• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ برف پوش پہاڑ، فلک بوس چوٹیاں، نیلگوں جھیلیں اور سرسبز وادیاں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں شمالی علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر اور بہتری نے نہ صرف سیاحت کو فروغ دیا بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی مضبوط کیا اور پاکستان کا ایک مثبت عالمی تشخص اجاگر کیا۔ تاہم، قدرتی حسن کیساتھ ساتھ پاکستان کے پاس ایک ایسا ثقافتی اور تاریخی سرمایہ بھی موجود ہے جو پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے، مگر بدقسمتی سے اسے وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔ یہ سرمایہ موہنجو داڑو ہے، جو دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک کی علامت ہے۔

موہنجو داڑو محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی انجینئرنگ، منصوبہ بندی اور شہری نظم و نسق کا ایسا شاہکار ہے جس نے پانچ ہزار سال قبل ہی دنیا کو جدید شہری زندگی کا تصور دیا۔ نکاسی آب کا مربوط نظام، معیاری اینٹوں سے تعمیر شدہ عمارتیں، باقاعدہ گلیاں، پانی کی مؤثر تقسیم اور شہری منصوبہ بندی کا ایسا نمونہ آج بھی ماہرین آثارِ قدیمہ، انجینئرز اور مورخین کو حیران کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔حالیہ برسوں میں ہونے والی سائنسی تحقیقات اور ریڈیو کاربن ڈیٹنگ نے موہنجو داڑو کی تاریخی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ نئی دریافتوں سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کے بعض حصے پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور اس کی حدود بھی ماضی میں سمجھی جانے والی وسعت سے زیادہ بڑی تھیں۔ افسوس کہ جب دنیا موہنجو داڑو کی نئی جہتیں دریافت کر رہی ہے، تو وہاں پہنچنے والے زائرین کو ایک ایسی سڑک ملتی ہے جو اس عالمی ورثے کی عظمت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ لاڑکانہ سے موہنجو داڑو تک 28کلومیٹر طویل نیشنل ہائی وے (N-155) اگرچہ 2014ءمیں دو رویہ شاہراہ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی، لیکن ایک دہائی گزرنے کے بعد اسکی مناسب بحالی اور دیکھ بھال نہ ہو سکی۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، مدھم لین مارکنگ اور ناقص سمتی رہنمائی ایک ایسے عالمی ورثے کی شان کے خلاف محسوس ہوتی ہے ۔یہ مسئلہ صرف ایک سڑک کی مرمت تک محدود نہیںبلکہ پاکستان کے عالمی تشخص سے بھی منسلک ہے۔ یہ تشویش اب محض کاغذی نہیں رہی۔ رواں سال ناروے اور لبنان سے آنے والے سیاحوں نے موہنجو داڑو کی طرف جانے والی سڑک کی خراب حالت اور واضح رہنمائی کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ایسے تاثرات کو تنقید نہیں بلکہ قیمتی فیڈبیک سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہی زائرین واپس جا کر پاکستان کے غیر رسمی سفیر بن جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں ایک منفی تجربہ چند لمحوں میں دنیا بھر کے ہزاروں ممکنہ سیاحوں تک پہنچ جاتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے شمالی علاقوں کے شاہراہی نیٹ ورک کی بہتری کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ بہتر سڑکوں نے وہاں سیاحت، مقامی معیشت اور عالمی تشخص کو نئی قوت بخشی ہے۔ یہی وژن اب موہنجو داڑو جیسے عالمی ثقافتی ورثے تک بھی توسیع پانے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ ایک متوازن قومی سیاحتی پالیسی قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتی۔اگر پاکستان واقعی عالمی سطح پر ایک ممتاز سیاحتی ملک بننے کا خواہاں ہے تو اسے اپنے تاریخی ورثے کو بھی اتنی ہی اہمیت دینا ہوگی جتنی شمالی سیاحتی علاقوں کو دی جا رہی ہے۔موہنجو داڑو کو باقاعدہ "پاکستان ہیریٹیج کوریڈور" کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ سکھر، لاڑکانہ اور دیگر ملحقہ شاہراہوں سے آغاز کرتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے سمتی سائن بورڈ نصب کیے جائیں جن پر یونیسکو کی شناخت اور وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں مختصر معلومات درج ہوں۔ این -155 کی مکمل ری سرفیسنگ، ضرورت کے مطابق ساختی بحالی، جدید تھرمو پلاسٹک لین مارکنگ، عکاس حفاظتی آلات، کلومیٹر مارکرز، جدید گینٹری سائنز، خوبصورت لینڈ اسکیپنگ، مقامی درختوں کی شجرکاری، آرائشی روشنیوں اور آرام گاہوں کی تعمیر اس شاہراہ کو عالمی معیارکے ہیریٹیج روٹ میں تبدیل کر سکتی ہے۔

اس منصوبے پر آنے والی لاگت نسبتاً محدود ہوگی، جبکہ اس کے فوائد نہایت وسیع ہوں گے۔ بہتر رسائی سے ملکی و غیر ملکی سیاحت میں اضافہ ہوگا، آثارِ قدیمہ کی بین الاقوامی تحقیق کو فروغ ملے گا، تعلیمی تبادلوں میں وسعت آئے گی، ثقافتی سفارت کاری مضبوط ہوگی اور مقامی آبادی کیلئے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان دنیا کو یہ پیغام دے سکے گا کہ وہ انسانیت کے عظیم ترین تاریخی ورثوں میں سے ایک کا ذمہ دار محافظ ہے۔آج جب نئی سائنسی دریافتیں موہنجو داڑو کی تاریخ کو مزید روشن کر رہی ہیں تو اس کے دروازے تک پہنچنے والی شاہراہ ماضی کی بے توجہی کی علامت نہیں رہنی چاہیے۔ اس قدیم شہر کی طرف جانے والا سفر بھی اسی عظمت، وقار اور حسن کا مظہر ہونا چاہیے جو اس کی پانچ ہزار سال پرانی گلیوں میں قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک سڑک کی مرمت نہیں بلکہ پاکستان کے تہذیبی تشخص، قومی وقار اور عالمی ثقافتی ورثے کے احترام کا معاملہ ہے۔موہنجو داڑو نے پانچ ہزار برس قبل انسانیت کو شہری منصوبہ بندی، نظم و نسق اور اجتماعی زندگی کا سبق دیا تھا۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس عظیم تہذیب تک پہنچنے والے راستے کو بھی اسی شان، وقار اور عظمت کا آئینہ دار بنائیں۔

تازہ ترین