ہر سال دنیا بھر میں 23اگست کواقوام ِمتحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحت ’’غلاموں کی تجارت کے خاتمے‘‘ کی یاد میں ایک عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مذکورہ یوم منانے کی وجہ تسمیہ، مقصد اور تاریخی پس منظرکچھ یوں ہے کہ 22اور 23اگست 1991ءکی درمیانی شب سان دومنگو (موجودہ ہیٹی) کے جزیرے پر غلاموں کی ایک بڑی بغاوت شروع ہوئی، جس نے ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
بعدازاں، یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے اپنے 29ویں اجلاس میں اس امر کی منظوری دی اور اس تاریخی واقعے کو لوگوں کی یادداشت میں تازہ رکھنے کے لیے ہرسال23اگست کو ’’غلامی کے خاتمے کا عالمی دن‘‘ (International Day for the Abolition of Slavery) منانے کا اعلان کیا۔ اس دن صدیوں تک استحصال، قید اور ظلم کی چکّی میں پِسنے والے کروڑوں انسانوں کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ انسانی وقار کی بحالی کی جنگ لڑنے والے حریت پسندوں کی لازوال قربانیوں کو بھی یادکیا جاتا ہے، اور اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ جدید دَور میں بھی انسانی حقوق کی پامالی اور جبری مشقّت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔
ظہورِ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں غلامی ایک مضبوط معاشی اور سماجی نظام کے طور پر رائج تھی، غلاموں کو انسان کے بجائے محض مال اور مویشی سمجھا جاتا تھا۔ ان کی خرید و فروخت کی منڈیاں لگتی تھیں، جہاں انہیں جانوروں کی طرح بیچا اور خریدا جاتا۔ مالکان کو غلاموں کی جان اور مال پر مکمل ملکیت کا حق حاصل تھا۔ان سے سخت ترین جسمانی مشقت لی جاتی، لیکن کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا، کیوں کہ غلام اپنے آقا کے معاشی سرمائے کا حصہ ہوتے تھے، جنہیں رہن یا تحفے میں بھی دیا جا سکتا تھا۔
آقا کو غلاموں کو مارنے پیٹنے، سزائیں دینے اور ان پر ہر قسم کا ظلم و ستم ڈھانے کی مکمل آزادی تھی۔ تاہم، اشاعتِ دین کے بعد اسلام نے تدریجی حکمتِ عملی کے تحت غلامی کے پرانے ظالمانہ ذرائع پر پابندی عائد کرکے غلاموں کو انسانی حقوق دیے اور انہیں آزاد کرنے کو نیکی کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔
نیز، اصلاحی اقدامات کے بعد غلام بنانے کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے گئے۔ مگر موجودہ زمانے کے تناظر میں دیکھا جائے، تو انسانی حقوق کے اس دور میں بھی درحقیقت غلامی ختم نہیں ہوئی، بس اس نے کچھ نئے روپ دھار لیے ہیں، جن میں جدید استحصال، جبری مشقت اور معاشی شکنجہ سرفہرست ہیں۔ کم اجرت اور طویل اوقاتِ کارکی صورت معاشی جکڑ بندی جاری ہے، تو کارپوریٹ کلچر نے ملازمین کی ذاتی زندگیاں بری طرح متاثر کی ہیں۔
دراصل 1791ء میں فرانسیسی نوآبادی، سینٹ ڈومنگ میں شروع ہونے والی تاریخی بغاوت نے غلامی و محکمومی کے خلاف عالمی تحریک کو ایک نئی قوت بخشی۔ گرچہ غلامی کے خاتمے کے لیے اس سے قبل بھی مختلف مزاحمتی تحریکیں موجود تھیں، مگر ہیٹی کی یہ بغاوت تاریخ کا ایسا موڑ ثابت ہوئی، جس نے بالآخر بحرِ اوقیانوس کے پار جاری غلاموں کی تجارت کے خاتمے کی راہ ہم وار کی۔
اس بغاوت کی کام یابی کے بعد ہی یونیسکو نے اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انسانیت کو ماضی کی تلخ حقیقتوں سے سبق سیکھنے کی دعوت دی۔ یاد رہے،اٹھارہویں صدی میں سینٹ ڈومنگ کا شمار فرانس کی امیر ترین کالونیز میں ہوتا تھا۔ چینی، کافی، کپاس اور نیل کی پیداوار نے اس علاقے کو بے پناہ دولت بخشی، مگر اس خوش حالی کی بنیاد لاکھوں افریقی غلاموں کے خون، پسینے اور آنسوؤں پر رکھی گئی تھی۔
افریقا سے اغوا کیے گئے مردو خواتین اور بچّے زنجیروں میں جکڑ کر بحری جہازوں کے ذریعے امریکا اور کیریبین کے مختلف علاقوں میں لائے جاتے تھے، جب کہ ’’مڈل پیسج‘‘ کے نام سے مشہور اس سفر کے دوران لاکھوں افراد بیماری، بھوک، تشدّد اور غیر انسانی حالات کے باعث جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔
مؤرخین کے مطابق، بحرِ اوقیانوس کے سینے پر رقم ہونے والی غلامی کی یہ تاریک تجارت، نوعِ انسان کی تاریخ کا ایک لرزہ خیز اور سیاہ ترین باب ہے۔ اِس ہول ناک جبر کے نادیدہ طوفان میں کروڑوں بے گناہ افریقی باشندوں کو اُن کے آبائی گھروں، خاندانوں اور ثقافتوں سے بے دردی کے ساتھ نوچ کر الگ کیا گیا۔ انہیں محض ایک جنسِ تجارت سمجھ کر کھیتوں، کوئلے کی کانوں اور باغات میں جانوروں سے بدتر حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔
