السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
شہزادے نے قبضہ جما رکھا تھا
’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیر احمد خلیلی اور ڈاکٹر سکندر اقبال کے مضامین بہت پسند آئے، انتہائی شوق سے پڑھے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے تین بڑوں کی ملاقات پر شان دار تجزیہ پیش کیا، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں سلیم عشرت کا افسانہ ’’یونی ورسٹی روڈ‘‘ پسند آیا، ڈاکٹر قمر عباس بھی ’’عطائے یزداں‘‘ کے ساتھ موجود تھے۔ ویسے ڈاکٹر صاحب کا کافی عرصے سے کوئی مضمون پڑھنے کو نہیں ملا، کہاں غائب ہیں؟ اور آج تو ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے راجا صاحب بھی غائب تھے، تب ہی تخت پر شہزادے صاحب نے قبضہ جما رکھا تھا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج:وہ پنجابی کی ایک خُوب صُورت کہاوت ہے ناں ’’دھن پربھانیاں نیں، جیہڑیاں سرہانےرکھ کے سوندیاں نیں‘‘تواِس کہاوت کے تناظر میں کہہ سکتے ہیں کہ واقعتًا اتنا ظرف راجوں، مہاراجوں، رانیوں، پربھانیوں ہی کا ہو سکتا ہے کہ وہ بعض اوقات خُود ہی دوسروں کے لیے جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔
صاف جواب ہے؟
مئی کا دوسرا شمارہ ماؤں کےعالمی دن کی مناسبت سے تھا۔ کسی نے کہا تھا۔ ’’بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے، ماں کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔‘‘ ماں وہ روشن چراغ ہے، جو زندگی کے گہرے اندھیرے میں بھی اُمید کی راہ دکھاتا ہے، خاندانوں کے عالمی دن پر حافظ بلال بشیر کی خصوصی تحریر پڑھنے لائق تھی۔ ایک مضبوط خاندانی نظام ہی مثالی معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاہم، گزرتے وقت کے ساتھ یہ نظام کم زور پڑ رہا ہے اوراس کی ایک وجہ بدلتی روایات بھی ہیں۔
آج جوائنٹ فیملی سسٹم اس لیے بھی دَم توڑرہا ہےکہ نئی نسل کی پرائیویسی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ مدرز ڈے پر رابعہ فاطمہ نے ایک اہم موضوع پر قلم اُٹھایا، یعنی ’’چین کا تولیدی روبوٹ‘‘۔ تاہم، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سائنس جتنی بھی ترقی کرلے، قدرت سے کبھی نہیں جیت سکتی، یہ ٹیکنالوجی کبھی ماں کی متبادل نہیں ہوسکتی۔ علمی و ادبی گھرانے کی چشم و چراغ سلیمہ ہاشمی کی زندگی پر رحمان فارس نے بہت عُمدہ لکھا۔
واقعی بقول رائٹر ’’انہوں نے فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کے اعزاز ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس گھنے چھتنار درخت تلے اپنے برگ و بار الگ نکالے۔‘‘ اندرونی صفحات پر پاکستان خواتین کرکٹ کے اہم نام، بسمہ معروف سے بطورماں گپ شپ دل چسپ رہی۔ آپ کی تحریر اب خاص خاص مواقع ہی پر پڑھنے کو ملتی ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ پر عالیہ توصیف نے ’’ایک بات‘‘ کی صُورت بہت اہم اور گہری بات کہی۔
جس طرح ہم اپنی اولاد کی بار بار پوچھی گئی بات پر بھی الجھتے نہیں بلکہ مسکرا دیتے ہیں، ہمارے بزرگوں کو بھی ہمارے ایسے ہی رویوں کی ضرورت ہے اور دنیا کا سب سے آسودہ انسان وہی ہے،جس کے پاس وقت آخر وقت کوئی بڑا پچھتاوا نہ ہو۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں آپ نے تمام لکھنے والوں کو جواب سے نوازا، سوائے ہمارے، ہم بھی آپ کے جواب کے لیے ہی خط لکھتے ہیں، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ہمیں صاف جواب ہے۔ ازراہ تفنن لکھ دیا، ورنہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ کسے، کیسے جواب سے نوازا جانا چاہیے۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: کسی خط میں کوئی جواب طلب بات ہو، تو ضرور جواب دیا جاتا ہے اوراِس ضمن میں قطعاً کوئی تخصیص نہیں برتی جاتی۔
ناچیز کے خط کی تعریف
اِس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ ارسالِ خدمت ہے۔ دونوں میں متبرّک صفحاتِ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘موجود تھے، شکریہ۔ ’’متحدہ عرب امارات کا اوپیک کو الوداع‘‘ اللہ کرے، اِس فیصلے سے مسلم اُمّہ کو فائدہ ہو۔ ’’لبنان ایک لہولہان سرزمین‘‘ اس مُلک میں نہ جانے کب پھول کِھلیں گے، کب امن وامان ہوگا، کب یہ لوگ سکون کا سانس لیں گے۔ ’’خاندان، عدم مساوات اوربچّوں کی بہبود‘‘ عُمدہ کاوش تھی۔
خاندانی نظام واقعتاً ایک شان دار نظام ہوتا ہے، جس میں کسی بھی ایمرجینسی کی صُورت میں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، یہ نظام ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ ’’چین کا تولیدی روبوٹ‘‘ سائنس ہمیں اب اور کیا کچھ دکھائے گی۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں سلیمہ ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی کے خاکے پڑھ کر بہت لطف آیا۔ اس شمارے میں ماؤں سے متعلق بہت کچھ لکھا گیا، ’’مدرز ڈے اسپیشل پارٹ ٹو‘‘ لگ رہا تھا۔
’’کام یاب ممتا سے بنگال چھین لیا‘‘، اچھا تحقیقی مضمون تھا۔ ویسے ہندو بنیا سازشوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اور یہ بھی واقعتاً سوچنے کی بات ہے کہ ’’مسلم دنیا ہی تنازعات کی لپیٹ میں کیوں؟‘‘ ’’اس ہفتے کی چٹھی‘‘ کا اعزاز پروفیسر سید منصورعلی خان نے سمیٹا اور خط میں ناچیز کے خط کی تعریف بھی کی۔ پروفیسر صاحب کا بہت بہت شکریہ۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول پور)
ج: پروفیسر صاحب اللہ لوک آدمی ہیں۔ وہ ’’چیز‘‘، ’’ناچیز‘‘ کی کسی تخصیص کےبغیر ہی محبتیں خوشیاں، تعریفیں بانٹتے رہتے ہیں۔
سب سے زیادہ پسند آیا
آج پہلی مرتبہ آپ سے ’’نصف ملاقات‘‘ کا شرف حاصل کررہی ہوں۔ ثانیہ انور نے ’’عالمی یومِ والدین‘‘ کی مناسبت سے اپنے مضمون میں والدین اور اولاد کی آراء کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ معاشرتی تبدیلیوں کے تناظر میں والدین اور اولاد کا اپنے رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون بھی ناگزیر ہے۔
تحریر کا لبِ لباب کچھ یوں تھا کہ ’’کوئی فرد کچھ بھی نہیں ہے، مگر آدھا باپ اور آدھا ماں۔‘‘ جہاں ماں کے پاؤں تلے جنّت کی بشارت ہے، وہیں باپ کو جنّت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے اوردونوں کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوش نودی ہے۔ پورے جریدے میں مجھے یہ مضمون سب سے زیادہ پسند آیا، اس لیے تبصرہ نگاری کےلیے اِسی ایک تحریر کا انتخاب کیا ہے۔ خط شاملِ اشاعت ہوا، تو آئندہ دیگر مندرجات پر بھی بات ہوگی۔ (ملائکہ صدیق مقبول، گلی قصوریاں، اندرون بھاٹی گیٹ، لاہور)
ج: خوش آمدید، اُمید ہے، آئندہ دیگر مندرجات کا نہ صرف مطالعہ کریں گی بلکہ اُن سے متعلق اپنی بے لاگ رائے کا اظہار بھی فرمائیں گی۔
