• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوق ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں بتانا نہیں پڑتایہ خودبخود آشکار ہوجاتاہے۔ آپ نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہوگا جو بتاتے ہیں کہ مجھے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن وقت اور حالات نے موقع ہی نہیں دیا۔بالکل غلط۔ جن کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہوتاہے وہ جیل میں بھی یہ شوق پورا کرلیتے ہیں۔جن کو کبوتر بازی کا شوق ہوتاہے وہ اپنی روٹی کم کرکے بھی کبوتروں کے دانے کا بندوبست کرلیتے ہیں۔اگرکسی نے تیراکی نہیں سیکھی تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ اُسے شوق نہیں تھا ورنہ تیراکی کے لیے سوئمنگ پول کی ضرورت نہیں ہوتی شوقین لوگ آلودہ نہر میں بھی یہ ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ہاں البتہ یہ اور بات ہے کہ کسی کسی کے نصیب میں شوق کو پیشہ بنانا لکھا ہوتا ہے۔آپ نے بہت سے لوگ دیکھے ہوں گے جو موسیقی میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں، انہیں سُر تال کا بھی خاصا علم ہوتاہے، راگوں کے بارے میں بھی جانتے ہیں لیکن عملی زندگی میں کسی اور پیشے سے منسلک ہوتے ہیں۔ان کا شوق موسیقی ہوتاہے لیکن روٹی روزی کا ذریعہ کچھ اور بن جاتاہے اسکے باوجود یہ موسیقی سے جڑے رہتے ہیں کیونکہ شوق کا لبادہ ایک دفعہ چڑھ جائے تو بڑی مشکل سے اترتا ہے۔ کچھ شوق وقتی ہوتے ہیں مثلاً کئی نوجوانوں کو اچانک ایکٹنگ کا شوق چڑھتاہے اور پھر چند ناکامیوں کے بعد ہی سارا جذبہ ٹھس ہوجاتاہے۔یہ کچے شوق علامت ہے ورنہ بھرے پڑے ہیں ایسے لوگ جو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ایکٹنگ آج بھی ان کی اولین ترجیح ہے۔محبت بھی کئی لوگوں کی زندگی میں وقتی شوق کی طرح آتی ہے۔دوسروں کو دیکھ کر انہیں بھی شوق چڑھتاہے کہ محبت کرنی چاہیے۔ پھر وہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں تاہم کچھ ہی عرصے بعد ضمانت پر رہا بھی ہوجاتے ہیں اور پھر ساری زندگی اس ’جرم‘ سے خوفزدہ ہی رہتے ہیں۔زبردستی کے شوق بڑی آسانی سے پیچھا چھوڑ جاتے ہیں لیکن جو شوق پیدائشی ہو وہ مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتا۔اکثرلوگوں کو آخری عمر میں کچھ شوق لاحق ہوجاتے ہیں اور پھر وہ زبردستی سب کو یہ بتانے پر مصر ہوتے ہیں کہ یہ میرا بچپن کا شوق ہے ۔

