• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کی دھمکی، کیا یہ ممکن ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد میں جَلد آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دے دوں گا۔

عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیویارک میں پولیس اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی پہلے ہی موجود ہے اور کوئی جہاز وہاں سے نہیں گزر سکتا جب تک ہم اجازت نہ دیں۔

عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق بعض جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’بکواس‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہ کسی سوشل میڈیا پیغام، نہ طیارہ بردار بحری جہاز، نہ حکم نامے اور نہ ہی انتخابی تقریر کے ذریعے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پہلے بھی ایران کی قبضے میں تھی اور اب بھی اس پر ایران کا قبضہ ہے اور آئندہ بھی ایران کا ہی قبضہ رہے گا۔

ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے جبکہ تہران نے عمان کے ساتھ بحری آمد و رفت کے انتظام سے متعلق مذاکرات بھی شروع کر رکھے ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مذاکرات جَلد نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں تاہم آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو جون میں طے پانے والی مفاہمت کے تحت بحری ناکہ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

کیا امریکا آبنائے ہرمز کو اپنا علاقہ بنا سکتا ہے؟

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی قانون اور امریکی آئین کے تحت صرف امریکی صدر کے اعلان سے کسی علاقے کی خودمختاری امریکا کو منتقل نہیں ہو سکتی۔

امریکی آئینی ماہر بروس فین کے مطابق کسی علاقے کو امریکا میں شامل کرنے کے لیے سینیٹ سے منظور شدہ معاہدہ یا باقاعدہ قانون درکار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز پر قبضہ بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت جارحانہ جنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی ماہر نٹالی کلائن کا بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دعوے کی محدود قانونی گنجائش صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے جب امریکا ایران یا اس کے ساحلی علاقوں پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کر لے اور قابض طاقت کی حیثیت سے آبنائے ہرمز پر اختیار قائم کرے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، اس کے تنگ ترین مقام پر چوڑائی تقریباً 21 بحری میل ہے جبکہ دونوں ممالک کی علاقائی سمندری حدود 12، 12 بحری میل تک پھیلی ہوئی ہیں اور ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔

رپورٹ کے مطاب اگرچہ امریکا اور ایران نے سمندر کے قانون سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن کی توثیق نہیں کی ہے تاہم اس کے تحت بین الاقوامی آبناؤں سے متعلق کئی اصول عالمی سطح پر رائج بین الاقوامی قانون کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ 

کنونشن کے مطابق ساحلی ریاستوں کو اپنے علاقائی سمندری حدود پر خود مختاری حاصل ہوتی ہے تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو مخصوص حالات میں پرامن گزرگاہ کا حق بھی حاصل ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کا ایک بڑا مقصد امریکی عوام خصوصاً اپنے سیاسی حامیوں کو پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے قطر کیمپس کے ماہر پال مسگریو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اکثر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، ان کے بیانات کو سنجیدہ لینا چاہیے مگر ہر بات کو لفظی طور پر حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

دوسری جانب ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکا میں بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

حالیہ رائے شماری کے مطابق صرف 35 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ امریکی میڈیا نے ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی کی بھی نشاندہی کی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4 ڈالرز فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جنگ کے دوران انتظامیہ کی اولین ترجیح بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں پر قابو پانا ہے جبکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اس کے بعد آتا ہے۔

رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آبنائے ہرمز پر قبضہ یا اسے امریکی علاقہ قرار دینا عملی اور قانونی دونوں اعتبار سے انتہائی مشکل ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں پسپائی یا شکست کا تاثر دینے کے لیے تیار نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید