• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائدِاعظم محمّد علی جناحؒ کی شخصیت، ذہانت و مستقل مزاجی کا بہترین امتزاج تھی۔ ایک ایسااعلیٰ مدبّرودانش وَر، جو اپنے اوصاف اور جوہر دِکھانے کے لیے گویا کسی مناسب وقت اور موقعے کا منتظر تھا۔ ہندوستان کے عظیم مسلمان مفکّر اور رہنما سرسیّد احمد خاں کے بعد ملّت کی تنظیم اور مقاصد و نصب العین کی تکمیل کے لیے قدرت نے قائدِ اعظم کی صُورت ایک ایسے صاحبِ نظر رہنما کو منظر پر نمایاں کیا، جس کی استقامت اور مثالی صلاحیتوں نے مسلم ملّت کے اُس خواب کو، جسے اُس کے اکابرہندوستان میں ایک آزاد اسلامی مملکت کی تشکیل کی صُورت دیکھتے آئے تھے، عملی شکل دینے کے لیے انتہائی مستعدی اور سرگرمی کا ثبوت دیا۔

قائدِاعظم 1906ء میں برِعظیم کی سیاسی دنیا میں قدم رکھ کر پہلی مرتبہ منظرِعام پر نمایاں ہوئے اور پھر 1947ء تک انھوں نے مستقل جدوجہد، دورُ اندیشی ، جرأت مندی اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال قائم کی۔ یہ عرصہ بڑے نشیب و فراز اور کشمکش واضطراب کاتھا۔

مسلمان ایک طرف برطانوی حکومت کی بے توجہی اور ظلم وزیادتی کا شکار تھے تو دوسری طرف ہندوؤں کی نفرت ومخالفت اوران کی مسلم دشمن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کی مخالفانہ تحریکوں اور مسلم کُش فسادات کے نرغے میں تھے۔

قائدِاعظم نے اپنی اعلیٰ بصیرت اورغیر معمولی قائدانہ صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے منتشرو مضطرب مسلمانوں کو متحد و منظّم کرنے میں بالآخر کام یابی حاصل کی اور ملتِ اسلامیہ کو اُس منزل تک پہنچایا، جو اس کے لیے ایک معیّنہ مقدرکی مثال تھی۔ ایسا بھی نہیں کہ قائدِاعظم ہمیشہ ایک ہی راستے پر چلے ہوں، پہلے پہل وہ ہندو، مسلم اتحاد کے سے بھی مایوس نہیں تھے۔

انھوں نے1916ء میں مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان اس معاہدے کی تشکیل میں جو’’میثاقِ لکھنو ٔ ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ معاہدہ خالصتاً اُن کی نیک نیتی پر مبنی تھا کہ وہ دل سے سمجھتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کے ذریعے جلد آزادی ممکن ہوسکے گی۔ لیکن جب کانگریس نے معاہدے پرعمل نہ کیا کہ اُس موقعے پر وہ مکمل آزادی کی قائل بھی نہیں تھی تو قائدِاعظم کانگریس کے اس رویّے سے خاصے مایوس ہوئے۔

پھر جب مسلم دشمن تحریکیں اور کوششیں شروع ہوئیں اور کانگریس نے مسلمانوں کے قومی وجود اور موقف کو قطعاً اہمیت نہ دی تو قائدِاعظم نے نہ صرف اس کی تحریکوں سے علیحدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کے قومی حقوق کے تحفّظ کے لیے اور زیادہ مستعد ہوگئے، جس کا اظہار’’نہرو رپورٹ‘‘ کے جواب میں ان کے پیش کردہ ’’چودہ نکات ‘‘سے بخوبی ہوتا ہے۔ بعدازاں،’’گول میز کانفرنس‘‘ اور 1935ءکے قانون کی اصلاحات کے جواب میں دیئے گئےان کے بیانات بھی برِعظیم کے مسلمانوں کے نقطۂ نظرکی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔

دراصل قائدِاعظم کے سامنے انگریزوں اور ہندوؤں دونوں کی مسلم دشمنی کے تمام پہلو واضح ہوچکے تھے۔ سو، اُن کی بیش ترکاوشوں کا مقصد ایک تیسری قوم یا قوت کےطور پر مسلمانوں کو تسلیم کروانا اور تحفّظ فراہم کرنا تھا۔ مسلمان چوں کہ ہر اعتبار سے ایک علیحدہ قوم تھے، تو قائدِاعظم کا یہی موقف تھا کہ اُنھیں ان کے مخصوص عقائد ونظریات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ 

اسی تناظر میں ان کی جدوجہد ایک مقررہ منزل کے حصول کی جانب بڑھتی رہی۔ متعّدد دشواریوں اور مخالفتوں کے باوجود انھوں نے نہ راستہ تبدیل کیا اورنہ ہی ہمّت ہاری۔ حالات کے بدلتے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کو متحد اور مسلم لیگ کومنظّم و فعال کرنے اور وسعت دینے کی ہرممکن سعی کی۔ وہ چوں کہ اپنی قوم کی نفسیات اور مخالفین کا مزاج بخوبی سمجھتے تھے، اس لیے اُنھیں سیاسی زندگی کے تمام مراحل و مقامات پرپوری گرفت حاصل رہی۔

وہ نامناسب وناسازگار حالات میں بھی نہایت خود اعتمادی، بلند حوصلگی اور یقینِ محکم کے سبب ناقابلِ تسخیر رہے۔ نیز،ان کا ایک بڑا کمال یہ بھی تھا کہ وہ یہ اوصاف اپنی قوم میں بھی پیدا کرتے رہے اور کسی حالت میں بھی قوم کودل گرفتہ ودل شکستہ نہیں ہونے دیا۔ محض اپنی فراست اور مستقل مزاجی کے سبب اپنے سے زیادہ طاقت ور دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے اور ایک عرصے تک مذاکراتی میزوں اور عملی سیاست کے میدان میں جنگیں لڑ کر کام یاب وکام ران بھی ہوتے رہے۔

بلاشبہ،قدرت نےقائدِ اعظم کو جن شخصی اوصاف سے نوازا، قائدِاعظم نے انھیں بہت مناسب انداز میں استعمال کرکے ان کے ذریعے قوم کو متحد و منظّم کرنے جیسا کارہائے نمایاں سرانجام دیا، یہاں تک کہ اسی سبب آج ہم ایک آزاد وطن میں سانس لینے کے حق دارٹھہرے۔