’پہاڑ کبھی غلطی معاف نہیں کرتے‘‘ پروفیسر عبدالحکیم
شمالی علاقوں میں گزشتہ 15برس سے باقاعدگی سے سیّاحت کرنےوالے پروفیسر عبدالحکیم نے اپنے تجربات کی بنیاد پرکئی تجاویز دی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کے شمالی علاقے، مُلک کےلیے سونے کی چڑیا ہیں، لیکن یہاں سیّاحت کے فروغ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ٹھوس بنیادوں پر کام نہیں کیا، سب کام عارضی بنیادوں ہی پر ہوتے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقّی یافتہ ممالک کے سیّاحتی مقامات کے مقابلے میں پاکستان کے سیّاحتی علاقوں میں حادثات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ کاروں، ویگنز، جیپوں اور بسز کے گہری کھائی میں گرنے کی خبریں، شمالی علاقوں کا حُسن اور دل فریبی گہنا دیتی ہیں اور یہ وادیاں بدقسمتی سے سیّاحت کے شوق میں ہنسی خوشی گھروں سے نکلنے والے افراد کا مدفن بن جاتی ہیں، حالاں کہ سڑکوں کی دیکھ بھال، مرمّت اور دیگر حفاظتی اقدامات سے انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔‘‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’شاہ راہِ قراقرم، بابوسر، فیری میڈوز ٹریک پر سیکڑوں فٹ گہری کھائیاں ہیں، جب کہ یہاں کنارے پر کوئی ریلنگ یا حفاظتی دیوار نہیں۔
نیز، سڑکیں بہت تنگ ہیں۔ میدانی علاقوں کے ڈرائیورز پہاڑی رستوں، موڑوں کے عادی نہیں ہوتے، پھر لمبی اُترائی میں گاڑیوں کے بریک گرم ہو کر فیل ہوجاتے ہیں، تو یہ صورتِ حال خوف ناک حادثات کی وجہ بن جاتی ہے۔ اِسی طرح بعض ناتجربہ کار لوگ اِن دشوار گزار رستوں پرخُود گاڑی لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور یہی ناتجربہ کاری بڑے نقصانات کا سبب بن جاتی ہے۔
عموماً مقامی لوگ اندھیرے کے بعد سفر نہیں کرتے، لیکن مَن چلے سیّاح تاریکی بھی نکل پڑتے ہیں۔ نیز، اکتوبر سے اپریل تک سڑکوں پرجمی برف سے گاڑیاں پھسل جاتی ہیں، جب کہ جولائی، اگست میں موسم کی سختیاں مزید بڑھ جاتی ہیں، بادل اچانک پَھٹنے سے نالے لمحوں میں بھپر جاتے ہیں، خاص طور پر جولائی، اگست میں ناران اور بٹاکنڈی میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے۔
گاڑیاں ریلوں میں بہہ جاتی ہیں، جب کہ آف سیزن میں بابوسر اور دیوسائی میں گاڑیاں برف میں پھنس جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے خنجراب ایک دن میں جانے سے ڈرائیورز کو اکثر اونچائی کی وجہ سے چکر اور قے آنےکا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، جس سے حادثے کا احتمال بڑھ جاتاہے۔ جھیل سیف الملوک پر بھی دھند سے اکثر حادثات ہو جاتے ہیں۔ بعض من چلے، گائیڈز کےبغیر ہی آنسو جھیل، فیری میڈوز اور راکا پوشی بیس کیمپ پہنچ جاتے ہیں اور پھراِس کاخمیازہ اُنہیں راستہ بھٹکنے کی صُورت بھگتنا پڑتا ہے۔