ایک نقطے نے محرم سے مجرم
میرا نام ’’صفدر‘‘حضرت علیؓ کا لقب ہے اور میرا تخلص ’’صفی‘‘ بھی حضرت علیؓ کا صِفاتی نام ہے۔ نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ نام کا اثر شخصیت پر پڑتا ہے، اگر آپ بھی اپنے نام کا مطلب بتا دیں تو بڑی خوشی ہوگی، آپ کی تحریر پڑھ کر اپنی بیٹی فاطمہ صفدر یاد آجاتی ہے، جس نے حال ہی میں پنجاب یونی ورسٹی سے بی ایس کیمسٹری کیا ہے۔
الحمدُللہ، مَیں نے اپنے شاگردوں کی تربیت سنّتِ رسولؐ کے مطابق ہی کی ہے اور آپ بھی سنڈے میگزین شائع کر کے قلم سے جہاد کررہی ہیں۔ بخدا یہ جریدہ پڑھ کر ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ ویسے میں بچے، بچیوں کے رشتے بھی کرواتا ہوں، چار بیوہ عورتوں اور ایک کینسر کے مریض کی کفالت کرتا ہوں، وہ کیا ہے کہ ؎ ہم دُعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے…ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا۔
اور ہاں، اگر آپ موسمِ سرما میں حاصل پور تشریف لائیں، تو مَیں اپنی بیٹی کو اپنی بیوی کے ہاتھ کا پکا ہوا ساگ، مکئی کی روٹی، مکھن، سوہن حلوا اور السی کی پنیاں کِھلاؤں گا اور اگر زندگی رہی تو عیدالفطر پر اپنی بیگم کے ہاتھ کا سِلا ہوا سوٹ بطور عیدی بھی پیش کردوں گا۔ (ماسٹر صفدر حسین صفی، بستی نیامت، حاصل پور، ضلع بہاول پور)
ج: اِس ’’آپ کے صفحہ‘‘ کے توسّط سے ہمیں بارہا ایک منفرد تجربہ یہ بھی ہوا کہ ہم نے جس کی جی جان سے ’’عزت افزائی‘‘ کی، بجائے اس کے وہ بُرا مناتا، پیشانی شکن آلود ہوتی، الٹا ’’شکر ونڈا رے‘‘ سا رویہ دیکھنے میں آیا، بہرکیف، آپ کی تمام تر پیش کشوں کا بےحد شکریہ۔
آپ صرف اتنی مہربانی کریں کہ اِس صفحے کا فارمیٹ فالو کرنا شروع کردیں۔ رہا ہمارا نام، تو اُس کے معنی پھول ہی کے ہیں۔ ’’نرگس کا پھول‘‘ بس نرگس اور نرجس میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ نرگس کا معرّب ہے، مطلب عربی زبان میں نرگس کو ’’نرجس‘‘ کہا جاتا ہے۔
فوری تدارک، وقت کی ضرورت
سلام مسنون! اس ہفتے کا ’’سنڈے میگزین‘‘ پورے کا پورا ہی لاجواب تھا۔ ’’شہادتِ امامِ عالی مقام، نواسہ رسولؐ، جگر گوشۂ بتولؓ، حضرت امام حسینؓ ‘‘، ’’خورشیِد آسمانِ ادب، ڈاکٹر خورشید رضوی‘‘ اور فادر ڈے کی مناسبت سے متنوّع تحریریں انتہائی پُراثر اور باکمال ہیں۔ علاوہ ازیں، ڈاکٹر سکندر اقبال کی تحریر ’’منشیات کا بڑھتا رجحان‘‘ تو بہت ہی معلوماتی اور فکرانگیز لگی۔
سخت افسوس کا مقام ہے کہ گلی محلوں، پارکس اور اہم شاہ راہوں سمیت تعلیمی اداروں میں منشیات کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس علت کا فوری تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نوجوان نسل کو اس لعنت سے چھٹکارا پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)
ج: آمین، ثم آمین۔
بین لگا ہوا ہے
عرصہ چھے ماہ بعد ہم شیرہ کے گھر پنڈوری خورد علی پور، ضلع وزیر آباد آیا ہوں اور ’’میگزین‘‘ بھی میرے ساتھ ہی آیا ہے۔ یہاں دیہی ماحول ہے۔ دُورمشرق میں سورج کرنیں بکھیر رہا ہے۔ فضاؤں، ہواؤں میں مٹّی کی سوندھی سوندھی سی مہک رچی بسی ہے۔ مطلب، حُسن تو حُسن ہے، ہر رنگ میں اِتراتا ہے۔ سرِورق کی ماڈل معصوم صُورت، لچھے دار بالوں، جھیل سی گہری نیلی آنکھوں اور اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت اِترائی اِترائی کھڑی تھی۔
