• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہرِ پُر نور مکّہ میں تین برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان امن، سلامتی اور استحکام کی خاطر ایک دفاعی معاہدہ طے پانے کی خبر آئی تو پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لاہور کی اہم شاہراہوں، چوکوں اور دیگر متعدد مقامات پر بڑے بڑے سائن بورڈ مذکورہ ممالک کے سربراہوں کی تصاویر کے ساتھ نصب کر دیے گئے۔ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اس اہم ترین دفاعی معاہدے پر وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ترکیہ طیب اُردوان نے دستخط کیے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا تھا۔ وزیرِاعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے ایران امریکہ امن معاہدے (ایم ۔او۔یو) پر بھی دستخط فرمائے۔ اس طرح اُنھیں تین بڑے اہم معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جو دراصل وطنِ عزیز پاکستان کا اعزاز ہے۔ ان اہم معاہدوں میں عزت مآب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر صاحب کا کردار قابلِ داد اور ناقابلِ فراموش ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے دوران میں فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب وردی میں ملبوس ایران جاتے رہے اور جنگ بندی کیلئے کوششیں فرماتے رہے۔ مذکورہ دفاعی معاہدہ ہم پاکستانی مسلمانوںکیلئے خوشی کا باعث اس لیے ہے کہ ہم اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ڈریکولائی حرکات کا مظاہرہ سات اکتوبر 2023ء سے دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح اس درندہ صفت شخص نے غزہ کے نہتے، بے گناہ اور بیگناہ مسلمانوں (خصوصاً بچوں، عورتوں، بزرگوں، نوجوانوں) کا خون بہایا، اس کی سفاکیت کیلئے کوئی لفظ ہی آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ غزہ پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی آنکھوں سے اشک بہے کہ ایک خُدا، ایک رسول ﷺ اور ایک کتاب نے انھیں دینِ اسلام کی ڈوری میں پرو رکھا ہے۔ امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے، جسم کے کسی حصّے کو تکلیف پہنچے آنکھ اشک بہانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا۔

مُبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ

کس قدر ہمدرد پورے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

غزہ کے المیے پر تو غیروں نے بھی آنسو بہائے۔ جاپانی شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملوں سے جنم لینے والے المیے پر ہر زبان میں بے شمار ناول، افسانے اور نظمیں لکھی گئی ہیں۔معروف محقق، نقاد اور مترجم ڈاکٹر تبسّم کاشمیری صاحب نے ایک جاپانی نظم کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا تھا۔جسکی چند سطور ملاحظہ فرمائیے۔

میرا باپ واپس کر دو

میری ماں واپس کر دو

میرے بچے واپس کر دو

مجھے میرا اپنا آپ واپس کر دو

اور دنیا میں کبھی نہ ہونے والا واپس کر دو

غزہ میں تو شاید وہ باپ ہی زندہ نہ ہو جو کَہہ سکے کہ میرا بیٹا واپس کرو اور وہ بیٹا بھی زندہ نہ ہو جو اپنے باپ کے واپس کیے جانےکی بھیک مانگ سکے۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے خونخوار وزیرِاعظم سے کون پوچھے گا کہ تم نے غزہ کے بھوک پیاس سے بلکتے بچوں پر بم کیوں برسائے؟ عورتوں اور بزرگوں کو کیوں مارا؟ ہسپتالوں، اسکولوں، حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے اداروں، ریڈکراس کی گاڑیوں اور ایمبولینسوں پر بمباری کرنے کی تمہیںکس نے اجازت دی؟ زندگی اور موت کی کشمکش میں مُبتلا زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو کیوں شہید کیا؟

انتہائی گولہ باری کے دوران اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والے صحافیوں کو کس جُرم میں قتل کیا؟ جب تک دنیا قائم ہے، یہ سوالات نیتن یاہو کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ عام لوگ تو اسرائیل کے ظالم وزیرِاعظم کیلئے بددعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ظالم کو اس دنیا میں ایسی سزا دے کہ پھر کوئی اور ظالم کسی مظلوم اور بے گناہ پر ظلم نہ ڈھا سکے۔

آج مسلمانوں کا خون جِتنا ارزاں ہو چکا ہے اور دن بدن خلیجی ممالک کا امن و سکون تباہ ہو رہا ہے اور جس قدر اسرائیل اپنے ناپاک قدم شام سے ایران تک بڑھانے کے خواب دیکھ رہا ہے، اس کا شافی علاج تین برادر ممالک نے ’’مکہ باہمی دفاعی معاہدہ‘‘ میں ڈھونڈ لیا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرما رکھا ہے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

مذکورہ معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تین برادر ممالک کسی ملک پر حملہ آور ہو جائیں گے لیکن ان میں سے کسی ایک ملک پر اگر کوئی ملک لائولشکر سے چڑھائی کرے گا تو پھر یہ تینوں بھائی اس بُرے کو اس کے گھر چھوڑ کے آئیں گے۔ (اِن شاء اللہ) اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)

تازہ ترین