سوشل میڈیاپرایک خاتون کی وڈیو وائرل ہے جس میں انہوں نے نہایت سنجیدگی سے بہت کمال کا آئیڈیا پیش کیا ہے کہ جو بھی شاعرہونے کا دعویٰ کرے اس کا سرکاری طور پر ٹیسٹ لینا چاہیے اور جب وہ شاعری کا امتحان پاس کرلے تو اسے شاعر ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کرنا چاہیے۔کتنا اچھا آئیڈیاہے۔ میں توکہتا ہوں اِس ڈگری کا نام ’ماسٹرز اِن پوئٹری‘ ہوناچاہیے اورمشاعروں میں شرکت کیلئے شرط ہونی چاہیے کہ درخواست کے ہمراہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ ڈگری کی فوٹو کاپی،ڈومیسائل، شناختی کارڈکی چارکاپیاں ا ور ب فارم بھی فراہم کیا جائے۔شاعرکی ہر غزل کیلئے این او سی جاری کیا جائے اوراگرکوئی ڈگری ہولڈر ہونے کے باوجود بے وزن شعر کہتا ہوا پایا جائے تو اسے قابل دست اندازی پولیس جرم تصور کیا جائے۔شاعری کے مقدمات کیلئے دہشت گردی کی طرز پرخصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اوراُن شاعروں کوبھی گرفتار کیا جائے جو عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے اپنی کتاب کے شروع میں ’مقدمہ‘ لکھ کرقانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشاعروں میں ترتیب کیا رکھنی ہے اس بارے میں بھی سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔جس شاعر کے پاس شاعری کی سرکاری ڈگری نہ ہو اور وہ پھر بھی اچھا شعر کہتاہواپکڑا جائے تواُس کی تمام غزلیں سرکاری تحویل میں لے کر مستحقین میں بانٹ دی جائیں۔نثری نظم کہنے والوں پر پابندی لگائی جائے کہ وہ اسے ’نظمیہ نثر‘ کہیں گے۔بغیر اجازت کسی دوسرے شاعر کی زمین میں شعر کہنے والوں پر ’لینڈ گریبنگ لا‘ کا نفاذ کیا جائے۔ڈگری جاری کرنے سے پہلے ہر شاعرکا وائیوا لیا جائے اور غور سے سنا جائے کہ کہیں وہ گلاب کو’غلاب‘ تو نہیں پڑھ رہا۔خیرخیریت کو’حیر حیریت‘ تو نہیں بول رہا۔جوبھی شاعر جملہ جرائم میں ملوث پایاجائے اسے سزاکے طورپر اس کے مخالف شعراء کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ اس کا بہترین گولا کباب بناسکیں۔میری تجویز ہے کہ سرکاری سطح پر’محکمہ انسداد بے وزن شاعری‘بھی قائم کیا جائے۔ جو شاعر نئے لڑکوں لڑکیوں کو اصلاح کے نام پر خود غزلیں لکھ کردیتے ہیں انہیں واچ لسٹ میں ڈالاجائے۔جو شاعر مشاعرے میں بہترین ڈرامہ بازی کیساتھ اشعار سنائیں اُنہیں پرائیڈ آف’پرفارمنس‘دیا جائے نیز مشاعرے میں پانچ سے زیادہ اشعار سننے پر پابندی ہواور اُن شاعروں کے سرپر جلادکھڑاکیا جائے جو پڑھتے تو پانچ شعروں کی غزل ہیں لیکن ایک ایک شعر دس دفعہ دہراتے ہیں تاہم اُ بھرتی ہوئی شاعرات کو اس حوالے سے خصوصی استثنیٰ ہوناچاہیے۔پانچ غزلوں کے بل بوتے پر پانچ ہزار مشاعرے پڑھنے والوں کوبھی انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور جو لوگ غزل سنانے سے پہلے دو شعر سناتے ہیں ان کانام تو ہر مشاعرے کی ای سی ایل (اینٹرکنٹرول لسٹ) میں ڈال دینا چاہیے۔جس طرح شاعر کسی کالم نگار کو شاعر تسلیم نہیں کرتے اسی طرح شاعروں کو بھی کالم نگاری سے روکنے کے لیے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اورایسی قانون سازی کی جائے کہ شاعری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد بھی اگر کوئی کالم نگاری میں بھی منہ مارتا پکڑا جائے تو اس پرپیکا ایکٹ کانفاذ ہوسکے۔یہ چند بے ضررسے اقدامات یقیناََ معاشرے میں بہترین شاعری ا ور ادب کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