برطانیہ، فرانس، پُرتگال، اسپین اور دیگر یورپی طاقتوں نے اس تجارت سے بے پناہ دولت کمائی، لیکن غلاموں کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔ اگرچہ غلامی کا روایتی نظام قانونی طور پر تو دنیا کے بیش تر ممالک سے ختم ہوچکا، مگر بدقسمتی سے عملی طور پر اب بھی موجود ہے۔ آج غلامی لوہے کی زنجیروں اور بازارِ نیلامی کی روایتی صورتوں سے آزاد نظر آتی ہے، مگر یہ جدید معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کی تہوں میں کہیں زیادہ مکّارانہ انداز میں زندہ ہے۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اب عالمی ادارے اس پسِ دیوار نوآبادیاتی جبر کے لیے ’’جدید غلامی‘‘ اور ’’انسانی اسمگلنگ‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ انیسویں صدی میں شکاگو کے مزدوروں کی تاریخی جدوجہد اور مزدور تحریکوں نے دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار، اضافی کام کا معاوضہ، صحت اور سوشل سیکیوریٹی قوانین اور یونین سازی کے حقوق اسی جدوجہد کا نتیجہ ہیں، مگر ان تمام قانونی پیش رفت کے باوجود استحصال کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔
خلیجی ممالک میں رائج کفالت یا اقامہ سسٹم پر انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے تنقید کررہی ہیں کہ جنوبی ایشیا، افریقا اور دیگر ترقی پزیر خطّوں سے لاکھوں افراد بہتر روزگار اور روشن مستقبل کی امید میں وہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ متعدد واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ ملازمین کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں، ملازمت تبدیل کرنے یا مُلک چھوڑنے کی آزادی محدود کردی جاتی ہے،جب کہ بعض اوقات انہیں غیر انسانی حالات میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں کئی خلیجی ریاستوں نے اصلاحات متعارف کروائی ہیں، لیکن عملی سطح پر اب بھی بہت سے مزدور مشکلات اور استحصال کا سامنا کررہے ہیں۔
اسی طرح یورپ، امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی متعدد تارکینِ وطن جدید غلامی کا شکار ہیں، خصوصاً بہتر زندگی کی تلاش میں ڈنکی لگاکر سرحدیں عبور کرنے والے افراد ایسے آجروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، جو اُن کی غیر قانونی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں طویل عرصے تک کم اجرت پر کام کروایا جاتا ہے اور شکایت کی صورت میں حُکّام کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
اس طرح خوش حالی کا خواب دیکھنے والے بہت سے لوگ ایک نئے استحصالی چکّر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔پاکستان کے مروجّہ قوانین غلامی، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کی ممانعت کرتے ہیں،تاہم زمینی حقائق یہاں بھی ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ بھٹّوں کی تپش، کھیتوں کی جبری مشقّت، ورکشاپس کے اندھیرے اور قالین بافی کے تانے بانے اَن گنت بچّوں کی معصومیت نگل رہے ہیں کہِ ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی اینٹوں کے بھٹّوں، زرعی کھیتوں، ورکشاپس، قالین بافی، گھریلو صنعتوں اور دیگر شعبوں میں کم سِن بچّوں سے سخت مشقّت کروائی جاتی ہے۔
غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی لاکھوں خاندانوں کو ایسے حالات کی طرف دھکیل دیتی ہے کہ جہاں بچّوں کا بچپن، روزی روٹی کی نذر ہو جاتا ہے۔ بھٹّا مزدوروں کی زندگی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ پھر گھروں میں کام کرنے والی خواتین، کم عُمر بچیاں اور بعض اوقات مرد ملازمین بھی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔
کم اجرت، طویل اوقاتِ کار، جسمانی و ذہنی تشدّد اور قانونی تحفّظ کی کمی وغیرہ ان کے بڑے مسائل ہیں، جیسا کہ اکثر اخبارات میں گھریلو ملازمین پر تشدّد یا ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ سو،یہ تمام حقائق اس امر کے غماز ہیں کہ غلامی محض کسی کتابی یا قانونی ضابطے کا باب نہیں، بلکہ یہ نوعِ انسان کے ماتھے کا داغ، بنیادی استحقاق کا ایک ایسا درد ناک سوال ہے، جو ہر دَور میں انسانی ضمیرِ جھنجھوڑتا رہے گا۔
مذکورہ بالا تلخ حقائق کے ساتھ جدید غلامی کی ایک اور سنگین شکل ’’انسانی اسمگلنگ‘‘ بھی ہے۔جس کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں افراد جنسی استحصال، جبری مشقّت، جبری شادیوں حتیٰ کہ اعضاء کی غیر قانونی تجارت تک کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق، انسانی اسمگلنگ، دنیا کے منافع بخش جرائم میں شمار ہوتی ہے۔
مزید برآں، جنگیں، سیاسی عدم استحکام، غربت اور نقل مکانی کے بحران اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اِس لیے غلامی کے خاتمے کے طور پر منایا جانے والا یہ دن محض ایک یوم نہیں، اجتماعی احتساب کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلامی کے خلاف جدوجہد ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ناانصافیوں کے خلاف عملی اقدام کے علاوہ اس ضمن میں حکومتوں کا قوانین پر مؤثر عمل درآمد بھی بے حد ضروری ہے۔
تعلیم، آگاہی اور معاشی انصاف ہی وہ بنیادیں ہیں، جن پر ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جاسکتا ہے، جہاں کسی انسان کو دوسرے انسان کی ملکیت یا محض ایک معاشی وسیلہ نہ سمجھا جائے۔ سو، یہ ایک ایسا مشن ہے، جسے ہر نسل کو اپنے دَور میں آگے بڑھانا ہوگا۔ وہ شاعرِ مشرق، حضرت علّامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ ؎ غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں، نہ تدبیریں.....جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