• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ مکرمہ سے اگر کوئی سیاسی یا دفاعی پیغام دنیا تک پہنچے تو اس کی اہمیت محض سفارتی خبر تک محدود نہیں رہتی۔ مکہ پوری امت مسلمہ کا روحانی مرکز ہے، اس لیے وہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا فیصلہ اپنے اندر ایک علامتی وزن رکھتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بظاہر یہ تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کاایک معاہدہ ہے، لیکن اس کے اندر چھپا ہوا اصل پیغام اس سے کہیں بڑا ہے۔ اگر اس معاہدے کے بنیادی تصور کو درست سمت میں آگے بڑھایا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالم اسلام کیلئے ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد بھی فراہم کرے گا ۔ اس معاہدے کی سب سے اہم بات وہ اصول ہے جسکے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بظاہر یہ چند الفاظ ہیں، لیکن عالمی سیاست میں ایسے الفاظ کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ جب تین ممالک یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو نشانہ بنانے کا مطلب تینوں کو نشانہ بنانا ہوگا تو ممکنہ دشمن کیلئے حساب کتاب بدل جاتا ہے۔ اب اسے صرف ایک ملک کی فوجی طاقت کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ اسے تین مختلف جغرافیائی خطوں سے آنے والی سیاسی، سفارتی اور دفاعی طاقت کو سامنے رکھنا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو صرف دفاعی اتحاد کہنا شاید اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، سعودیہ عرب دنیا میں غیر معمولی سیاسی، مذہبی اور معاشی اثر رکھتا ہے اور ترکیہ ایک مضبوط فوجی طاقت کے ساتھ نیٹو کا اہم رکن ہے۔ تینوں ممالک کی جغرافیائی پوزیشن بھی ایسی ہے کہ ان کا باہمی تعاون جنوبی ایشیا، خلیج اور مشرق وسطیٰ کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ معاہدہ ایک ایسی دفاعی مثلث کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے کی ضرورت آج ہی کیوں محسوس ہوئی؟ اس کا جواب گزشتہ چند برسوں کے عالمی حالات میں پوشیدہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کی کشیدگی، فلسطین کا بحران، امریکہ کی عسکری موجودگی، خلیجی ممالک کے تحفظات، بحیرہ احمر میں عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نے پورے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا بڑا حصہ بیرونی طاقتوں کی عسکری موجودگی سے وابستہ رہا ہے، لیکن اب خطے کے ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہمیشہ کسی دوسری طاقت کے سہارے اپنی سلامتی یقینی بنائی جا سکتی ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جس نے نئے علاقائی دفاعی نظام کی ضرورت پیدا کی ہے۔اس پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے قریب آنا محض اتفاق نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن کو اس پورے عمل میں اہم سمجھا جانا چاہئے۔ ان تینوں قیادتوں نے بدلتے ہوئے حالات کا بروقت جائزہ لیتے ہوئے، ایک ایسے دفاعی بندوبست کی طرف قدم بڑھایا ہے جو آنے والے وقت میں بہت بڑے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس معاہدے کو کسی ایک ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر اسے ایران کے خلاف، بھارت کے خلاف یا کسی دوسرے ملک کے خلاف محاذ سمجھا گیا تو اس کی اصل روح متاثر ہوگی۔ ایک مضبوط دفاعی اتحاد کی سب سے بڑی طاقت اس وقت ہوتی ہے جب وہ جارحیت کے بجائے دفاع، امن اور جنگ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہو۔دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ ہمیشہ کمزور ملک کے خلاف نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات جنگ اس وقت بھی شروع ہوتی ہے جب طاقت ور ملک یہ سمجھتا ہے کہ مخالف کا جواب محدود ہوگا۔ اگر کسی ملک کو یہ یقین ہو کہ ایک ملک پر حملہ دراصل تین ممالک کو جنگ میں داخل کر دے گا تو جنگ شروع کرنے کا فیصلہ مشکل ہوجاتا ہے۔ اس اعتبار سے مکہ دفاعی معاہدے کا اصل مقصد جنگ لڑنا نہیں بلکہ جنگ روکنا اور دیرپا امن کا قیام ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اس معاہدے کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر عالمی امن تک پہنچتے ہیں۔اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی روایتی عسکری موجودگی کم کرتا ہے یا مستقبل میں اپنے اڈوں اور فوجی کردار کو محدود کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کیلئے متبادل نظام کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ فوری طور پر مشرق وسطیٰ سے مکمل طور پر نکل رہا ہے، تاہم عالمی حالات یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کیلئے صرف واشنگٹن کی چھتری پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی علاقائی انتظامات تشکیل دینا چاہتے ہیں۔یہ تبدیلی معمولی نہیں ہوگی۔اگر مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا علاقائی سکیورٹی نظام بنتا ہے جس میں مقامی طاقتیں اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھاتی ہیں تو امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتوں کو خطے کے ساتھ تعلقات کے نئے اصول وضع کرنا پڑیں گے۔ اس نظام میں پاکستان اور ترکیہ کی موجودگی اسے مزید وسیع جغرافیائی اہمیت دے گی۔ اس پورے منصوبے کا سب سے حساس اور اہم پہلو ایران ہے۔ایران کو نظرانداز کرکے مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی دیرپا سکیورٹی نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔ ایران ایک بڑی علاقائی طاقت ہے، اس کی جغرافیائی پوزیشن خلیج، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان انتہائی اہم ہے اور آبنائے ہرمز کی سلامتی براہ راست ایران سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایران کو اس پورے عمل سے الگ نہ ہونے دے۔وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورہ ایران بھی اس وسیع تر سفارتی پس منظر میں اہم دکھائی دیتا ہے۔

تازہ ترین