مجھے ہمیشہ اُس پر حیرانی ہوتی تھی۔جب بھی کبھی دوست آپس میں پیسے ملا کرکچھ اچھا کھانے کا پلان بناتے وہ چپکے سے کوئی بہانا بنا کر نکل جاتا۔پہلے تو ہمیں لگا کہ شائد اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن دوتین دفعہ جب اس نے کسی وجہ سے اپنا بٹوہ کھولا تو اس میں ہزار ہزار کے چھ سات نوٹ نظر آئے۔یہ پچیس تیس سال پرانی بات ہے اور تب پانچ ہزار کا نوٹ ابھی منظرعام پر نہیں آیا تھا۔ دوستوں میں چونکہ کوئی تکلف نہیں ہوتا اس لیے ایک دن ایک دوست نے جھپٹا مار کر اس کا پرس چھین لیا اور اُس میں سے نوٹ نکال کر لہراتے ہوئے بولا ’پیسے تو تمہارے پاس ہوتے ہیں پھر شیئر کیوں نہیں کرتے؟‘۔ا س کے چہرے پر یکدم ہوائیاں سی اڑنے لگیں۔گھگھیا کر بولا ’پلیز پرس واپس کردومیں اس میں سے کوئی نوٹ خرچ نہیں کرسکتا‘۔ کچھ دیر تو سب خاموش رہے پھر یکدم یہ خیال آیا کہ ہوسکتا ہے بیچارے کے پاس یہ پیسے کسی اور کے ہوں۔ یہ سوچتے ہی دوست نے اُسے بٹوہ واپس کردیا اور وجہ پوچھی۔ اُس نے سکون کا سانس لیا او ربٹوہ احتیاط سے واپس جیب میں رکھتے ہوئے بولا ’بندھا ہوا نوٹ کھلاکروالیں تو وہ خرچ ہوجاتاہے‘۔آج برسوں بعد بھی وہ اسی معاشی استحکام کے کلیے پر کاربند ہیں اور مجھے شک ہے کہ ان کے پاس کئی نوٹ تیس سال پرانے بھی ہوں گے۔اس طرح کے کئی لوگ ہیں جنہیں یہ بھی لگتاہے کہ پیسے گننے سے کم ہوجاتے ہیں۔یہ ساری زندگی پیسوں کوسینے سے لگا کر جیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بہت بڑی بچت کر رہے ہیں حالانکہ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کا بچایا ہوا پیسہ اپنی ویلیو کم کرتاچلاجاتاہے۔اِن صاحب نے اسی طرح کے محتاط اقدامات کے نتیجے میں سب دوستوں سے کہیںپہلے اپنا ایک پانچ مرلے کا مکان بنا لیا تھا۔آج بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ بیس سال تک ہم لوگوں نے عید پر بچوں کے کپڑے نہیں خریدے، کوئی فضول خرچی نہیں کی، گرمیوں میں ایک پنکھاچلایا، ایک دن کیلئے بھی سیرو تفریح پر نہیں گئے، کبھی باہر کا کھانا نہیں کھایا اور پیسہ پیسہ جوڑ کر بالآخراپنا مکان بنا لیا۔ان کا ایک بیٹااورایک بیٹی تھے، بیٹا بیرون ملک نوکری کرتا ہے اور وہیں سیٹل ہوچکا ہے۔ بیٹی کی شادی ہوچکی ہے اور یہ دونوں میاں بیوی ایک کمرے تک محیط ہوکرر ہ گئے ہیں۔پیسہ ہونے کے باوجود انہیں کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ اب انہیں زندگی سے بھرپورکچھ بھی اچھانہیں لگتا۔ انہوں نے صرف مکان ہی بنایا ہے۔اب اُن کا داماد اُس خوشگوار دن کے انتظار میں ہے جب وہ اس مکان میں رہے گا۔