• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں کثیر الثقافتی معاشرے کا قیام، مضبوط قومی وحدت کا ضامن

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور اہمیت کے اعتبار سے مُلک کا سب سے اہم صوبہ ہے۔ یہ صوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطّے کی معیشت، سیاست اور جغرافیائی سیاست میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ یہ صوبہ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔

اس کی طویل ساحلی پٹی بحیرۂ عرب سے ملتی ہے، جو دُنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں کے قریب ہے۔ وسطی ایشیا کی محصور ریاستیں (Landlocked Countries) اگر بیرونی دنیا سے تجارت کرنا چاہتی ہیں، تو ان کے لیے بلوچستان کا راستہ سب سے مختصر اور موزوں ترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

بلوچستان کی جدید ترین اہمیت کا محور گوادر بندرگاہ ہے۔ یہ گہرے پانی کی بندرگاہ پاک، چین اقتصادی راہ داری (CPEC) کا قلب ہے۔ گوادر بندرگاہ کے فعال ہونے سے چین کو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی درآمد کے لیے طویل بحری راستے کی بجائے ایک محفوظ اور مختصر زمینی راستہ مل گیا ہے۔ سی پیک کے تحت بلوچستان میں سڑکوں، ریلوے لائنز اور انڈسٹریل زونز کا نیٹ ورک بچھایا جا رہا ہے، جو مستقبل میں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطّے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ یہاں سوئی کے مقام سے نکلنے والی قدرتی گیس دہائیوں سے پورے پاکستان کی صنعتوں اور گھروں کو چلا رہی ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ریکوڈک اور سیندک کے مقامات پر دُنیا کے سب سے بڑے تانبے اورسونے کے ذخائر کے شواہد بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، یہاں کوئلے، کرومائٹ، ماربل اور جپسم کے وسیع ذخائر پائےجاتے ہیں، جو مُلکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مزید برآں، جغرافیائی تنوّع کی وجہ سے بلوچستان متبادل توانائی (Alternative Energy) کے لیے بہترین خطّہ ہے۔ یہاں تیز ہواؤں اور سال کے بیش تر حصّے میں شدید دھوپ کی وجہ سے پون اور شمسی توانائی کے وسیع مواقع موجود ہیں، جو پاکستان کے توانائی کے بحران کو مستقل طورپر حل کرسکتے ہیں۔ نیز، اس کے نہری علاقے اور ساحلی میدان زراعت اور لائیواسٹاک کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ اس کےعلاوہ بلوچستان اپنی منفرد اور قدیم ثقافت کے اعتبار سے بھی خاصا منفرد اور معروف ہے۔

جیسا کہ مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خطّہ تاریخِ انسانی کے ماتھے کا جھومر ہے۔ پھر یہاں کے غیرت مند، مہمان نواز اور محبِ وطن لوگ پاکستان کافخروغرور ہیں۔ عسکری اوردفاعی نقطۂ نظرسےبھی بلوچستان کی طویل سرحدیں (ایران اور افغانستان کے ساتھ) پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کے ضمن میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

ہرچند کہ بلوچستان اپنے اندر بیش بہا امکانات سموئے ہوئے ہیں، مگر یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر اہمیت کے باوجود بلوچستان آج بھی غربت و پس ماندگی اور انتشار و درماندگی کا شکارکیوں ہے؟ اگر بلوچستان کے مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ ان کے پیچھے صرف داخلی کم زوریاں ہی نہیں بلکہ بیرونی سازشوں کا ایک منظّم جال بھی کار فرما ہے۔

جنگ کے میدان میں ہر بار پاکستان سے شرم ناک شکست کھانے کے بعد ’’فتنہ الہندوستان‘‘ ایک طویل عرصے سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے مختلف محاذوں پرسرگرم ہے اور اس ضمن میں بلوچستان اس کی توجّہ کاخاص مرکز ہے۔

