• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک اور 14اگست ہمارے سامنے ہے۔ ایک اور دن، جب سبز و سفید پرچم گھروں، دفاتر، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتا دکھائی دے گا۔ ملک بھر میں ملی نغموں کی گونج ہوگی، پریڈیں ہوں گی، تقاریر کی جائیں گی، بڑی اشتہاری مہمات چلائی جائیں گی، سیاسی رہنما نئے وعدے کریں گے، اور لوگ پاکستان سے اپنی محبت کے اظہار کیلئے سڑکوں پر نکلیں گے۔ چند گھنٹوںکیلئے یوں محسوس ہوگا جیسے پوری قوم ایک جذبے، ایک خواب اور ایک مقصد پر متحد ہوگئی ہو۔ لیکن اصل سوال 14 اگست کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ 15اگست کو کیا ہوگا؟جب تقریبات ختم ہوجائیں گی، روشنیاں بجھا دی جائیں گی، پرچم آہستہ آہستہ اتر جائیں گے اور ملی نغموں کی آواز مدھم پڑ جائے گی، تو باقی کیا رہ جائیگا؟ کیا ہمارے رویے بدل چکے ہونگے؟ کیا ہمارے ادارے بہتر کارکردگی دکھانا شروع کردیں گے؟ کیا ہماری سیاست ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں تبدیل ہوجائیگی؟ کیا کاروباری برادری منافع سے آگے دیکھتے ہوئے قومی ترقی کیلئے اپنی وسیع تر ذمہ داری قبول کرے گی؟ کیا عام شہری دیانت داری، نظم و ضبط، ذمہ داری اور قانون کے احترام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے؟ یا سب کچھ پھر معمول پر آجائے گاایک اور رات گزر گئی، ایک اور وعدہ بھلا دیا گیا، اور قوم ایک بار پھر عین وہیں کھڑی ہوگی جہاں گزشتہ یومِ آزادی پر کھڑی تھی؟شاید یہ ہماری قومی زندگی کے المیوں میں سے ایک ہے۔ ہر سال ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں، مگر بہت کم اس بات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں کہ آزادی ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے۔ ہم جذبات تو پیدا کرتے ہیں مگر انہیں عمل میں تبدیل نہیں کر پاتے۔ ہم وعدے تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں ناپتے کہ وہ کس حد تک پورے ہوئے۔ ہم بلند آواز سے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہتے ہیں، مگر خاموشی سے انہی عادات، مفادات اور طریقوں کا دفاع بھی کرتے رہتے ہیں جو پاکستان کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔اس صورتِ حال کا ذمہ دار کوئی ایک سیاست دان، حکومت یا ادارہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب، کسی نہ کسی انداز میں، اس نظام کا حصہ ہیں۔ سیاسی اور ادارہ جاتی قیادت، بڑے کاروباری ادارے، بیوروکریسی، پیشہ ور افراد، سمندر پار پاکستانی، نوجوان اور عام شہری سب اس میں شریک ہیں۔ جن کے پاس طاقت اور اثر و رسوخ ہے، ان پر ذمہ داری کا بوجھ زیادہ ہے، لیکن جن کے پاس باضابطہ اختیار نہیں، وہ بھی خود کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ہم میں سے ہر شخص کو اپنے آپ سے ایک مشکل سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم صرف پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، یا اس کیلئے اپنی عادات، سہولتوں اور ذاتی مفادات کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں؟ کیا ہم قانون صرف اس وقت مانتے ہیں جب سزا کا خوف ہو؟ کیا ہم میرٹ کا مطالبہ صرف اس وقت کرتے ہیں جب ناانصافی کا نقصان ہمیں ذاتی طور پر پہنچے؟

یہ سوالات شاید ناگوار ہوں، لیکن ان سے گریز کرکے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں تو 15 اگست کی صبح ہم ایسا کیا مختلف کریں گے؟ اس سال 14 اگست کو محض ایک اور قومی جشن کے طور پر نہیں منایا جانا چاہیے۔ اسے قومی خود احتسابی، نئی سمت اور اجتماعی عزم کا دن بننا چاہیے۔ یہ ایک حقیقی نقطۂ آغاز بن سکتا ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم جشن سے آگے بڑھیں اور ایک واضح، قابلِ اعتبار اور عملی قومی منصوبہ اختیار کریں۔پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایسا ملک بننا چاہتا ہے جو دنیا کیلئے علم، مصنوعات، خدمات، ٹیکنالوجی اور حل پیدا کرےیا بنیادی طور پر دوسروں کی تیار کردہ چیزوں کا صارف ہی بنا رہے۔تاہم، منصوبہ تیار کرلینا بھی کافی نہیں۔ پاکستان میں متاثر کن پالیسیوں، رپورٹوں یا ترقیاتی فریم ورک کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اصل ناکامی عمل درآمد، تسلسل اور احتساب میں رہی ہے۔ اس لیے کسی بھی سنجیدہ قومی منصوبے کے پیچھے ایک باصلاحیت، دیانت دار اور پیشہ ور ٹیم کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے مقاصد واضح طور پر متعین ہوں، پیش رفت کی سہ ماہی اور سالانہ بنیاد پر عوامی رپورٹنگ کی جائے، اور اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

پاکستان کو صلاحیت کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں۔ اس کے پاس محنتی لوگ، تخلیقی ذہن، کاروباری توانائی، زرخیز زمین، قدرتی وسائل، بڑی مقامی منڈی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور دنیا بھر میں کامیاب پاکستانی برادری موجود ہے۔ المیہ صلاحیت کی عدم موجودگی نہیں، یہ ہے کہ ہم آج بھی اس صلاحیت کو ایک مشترکہ قومی مقصد کیلئے منظم، بااختیار اور درست سمت میں استعمال نہیں کر پا رہے۔ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ایک نوجوان کو آگے بڑھنے کیلئے اثر و رسوخ نہیں بلکہ قابلیت درکار ہو۔ جہاں کاروبار ذاتی تعلقات کے بجائے واضح قواعد کے تحت چل سکیں۔جہاں دیانت داری کو نقصان نہیں بلکہ کامیابی کی بنیاد سمجھا جائے اور جہاں ریاست شہریوں کو بوجھ نہیں بلکہ قومی ترقی کے شراکت دار سمجھے۔یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوگا، لیکن بامعنی تبدیلی کا آغاز ایک دن سے ہوسکتا ہے۔شاید یہ 14 اگست وہ لمحہ بن سکے جب ہم اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کریں کہ قومی جذبہ اب نعروں تک محدود نہیں رہے گا۔ ہر فرد، ہر ادارہ، ہر کاروبار اور ہر صاحبِ اختیار شخص اپنی ایک واضح ذمہ داری متعین کرے اور قابلِ پیمائش عمل کا عہد کرے۔ ہمیں اپنے اختیار میں موجود چیزوں اپنے گھروں، کام کی جگہوں، اداروں، محلوں، پیشوں اور برادریوں کو بہتر بنانے کیلئے کسی قومی انقلاب کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔

تازہ ترین