کئی نوجوان ایڈونچر کے لیے دریائے کنہار، سندھ، ہنزہ میں سیلفیز لیتے یا پیدل پار کرتے ہوئے بہہ جاتے ہیں۔ کئی لوگ نالوں کے قریب کیمپنگ کرتے ہیں اور رات کو اچانک سیلابی ریلا اُنہیں بہا لے جاتا ہے۔ 2023ء میں ایسے کئی حادثات ہوئے، کئی سیّاح گلیشیئرز پر جاگرز اور گرم کپڑے پہن کرنہیں جاتے، جب کہ بعض سیّاح ضرورت سے زائد خُوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرائیونگ کرتے ہیں، لیکن یاد رکھیں، پہاڑ کسی کی غلطی معاف نہیں کرتے۔
خراب موسم میں مقامی جیپ ڈرائیورز اور پولیس سیّاحوں کو سفر سے منع کرتی ہے، خاص طور پر رات کو، لیکن اکثر سیّاح باز نہیں آتے۔ کئی جھیلوں میں لوگ لائف جیکٹس کے بغیر کشتیاں چلاتے ہیں، حالاں کہ دریائے کنہار میں کشتی ڈوبنے کے کئی واقعات ہوچُکے ہیں۔ شمالی علاقوں کے بعض مقامات پر فونز کے سگنل نہیں آتے، جس سے حادثات کی اطلاع گھنٹوں بعد پہنچتی ہےاورریسکیو سرگرمیاں دیر سے شروع ہوتی ہیں۔
اکثر راستوں پر1122 کی سہولت میسّر نہیں۔ زخمی کئی کئی گھنٹوں بعد قریبی اسپتال پہنچتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں اکثر جگہوں پر وارننگ سائنز بھی نہیں ہیں، جس سے لینڈ سلائیڈنگ زون اور اونچائی کا پتا نہیں چلتا۔ لکڑی کے کم زور پُل ٹوٹ چُکے ہیں۔ کئی مہینے ایسے ہیں، جن میں سیّاحوں کو بےحد احتیاط کرنی چاہیے۔ جولائی، اگست مون سون کی وجہ سے خطرناک ہیں، تعطیلات میں رش بے تحاشا بڑھ جاتا ہے اور لوگ پھنس جاتے ہیں، جنہیں پھر ہیلی کاپٹرز سے ریسکیو کرنا پڑتا ہے۔
پھر دسمبر سے مارچ برف باری کے مہینے ہیں، تو اکثر سڑکیں بند ہوجاتی ہیں۔‘‘ پروفیسر عبدالحکیم نے کہا کہ ’’بابوسر، فیری میڈوز، دیوسائی کے لیے مقامی ڈرائیورز کی خدمات حاصل کریں، صُبح جلدی نکلیں، شام5 بجے تک ہرصُورت واپس آجائیں، رات کو سفر نہ کریں، موسم اور سڑک کا حال پوچھ کرنکلیں۔
اُترائی سے پہلے گاڑی کی بریکس ضرورچیک کریں، لائیو لوکیشن شیئر کریں اور موبائل فون کا پاوربینک ساتھ رکھیں۔ بابوسر جانے سے پہلے ایک رات کے لیے ناران رُک جائیں۔ واضح رہے، پاکستان اُن ممالک میں شامل نہیں، جن کے سیّاحتی مقامات خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔ مُلک ٹورازم سے سالانہ10 سے 12 ارب ڈالرز کما رہا ہے، جس میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
بشرطیکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر سیّاحت کے فروغ کے لیے منظّم منصوبے بنائیں، جس کے تحت سڑکیں محفوظ بنائی جائیں۔ پاکستان سیّاحت سے آمدنی اور سرمایہ کاری کے اعتبار سے دنیا کے 119 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے۔
سیّاحوں کی سہولتوں کے حوالے سے 7 میں سے اِس کا اسکور3.41 ہے، جو بُرا نہیں، لیکن شمالی علاقوں کی سیّاحت محفوظ بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ سیّاحتی علاقوں میں ٹریفک حادثات، چاہے حکومت کی عدم توجّہی کا نتیجہ ہوں یا خُود سیّاحوں کی غفلت کارفرما ہو، بہرحال یہ حسین و جمیل وادیوں کے سفر پر ایک بدنما داغ ہیں،جو خُوب صُورت جھیلوں، پُرکشش وادیوں اور بہتے چشموں کے شفّاف پانیوں کو خاصا گدلا کرتے ہیں۔‘‘