روسی صدر ولادیمیر پیوٹن گزشتہ روز تین روزہ دورے پر بھارت پہنچے جہاں وہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیوٹن سخت سیکیورٹی کے حصار میں بھارت پہنچے، ان کے بیڑے میں ایک ہی جیسے 2 خصوصی طیارے شامل تھے جنہوں نے بیک وقت پرواز کی تاکہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ روسی صدر کس طیارے میں سوار ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماسکو یہ حفاظتی حکمتِ عملی بیرون ملک دوروں کے دوران استعمال کرتا رہا ہے۔
ولادیمیر پیوٹن کا خصوصی طیارہ روسی ساختہ الیوشن آئی ایل-96-300 پی یو کا انتہائی جدید اور محفوظ ورژن ہے جسے ’اڑتا ہوا کریملن‘ اور ’ڈومز ڈے طیارہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ طیارہ ہنگامی حالات میں روسی صدر کے لیے ایک مکمل متحرک کمانڈ مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے، اس میں خفیہ مواصلاتی نظام موجود ہیں جن کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے فوج، انٹیلیجنس اور حکومتی اداروں سے محفوظ رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
پیوٹن کے طیارے میں ریڈار کو جام کرنے والی ٹیکنالوجی، جدید دفاعی نظام، سیٹلائٹ رابطے اور محفوظ ریڈیو و ڈیٹا نظام بھی نصب ہے۔
طیارہ تقریباً 11,000 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے، اس کی لمبائی 55.35 میٹر اور پروں کا پھیلاؤ 60.12 میٹر ہے۔
سیکیورٹی کے علاوہ طیارے میں شاہانہ سہولتیں بھی موجود ہیں جن میں صدر کے لیے نجی کمرہ، بیڈروم، شاندار غسل خانے، نجی باورچی خانہ، ڈائننگ ایریاز اور اجلاس کے لیے بڑا کانفرنس روم شامل ہے۔
طیارے میں سنہری رنگ کی تزئین و آرائش، قیمتی لکڑی اور اعلیٰ معیار کے چمڑے کا استعمال کیا گیا ہے۔