٭ ٭ ٭

آج کل سوشل میڈیا پر مختلف ’زیرتعمیر‘ فلموں کی پروموشن چل رہی ہے، ٹیزر شیئر کیے جارہے ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ آج بھی گنڈاسا، لاچا، بڑھک، بلند و بالا قہقہے اور بدمعاشی والی فلمیں بن رہی ہیں۔ہمت ہے اُن لوگوں کی جو ایسی فلموں میں پیسہ بھی لگا رہے ہیں اور اُمید بھی رکھ رہے ہیں کہ فلم کامیاب ہوگی۔ ہمارے ہاں فلمیں عموماً فارمولا اسٹوریز کے تحت بنتی ہیں جن میں محبت اور گانے بہت ضروری ہیں جبکہ دنیا بھر میں فلمیں عجیب و غریب موضوعات پر بن رہی ہیں۔کچھ شاندار موضوعات کی فلمیں اگر نہیں دیکھیں ضروردیکھئے گا مثلاً گریوٹی، دی گرین مائل، نواسکیپ، پینک روم، ہش،فارسٹ گھمپ، کاسٹ اوے، فریکچرڈ،نوک نوک، کیچ میں اِف یو کین، لوِنگ آڈلٹس وغیرہ۔ہماراپروڈیوسر ڈرتاہے کہ پتا نہیں ہیرو ہیروئین کے بغیر بننے والی فلم کامیاب ہوگی یا نہیں۔آپ نئی فلموں کے نام دیکھیں گے تو ان میں بھی زیادہ تر میں محبت، پیار، عشق یا اس سے ملتے جلتے نام لازمی نظر آئیں گے۔ہم نے تصورکرلیا ہے کہ فلم عشق محبت کے بغیر نہیں بن سکتی۔حالانکہ آپ OTT پلیٹ فارمز پر دیکھیں تو وہاں فلموں کی بیسیوں کیٹگریز ملتی ہیں مثلاً رومینٹک،سروائیول، ہارر،ڈرامہ، مسٹری، تھرلر، ایکشن، کامیڈی، کرائم، سیریل کلر، کورٹ روم،میوزیکل، ہسٹاریکل، بائیوپک، مذہبی، سوشل ایشوز وغیرہ۔ہمارے ہاں معاشرتی موضوعات پربہت کم فلمیں بنتی ہیں لیکن ان میں سے اکثر یا تو ڈاکومنٹری کا روپ دھار لیتی ہیں یا ٹی وی ڈرامہ بن جاتی ہیں۔اس وقت نئے موضوعات پر یا ہالی وڈ فلمیں بنارہا ہے یا ساؤتھ والے۔یہ دونوں ایسا موضوع چنتے ہیں کہ دیکھنے والا دم بخود رہ جاتاہے۔ کہانی کو نبھانے کا فن بھی کوئی ان سے سیکھے۔شائقین روایتی فلموں سے ہٹ کر کچھ دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو۔

٭ ٭ ٭

آپ نے کبھی ہاتھ کے بنے ہوئے جوتے پہنے ہیں؟ یا ہاتھ کی سلائی والے کپڑے پہنے ہیں؟ یا ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں خریدی ہیں؟ یقینا خریدی ہوں گی اور بڑے فخر سے بتایا ہوگا کہ یہ چیز مشین سے نہیں بلکہ ہاتھ سے بنائی گئی ہے۔ ہاتھ سے بنے سگار ہوں یا ہاتھ سے بنی تصویر ہو، آج بھی الگ ہی لیول رکھتی ہے۔فلم اور ٹی وی پروڈکشن میں ایک چیز ہوتی ہے گرین اسکرین یا کروما۔یہ گرین کپڑا ہوتاہے جس پر کوئی بھی سین فلمایا جائے تو گرین کپڑے کی بدولت بیک گراؤنڈ تبدیل ہوسکتاہے۔ ا س کی اولین مثال ہمارے ہاں پی ٹی وی کا ڈرامہ الف لیلیٰ ہوتا تھا۔چونکہ نئی نئی یہ تکنیک ہمارے ہاں آئی تھی لہذا اُس وقت کا کروما بھی انتہائی عجیب وغریب ہوتا تھا۔آج بڑی بڑی فلموں میں کروما تکینک کا استعمال ہوتاہے اور اب تو اے آئی کا دور آگیا ہے۔ اے آئی کی مدد سے فلمیں بن رہی ہیں لیکن یاد رہے کہ جس طرح ہاتھ کے بنے جوتے یا ہاتھ کی سلائی والے کپڑے کی ڈیمانڈ آج بھی ہے، آنے والے وقتوں میں اوریجنل لوکیشنز اور اوریجنل ایکوپمنٹ کے ساتھ فلمائی گئی فلم کی بھی ویلیو ہوگی۔تب فلم کے پوسٹر میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ’رنگین سینما اسکوپ‘ بلکہ شائد یہ لکھا جائے کہ ’یہ فلم اے آئی کے بغیر بنائی گئی ہے‘۔ اے آئی کا بخار تازہ تازہ ہے۔ اسے سیکھنا بھی چاہیے اور آزمانا بھی چاہیے لیکن کیاگوگل کے ہوتے ہوئے سب دانشور بن گئے تھے؟ کیا ڈیجیٹل لائبریریز سے سب استفادہ کرتے ہیں؟ کیایوٹیوب پرہرپیچیدہ کام کے حل کی وڈیوزلگانے سے دنیا میں مستری، پلمبر، درزی، الیکٹریشن اور مکینک بے روزگار ہوگئے ہیں؟ عملی اور بہترین کام آج بھی ہنر مند ہی کر رہے ہیں اور وہی کریں گے۔

تازہ ترین