• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی ملک کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی اشاریے نہیںبلکہ اس ملک کے بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل ہوتے ہیں۔ آج کے بچے کل کا مستقبل ہیں لیکن اگر ریاست اپنے بچوں کو زندگی کے ابتدائی مراحل ہی میں صحت، تعلیم، غذا اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے تو وہ ملک مستقبل میں ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک قومی آمدنی کا بڑا حصہ ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات اور بنیادی طبی سہولیات پر خرچ کرتے ہیں۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ صحت مند قومیں وہی ہوتی ہیں جن کے بچے صحت مند ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی صحت کا شعبہ آج بھی کئی سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ اس وقت پاکستان میں ہر سال تقریباً 70 لاکھ یعنی ہر پانچ سیکنڈ بعد ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً سات لاکھ یعنی 10 فیصد ایسے بچے ہوتے ہیں جنہیں پہلے سال میں ایک بھی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگ پاتا۔ ایسے بچوں کو ہم زیرو ڈوز چلڈرن(ZERO DOSE CHILDREN ) کہتے ہیں۔ یہی وہ بچے ہیں جو خسرہ، نمونیا، خناق، تشنج، کالی کھانسی اور دیگر مہلک بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق اس وقت انفینٹ مورٹیلٹی ریٹ(IMR )،یعنی ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے پہلے سال کے دوران کتنے بچے وفات پا جاتے ہیں، پاکستان میں یہ شرح 47 ہے۔ یہ شرح نہ صرف جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش ناک حد تک بلند ہے۔بھارت میںIMR کی شرح 20 ،بنگلہ دیش میں24 اور ترکی میں صرف7 جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح اور بھی کم ہے۔ اسی طرح نیونیٹل مورٹیلٹی ریٹ(NHR )یعنی پیدائش کے پہلے ایک ماہ کے دوران ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے وفات پانے والے بچوں کی شرح، تقریباً 39 فی ہزار بچہ ہے۔ SBR یعنی Sitll Birth Rate یعنی وہ بچے جو پیدائش کے وقت مردہ پیدا ہوتے ہیںان کی شرح 53فی ہزار ہے ۔اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت اور حکومت ہر سال ملک بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم چلاتے ہیں تاکہ زیرو ڈوز چلڈرن کی تعداد میں کمی کی جا سکے۔بدقسمتی سے پاکستان ان تمام ممالک میں شامل ہے جہاں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس فہرست میں ہم سےنائجیریا، کانگو اور ایتھوپیا پیچھے ہیں۔ اس وقت ڈبلیو ایچ او کے سروے کے مطابق 90فیصد زیرو ڈوز بچوں کی شرح سوڈان، یمن، افغانستان، پاکستان اور صومالیہ کے علاقوں میں موجود ہے۔ پاکستان میں سندھ کے اضلاع کشمور اور سجاول میں یہ شرح تقریباً 28 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ بلوچستان اور سرحد میں پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس مسئلے کو محض ایک طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسےقومی بقا،انسانی تاریخ اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل سےجوڑ کر دیکھیں کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور گاوی نے پاکستان کیلئے 2030ء تک یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ زیرو ڈوز بچوں کی تعداد کو 10فیصد سے کم کرکے 5فیصد تک لایا جائے۔ ہمارے ملک میں زیرو ڈوز چلڈرن کی بنیادی وجہ صحت کے بجٹ کاکم ہونا ہے۔ بنیادی مراکزِ صحت جہاں موجود ہیں وہاں عملے کی کمی ہے۔ پنجاب میں تو پچھلے سال بہت سارے بنیادی مراکزِ صحت کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے۔ عوام میں شعور و آگاہی کی بھی کمی ہے جسکی بنیادی وجہ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ویکسین فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان میں غربت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر ویکسینیشن سینٹرز دور ہوں تو بہت سے لوگ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کیلئے وہاں نہیں لے جا پاتے۔اسی طرح تربیت یافتہ ویکسینیٹرز کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کہیں کولڈ چین کا نظام متاثر ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ویکسین مطلوبہ درجہ حرارت پر محفوظ نہیں رہ پاتی۔ بہت سارے لوگ اپنے بچوں کی پیدائش کا بروقت اندراج بھی نہیں کراتے۔ اسی طرح حادثات یعنی سیلاب ، زلزلہ اور غربت کی وجہ سے لوگ ہجرت کرتے رہتے ہیں اور بروقت ایسے بچے کسی ویکسین پروگرام کے ریکارڈ کا حصہ نہیںبن پاتے۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں زیرو ڈوز چلڈرن کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اگر ہم زیرو ڈوز چلڈرن پر توجہ دینا چاہتے ہیں تو اس مقصد کیلئے ہماری قیادت کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی، شعور و آگاہی کے پروگرام ترتیب دینے ہوں گے، میڈیا کو استعمال کرنا ہوگا اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔میڈیکل پروفیشن سے منسلک افراد، ویکسینیٹرز، آیا اور لیڈی ہیلتھ وزٹرز کی اچھی تربیت کرکے انہیں گھر گھر پہنچنےکے قابل بنانا ہوگا۔ میڈیکل پروفیشن سے منسلک افراد کی بھرتی اور عہدوں پر نامزدگی ،کرپشن اور سفارش کے بغیر صرف میرٹ پر ہونی چاہیے۔ صحیح طریقے سے نظام کو ڈیجیٹلائز کرکے ہمیں ایک ایک گھر تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ہمیں لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ ویکسین سے نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ عوامی آگاہی کو بھی غیر معمولی اہمیت دینا ہوگی۔ صرف اشتہارات کافی نہیںبلکہ علماء کرام ، اساتذہ ، خطباء ، مقامی منتخب نمائندوں، سماجی کارکنوں اور بااثر شخصیات کو اس مہم کا حصہ بنایا جائے جب معاشرے کے مخیر افراد حفاظتی ٹیکوں کی افادیت بیان کرینگے تو غلط فہمیوںکا خاتمہ آسان ہوگا۔

خاندانی منصوبہ بندی کی موثر پلاننگ ، صاف پانی کی فراہمی ، غربت کا خاتمہ اور تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اسی طرح جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو اس وقت ہمیں موبائل ویکسینیشن ٹیمیں باقاعدگی سے بھیجنی چاہئیں۔اگر ہم یہ تمام اقدامات ہنگامی بنیادوں پر بروقت کریں گے تو پوری امید ہے کہ ہم ایک مضبوط قوم کو جنم دے سکتے ہیں۔

تازہ ترین