• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ثناء توفیق خان، ملیر، کراچی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں بارش جیسی عظیم نعمت بھی شامل ہے۔ قرآنِ کریم میں بارش کو ’’رحمت‘‘ قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ اس کے ذریعے مُردہ زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، درختوں پر نئی کونپلیں پُھوٹتی ہیں، شدید گرمی سے بےحال انسان، جانور اور پرندے رم جھم برستی بوندوں سے سکون پاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے قدرت نے ساری کائنات کو ایک نئی زندگی عطا کردی ہو۔

آمدِ برسات کے ساتھ ہی موسم خوش گوار ہوجاتا ہے۔ ٹھنڈی میٹھی ہوائیں جسم وجاں کو تازگی و طراوت بخشتی ہیں۔ ہرے بھرے پودے اپنی دِل کش رنگت سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں اور رنگ برنگے پُھول اپنی مہک اور خُوب صُورتی سے پوری فضا معطّر کردیتے ہیں، جب کہ درختوں پر بیٹھے پرندوں کی چہچہاہٹ قدرت کے حُسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔

یوں تو موسمِ برسات سبھی کے لیےخوشیوں کا پیغام لےکر آتا ہے۔ چہکتے مہکتے بچّے بارش میں نہانے، کاغذ کی کشتیاں بنا کر پانی میں بہانے اور پانی میں کھیل کُود سےخُوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مَن چلے نوجوان دوستوں کے ساتھ سیر وتفریح کے لیے نکل پڑتے ہیں جب کہ لڑکیاں اور خواتین گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں میں کھڑی ہو کر بارش کے حسین نظاروں اور فطرت کی خُوب صورتی سے خُوب محظوظ ہوتی ہیں۔

اس موقعے پر بادلوں کی گرج، بجلی کی چمک اور برکھا کی رِم جِھم ایک دِل کش منظر پیش کرتی ہے۔ نیز، ہمارے یہاں میگھ ملھار کا موسم لذیذ پکوانوں کے بغیر بھی ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ برسات کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں گرما گرم پکوڑے، خستہ سموسے، میٹھے مال پورے اور آلو کے مزے دار پراٹھے تیار کیے جاتے ہیں، جب کہ ان کے ساتھ چائے کی چسکیاں موسمِ برسات کا لُطف کئی گُنا بڑھا دیتی ہیں۔ اہلِ خانہ ایک جگہ بیٹھ کر خوش گوار ماحول میں ان نعمتوں سے لُطف اندوز ہوتے ہیں، جس سے محبّت و اپنائیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن بارش کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔ اگر بادل کچھ زیادہ دیر کے لیے برس جائیں اور نکاسیٔ آب کا مناسب انتظام نہ ہو، تو یہی رحمت، زحمت بن جاتی ہے۔ گلیاں اور سڑکیں برساتی پانی سے بَھرجاتی ہیں،راستےبند ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، کئی علاقوں میں سیوریج کا پانی بارش کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے، جس سے تعفّن پھیلتا ہے اور اس کےنتیجےمیں ڈینگی، ملیریا اور دیگر وبائی امراض جنم لیتے ہیں۔

اِسی طرح بعض اوقات موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِآب آجاتے ہیں اور پانی گھروں میں داخل ہوجاتا ہے، جس سے قیمتی گھریلو سامان اور برقی آلات وغیرہ خراب ہونے سے شہریوں کو خاصا مالی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ مزید برآں، بارش کی چند بوندیں پڑتے ہی بیش ترعلاقوں میں بجلی و گیس کی فراہمی معطّل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر ہوتے ہیں، نیز اربن فلڈنگ کے باعث طلبہ درس گاہوں اور ملازمت پیشہ افراد کام پر بروقت نہیں پہنچ پاتے اور ٹریفک جام، ٹُوٹ پُھوٹ کی شکار سڑکیں اور حادثات بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیتے ہیں۔

درحقیقت، ہم نے اپنے غفلت پرمبنی طرزِعمل اور بد انتظامی کی وجہ سےبارانِ رحمت کو زحمت میں تبدیل کردیا ہے۔ اگر انتظامیہ کی جانب سے موسمِ برسات کی آمد سے قبل ہی نالوں کی صفائی کی جائے، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام بنایا جائے، شہر کی صفائی سُتھرائی کا خاص خیال رکھا جائے، ٹُوٹ پُھوٹ کی شکار سڑکوں کی بروقت تعمیر ومرمّت کی جائے اور بارش کاپانی ذخیرہ کرنے کا مناسب بندوبست کیا جائے، تو اس بارش جیسی عظیم نعمت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