گلابی روشن چہرہ چمک رہا تھا اور گلے میں بطخ والا لاکٹ بھی دمک رہا تھا۔ اِس سے زیادہ بات نہیں کرتے کہ ہم پر بین جو لگا ہوا ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر شائستہ اظہر نے لکھی اور باکمال لکھی، اُس پر فیض کی شاعری کا تڑکا کہ ؎ جیسے بیمار کو بےوجہ قرار آجائے۔ اے کاش! ہمارا جریدہ اتنا چُنّا مُنّا سا نہ ہوتا، ’’اخبارِجہاں‘‘ جیسا ضخیم ہوتا۔ خیر، دیگر نگارشات میں نفرت انگیز گفتگو کے خاتمے کے یوم کے حوالے سے ثانیہ انور کی تحریر انتہائی جامع اور معلوماتی تھی۔
وہ کیا ہے کہ ؎ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو… ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں۔ نائلہ روبی کا افسانہ ’’پُل صراط‘‘ بھی منفرد، لاجواب تھا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے عنوان تلے سب ہی کہانیاں دل چُھو لینے والی تھیں۔
زویا نعیم، مصباح طیب، بابر سلیم خان اور ذکی طارق کی تحریروں نے بھی متاثر کیا اور اب بات ہوجائے، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی۔ چمکتے، دمکتے ستاروں کی محفل ہمارے بغیر بھی خُوب سجی سنوری ہوئی تھی، مسرت کی بات یہ رہی کہ ٹیکساس سے قرأت نقوی تشریف آراء تھیں۔ دُعاگو ہوں، قرأت کو اِک اِک قدم ہزار، ہزار خوشیاں نصیب ہوں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکّی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: بین لگا ہوا ہے، تو یہ حال ہےکہ 80 فی صد خط ماڈلنگ ہی کے ارد گرد گھومتا ہے، بین ہٹ گیا تو پھر تو شاید ناچ ناچ کے گھنگھرو ہی توڑ ڈالیں۔
فی امان اللہ
شمارہ موصول ہوا، سرِورق پر قوسِ قزح سی اوڑھنی دیکھتے محمود میاں نجمی کے صفحے پرآگئے، جہاں وہ سہل انداز میں فریضۂ حج کےاحکامات اورارکانِ حج کی تفصیل، ترتیب وار بیان کر رہے تھے۔ منیر احمد خلیلی بنگال الیکشن میں مودی کی الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کی جانے والی دھاندلی کی تفصیلات سامنے لائے۔ ہمارے یہاں توصرف دھاندلی ہوتی ہے، وہاں تو’’دھاندلا‘‘ہوگیا کہ دنیا میں کہیں بھی لاکھوں ووٹرز کو الیکشن لسٹ سے خارج نہیں کیاجاسکتا۔
مودی نےجمہوریت کا چہرہ سیاہ کرکے دراصل اپنے ہی چہرے پر کالک مل لی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوری اسٹیٹ کو آمریت کی گندگی سے آلودہ کردیا۔ایک عورت (ممتا بینرجی) کا اتنا خوف کہ ریاست کی پوری طاقت اُس کے خلاف لگا کے الیکشن کمیشن کو ربر اسٹمپ بنا دیا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال بقرعید کی مناسبت سے صحتِ عامہ کے مسائل پرتوجّہ دلا رہے تھے، مگر بلدیہ کے ذمّےداران کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی،وہی گھسے پٹے طریقے سے کام جاری رہتا ہے۔
منور مرزا شکوہ کُناں تھے کہ آخر مسلم دنیا ہی تنازعات کی لپیٹ میں کیوں؟ تو اُن ہی کے تجزیے کے مطابق آپس کی لڑائیاں، اقتدار کی ہوس، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ہی ذمّےداری کی بنیادیں ہیں۔ یورپ ہی سے سبق سیکھتے کہ دو عالمی جنگوں میں کروڑوں افراد بھینٹ چڑھانے کےبعد اب اتفاق واتحاد کا مضبوط نظام قائم کرلیا اور ترقی یافتہ بھی ہوگئے۔