تخریبی کارروائیاں، دہشت گردی کے واقعات، لسانی تعصّب کو ہوا دینا، سکیوریٹی فورسز پر حملے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا، مسافر بسوں سے قومی شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو نیچے اتارکربے دردی سے قتل کرنا اور خوف وہراس کی فضا قائم رکھنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

بھارت کی یہ تخریبی سرگرمیاں محض عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے گم راہ کُن بیانیے اور جھوٹے پراپیگنڈے کا پھیلائو اور مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششیں بھی اس جنگ کا حصّہ ہیں۔ دشمن کی یہ حکمتِ عملی اس حقیقت کی عکّاس ہےکہ وہ براہِ راست میدانِ جنگ میں شکست کے بعد اب غیرروایتی اور رذیل حربوں کا سہارا لے رہا ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایسی تمام کوششیں ہمیشہ پاکستان کے قومی عزم اور بہادر افواج کے سامنے ناکام ہوئیں اور ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

یہ بات واضح ہے کہ بھارت بلوچستان میں بدامنی اور انتشار کو ہوا دینے کے لیے دہشت گردوں اور علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی معاونت اور سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے معصوم عوام میں دیگرصوبوں کےخلاف نفرت کوپروان چڑھانے سمیت مختلف ذرائع اور حربے استعمال کررہا ہے۔

پنجاب سےتعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ بھی اِسی سازش کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد صوبوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے مگر افواجِ پاکستان اور دیگر سکیوریٹی اداروں میں بلوچ نوجوانوں کی بھرپور شمولیت، قومی دھارے میں بلوچ دانش وَروں اورسیاسی و سماجی رہنماؤں کی مسلسل مثبت آوازیں اور دہشت گردی کے خلاف مقامی لوگوں کا مکمل تعاون اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کی اصل رُوح پاکستانیت ہی سے جڑی ہوئی ہے۔

بلوچستان کے شہریوں کی اکثریت محبِّ وطن ہے اوراُنہوں نے ہمیشہ نہ صرف ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کی دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کی مکمل حمایت کی ہے بلکہ اپنے اتحاد اور حوصلے سے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بھی بنایا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ افواجِ پاکستان نے نہ صرف سرحدوں پر بلکہ اندرونِ مُلک بھی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور حکمتِ عملی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز، دہشت گرد نیٹ ورکس کا قلع قمع اور سرحدی نگرانی کے مؤثر اقدامات اس اَمر کی واضح مثال ہیں کہ ریاست اپنے دفاع کے ضمن میں مکمل طور پر مستعد ہے اور پاک فوج کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف دہشت گرد عناصر کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا بلکہ ان کے نیٹ ورکس بھی بُری طرح متاثر ہوئے، نیز سکیوریٹی فورسز کی قربانیاں اس جدوجہد کا روشن باب ہیں۔

انہوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ وطنِ عزیز کےدفاع کے لیےاندرونی وبیرونی محاذ پر سکیوریٹی اداروں کی فرض شناسی اور قربانیاں اہمیت کی حامل اور خراجِ تحسین کی مستحق ہیں مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ کیا وطن دشمنوں کی ان ناپاک اور مکروہ سازشوں کے تدارک کے لیے صرف سکیوریٹی آپریشنز ہی کافی ہیں یا اس سلسلے میں ہمیں ایک وسیع تر قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

اِس ضمن میں ہماری تجویز ہے کہ باہمی مشاورت سےبلوچستان سمیت مُلک کے تمام صوبوں سے سیاسی، سماجی، صحافتی، دینی اور علمی و ادبی شخصیات اور ماہرین پر مشتمل ایک ایسا غیر متنازع قومی کمیشن تشکیل دیا جائے کہ جو پورے مُلک سے سات سے آٹھ کروڑ شہریوں کو، جن میں سندھی، پنجابی، اُردو بولنے والے، پختون، کشمیری، گلگتی، ہزارہ اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں، بلوچستان کے مختلف حصّوں میں آباد کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی مرتّب کرے، جس کی روشنی میں بلوچستان میں نئی بستیاں، رہائشی اسکیمز، تعلیمی ادارے اور صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔

تاہم، اس منصوبے میں کمیشن کو اس اَمر کا خاص طور پر خیال رکھنا ہوگا کہ آباد کاری کا یہ عمل کسی صُورت بھی مقامی آبادی کے حقوق کے خلاف نہیں ہونا چاہیے اور اسے منظّم، شفّاف اور مقامی آبادی کی ثقافت، زبان اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھانا چاہیے۔

ہمارے خیال میں بلوچستان کی پس ماندگی و غربت اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کی پیدا کردہ مصنوعی شورش کومستقل بنیادوں پرختم کرنےکے لیے یہ تجویز خاصی مفید، دیرپا اور ہمہ جہت ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے، کچھ لوگ اس تجویز سے اتفاق نہ کریں، لیکن اگر اسے وسیع تر قومی مفاد اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے، تو اس کےحق میں درج ذیل دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں۔

1۔ بلوچستان کے وسیع رقبے اور کم آبادی سے ایک ایسا خلا جنم لیتا ہے، جسے دشمن قوتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ خالی زمینیں ہمیشہ سازشوں کے لیے سازگار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطّے کو انسانی وسائل سے آباد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چُکا ہے۔

2۔ صوبے میں نئی آبادی کے ساتھ نئی مہارتیں، سرمایہ اور کاروباری سرگرمیاں بھی منتقل ہوں گی اور یوں زرعی ترقّی، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا قیام، تجارتی مراکز اور سروس سیکٹر کی توسیع بلوچستان کی معیشت کو ایک نئی جہت دے سکتی ہے۔ اس سے مقامی آبادی کے لیے بھی روزگار کے بےشمار مواقع پیدا ہوں گے اور دیگر صوبوں کے غریب اور بےروزگار افراد کے لیے بھی خوش حالی کے نئےدروازے کُھلیں گے۔

3۔ بلوچستان کی آبادی میں اضافے کے نتیجے میں نئے اسکولز، کالجز، یونی ورسٹیز اور اسپتالوں کی ضرورت ہوگی، جس کے نتیجے میں ریاست ان شعبہ جات میں زیادہ سرمایہ کاری کرے گی اور اس کا مقامی باشندوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔

4۔ جب مختلف زبانوں، ثقافتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی علاقے میں رہائش پذیر ہوں گے، تو اُن کا باہمی میل جول بڑھے گا، غلط فہمیاں دُور ہوں گی اور ایک مشترکہ پاکستانی شناخت مضبوط ہوگی، جس کے نتیجے میں لسانی تعصب خود بخود کم زور ہو جائے گا۔

5۔ زیادہ آبادی کامطلب زیادہ ریاستی موجودگی، بہتر انفرااسٹرکچر اور مؤثر نگرانی ہے۔ ایران اور افغانستان سےملحقہ سرحدی علاقوں میں اگر آبادی بڑھے گی، تو لامحالہ اسمگلنگ سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیاں اور دہشت گردی کے واقعات کم ہو جائیں گے اوریہ عمل ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کی سازشوں کےخلاف ایک مضبوط دفاعی حصار ثابت ہوگا۔

6۔ جب کسی علاقے میں مختلف قومیتوں کا تناسب متوازن ہو جاتا ہے، تو علیحدگی پسند بیانیہ اپنی کشش کھو دیتا ہے۔ بلوچستان میں اگر ایک کثیر الثقافتی معاشرہ فروغ پاتا ہے، تو اس سے قومی وحدت مضبوط ہوگی۔

7۔ بلوچستان کےعوام کی پس ماندگی کے خاتمے میں صدیوں پرانا سرداری نظام ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے، جو عوام کو شعور، تعلیم اور ترقّی سےدُوررکھتا ہے، جب کہ نئی آبادکاری اس روایتی ڈھانچےکوچیلنج کرے گی، جس سے شخصی آزادی، تعلیم، شعور اور قانون کی حُکم رانی کو فروغ ملے گا۔

8۔ جب مُلک کے مختلف حصّوں سے لوگ بلوچستان میں آ کر آباد ہوں گے، تو صرف آبادی میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ ایک نئی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی بھی جنم لے گی۔ نئی آبادیاں نئے کاروبار، نئی صنعتوں اور نئی مہارتوں کو جنم دیں گی۔ اس سے مقامی بلوچ آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیم و صحت کی سہولتوں میں اضافہ ہوگا اور مجموعی طور پر معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔

9 ۔ یہ عمل لسانی ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گا۔ جب بلوچ، پنجابی، سندھی، پختون، کشمیری اور دیگر قومیتوں کے لوگ ایک ساتھ رہیں گے، تو اُن کے درمیان باہمی فاصلے کم ہوں گے اور ایک مشترکہ پاکستانی شناخت مضبوط ہوگی۔ نفرت اور بداعتمادی کی جگہ میل جول اور بھائی چارہ لے گا اور یہی وہ عُنصر ہے کہ جو کسی بھی ریاست کو مضبوط بناتا ہے۔

10 ۔ بلوچستان میں آباد کاری سے دوسرے صوبوں سے آبادی کا بوجھ بھی کم ہوگا، جس سے اُن صوبوں کی مقامی آبادی کے حالات میں بھی بہتری پیدا ہوگی۔

’’فتنہ الہندوستان‘‘ کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے جہاں سکیوریٹی ادارے اپنی ذمّے داریاں بخوبی ادا کررہے ہیں، وہیں ہمیں بہ طور قوم بھی اپنی ذمّے داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان صرف ایک مُلک نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے اوراس نظریے کی بقا اِسی میں ہے کہ ہم اپنےاختلافات پس پُشت ڈال کر ایک قوم بن کر آگے بڑھیں۔ بلوچستان کو آباد کرنا دراصل پاکستان کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ عمل نہ صرف ایک صوبے کی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ پورے مُلک کا مستقبل بھی روشن کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس سمت میں قدم اٹھالیا، تو ہم نہ صرف دشمن کی سازشیں ناکام بنا سکتے ہیں بلکہ ایک ایسا پاکستان بھی تشکیل دے سکتے ہیں کہ جو ترقّی، استحکام اور یک جہتی کی مثال ہو اور پھر بلوچستان صرف پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہی نہیں ہوگا بلکہ سب سے ترقی یافتہ اور پُرامن خطہ بھی بن جائے گا۔

وہ نام نہاد دانش وَر،جو وفاق کوپسِ پشت ڈال کرصرف صوبائیت کی بات کرتے ہیں، اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان صرف پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبر پختون خوا کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی ریاست ہے، جو تمام پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف صوبائی حقوق کی بات کریں گے یا قومی وحدت کو فوقیت دیں گے۔

پاکستان کی سیاسی قیادت کےساتھ مُلک کے علمی ادبی، سماجی، صحافتی اور مذہبی طبقے کی بھی یہ مشترکہ ذمّےداری ہے کہ وہ قومی یک جہتی کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار کرے۔ پاکستان کی بقا کے لیے صوبوں کے درمیان پیدا کی گئی منافرت کا خاتمہ کرنا اور مشترکہ ثقافت اور زبان کی بنیاد پر اتحاد پیدا کرنا بنیادی ضرورت ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ وہ پاکستان جس کے لیے ہمارے پُرکھوں نے بے شمار قربانیاں دی تھیں، آج کم و بیش 80 برس گزرنے کے بعد بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا اور اتحاد و تنظیم کا وہ سبق، جو ہمیں بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے پڑھایا تھا، فراموش کرکے ہم مختلف اکائیوں میں تقسیم ہو چُکے ہیں۔ 

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہمیں سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان تو دکھائی دیتا ہے، مگر ہمارا وہ پیارا پاکستان کہاں ہے، جس کی خاطر ہمارے اکابرین نے لاکھوں جانیں، اپنا مال و متاع سب قُربان کر دیا تھا۔