بقول علامہ اقبالؒ ؎ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے…نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر۔ رحمان فارس سابق وزیر ِاعظم یوسف رضا گیلانی کا منفرد خاکہ لیےآئے۔ اُن کے سیاسی کردار سے تو واقف ہی تھے، نجی زندگی کے کئی اچھوتے پہلوؤں سے بھی آگہی ہوئی۔ شائستہ اظہرنےحسبِ معمول اچھا رائٹ اَپ تحریر کیا۔
ڈاکٹر محمد ریاض علیمی تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کا نوحہ پڑھ رہے تھے، تعلیم ہی دو نمبر ہوجائے تو قومی ترقی کا خیال ہی ترک کردینا چاہیے، اکبراللہ آبادی تو فرعون پر افسوس کررہے تھے کہ اُسے کالج کی کیوں نہ سوجھی، مگر اب جو کالجز پر بوٹی مافیا قابض ہے، تو اس کا گلہ کس سے کریں، امجد سعید نے کمالیہ سے چیچہ وطنی/ رجانا تک ون وے روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال احتیاط ہی کوامراض سے بچاؤ کی تدبیر بتا رہے تھے۔
اختر سعیدی کے تبصرے پر کیا تبصرہ کریں۔ افشاں نوید طلاق کے نتیجے میں معصوم بچوں پر ٹوٹنے والی قیامت کا المیہ بیان کررہی تھیں۔ پروفیسرڈاکٹر محمّد سہیل شفیق نے نظام الملک طوسی کے کارناموں کی تفصیل گوش گزار کی۔
طلعت عمران نے پیاری ماؤں کے نام پیغامات نہایت عمدگی سے مرتب کیے اور پیارےصفحے پر پہلی چٹھی کےحق داربزرگ پروفیسر سید منصورعلی ٹھہرے، جنہوں نے دوسرے خطوط نگاروں کے ساتھ ہمیں بھی دُعاؤں میں یاد کیا، ازحد شکریہ۔
گوشہ برقی خطوط
* بعد ازسلام عرض یہ کرنا تھا کہ سنڈے میگزین اچھا خاصا رسالہ تھا، آپ نے اس کو کیا سے کیا کردیا ہے۔ ہماری دل چسپی کی تمام چیزیں ایک ایک کرکے ختم کرکے آپ نے نہ جانے ہم سےکون سابدلہ لیا ہے۔ایک آخری پسندیدہ صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ تھا، اسے بھی یک سر’’فراموش‘‘ کردیا گیا ہے۔ آخرکیوں؟ (پرنس علی، کراچی)
ج: جب جنّات، بھوت پریت کے جھوٹے سچّے قصّے کہانیوں کے سوا کوئی تحریر موصول ہی نہیں ہوگی تو آپ ہی بتائیں، صفحے پہ کیا لگائیں۔ کبھی کبھارکوئی واقعتاً ناقابلِ فراموش، سبق آموز واقعہ وصول پا جاتا ہے، تو صفحہ شیڈول کربھی لیا جاتا ہے۔
* سنڈے میگزین کی تعریف میں روایتی جملے کیا لکھوں کہ وہ تو حقیقت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکپن بلکہ بچپن ہی سے اِسے پڑھتی چلی آرہی ہوں اور اب کچھ تھوڑا بہت لکھنا بھی شروع کیا ہے، یہ ہی کوئی دو تین سال قبل سے۔ ارے ہاں، پچھلے دنوں برقی خطوط میں اپنے نام سے ایک ای میل دیکھی تو پڑھ کے حیران پریشان ہی ہوگئی کہ ہائے اللہ! ناچیز نے تو کبھی ایسی کوئی ای میل کبھی کی ہی نہیں۔ (ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، ملیر، کراچی)
ج: ہاں پچھلے دنوں ایسا ہوا۔ وہ دراصل کوئی بےنام ای میل تھی، مگر تمھارے طرزِ تحریر کے مغالطے میں سہواً اس کے ساتھ تمھارا نام چلا گیا۔
* ’’عوام کی تعظیم و احترام اور ہائی پیشیا آف اسکندریہ کا قتل‘‘ مضمون میں زبیر انصاری نے معاشرے کے سچے جذبات کو بہت شفّاف انداز میں پیش کیا۔ اِس کاوش پر اُنھیں مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میرے خیال میں تو معاشرتی سدھارکے لیے جریدے میں ایسی تحاریر وقتاً فوقتاً شایع ہونی چاہئیں۔ (فصاحت مسیح ہدایت)
ج: اکثر و بیش تر شایع کی ہی جاتی ہیں کہ خُود ہمارا مِشن بھی معاشرتی سدھار و سنوار ہی ہے۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk