وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بلوچستان کے حساس ترین معاملے پر ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کی تجویز دیکر سب کی توجہ تو دلائی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس پر گفتگو کا آغاز ہو کیسے اور کس سے۔ آج کل تو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صوبے ہیں اور ہم چار سے نہ جانے کتنے صوبے بنانیکی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جامعات سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز میں صرف ہمیں ایک موضوع نظر آتا ہے۔ اب یہ معاملہ کہاں جا کر رکے گا کہہ نہیں سکتا مگر بلوچستان پر گفتگو نہ آسان ہے اور نہ ہی شاید اسکا حل، البتہ کسی بھی معاملے پر راستہ بہرحال مکالمے سے ہی نکلتا ہے تو کیوں نا خود وزیراعظم اس پر گفتگو کا آغاز کریں، وہاں کے اور ملک بھر کے دانشوروں، سیاسی اکابرین اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی رائے لی جائے اور اس دوران اگر کہیں باتیں ذرا تلخ ہو جائیں تو برداشت بھی کی جائیں۔
میرے ذاتی خیال سے حل نکل سکتا ہے کیونکہ کوئی معاملہ سیاست کی وجہ سے بگاڑ کا شکار ہوا ہو تو حل بھی سیاست سے نکل سکتا ہے تاہم دہشت گردی کی نہ پہلے کبھی حمایت کی ہے اور نہ آئندہ کی جا سکتی ہے۔ جس صوبے میں کوئٹہ سے تربت اور گوادر تک کتاب میلے میں نوجوان بچے اور بچیاں لاکھوں روپے کی کتابیں خریدتے ہوں مکالمے کا آغاز ان سے ہی کیا جائے۔ رہ گئی بات ہمارے دشمنوں کی تو وہ تو موقع کی تلاش میں رہتے ہی ہیں۔
میرا بلوچستان سے تعلق پرانا ہے۔ ہمارے اسکول کے زمانے کی بات ہے کہ ہمارے چچا کسٹمز میں ہوتے تھے اور انکی پوسٹنگ چمن بارڈر کے پاس تھی۔ ہم اکثر چھٹیاں گزارنے بذریعہ ٹرین جایا کرتے تھے بلاخوف و خطر۔ کیونکہ میرے والد کا تعلق شعر و ادب سے رہا تو آگے جاکر عطا شاد صاحب سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ مگر سب سے اہم حوالہ پروفیسر کرار حسین ہیں جن کے ساتھ میرے والد کی گہری دوستی تھی انکا تعلق تعلیم اور ادب سے تھا اور جب کرار صاحب سے بلوچستان کے گورنر میر غوث بخش بزنجو نے درخواست کی کہ آپ کوئٹہ آکر بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھال لیں اور یقین دلایا کہ کوئی بھی سرکاری مداخلت نہیں ہوگی تو مجھے یاد ہے کرار صاحب نے میرے والد مرزا عابد عباس سے مشورہ بھی کیا تھا۔ ہمارے والد کا ہمیشہ سے یہ مشن رہا کہ تعلیم ہی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ میرٹ ہی درست سمت کا تعین کر سکتا ہے اور پڑھنے کے رحجان، علم و ثقافت، کلچر اور ادب کے فروغ سے سیاست میں بھی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے ساتھ ساتھ کھیلوں کی حوصلہ افزائی سے مقابلے کا رحجان بڑھتا ہے۔
میں یونیورسٹی کے لیول پر آیا تو حاصل بزنجو، رازق بگٹی اور کئی دیگر دوستوں سے ملاقاتیں رہیں۔ حاصل کے ذریعے اس کے والد میر غوث بخش بزنجو صاحب سے بھی کئی ملاقاتیں رہیں۔ اسی دوران بلوچستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بھی کئی دوستوں سے طلبہ سیاست کے حوالے سے برسوں گفتگو رہی ۔ نیشنل سینٹر کوئٹہ میں تو وہاں کا انچارج عبدل بلوچ میرا کلاس فیلو تھا۔ صحافت میں آئے تو ٹریڈ یونین اور ڈان گروپ میں نوکری کے دوران صدیق بلوچ ہمارے لیڈروں میں سے تھے۔
جنرل ضیاء کے زمانے میں طلبہ یونین پر پابندی لگی تو سب نے ملکر جدوجہد کی۔ ایسے میں سلیم شاہد، شہرداد، ذوالفقار اور کئی دوسرے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے گفتگو رہتی ۔ یقین جانیں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آخر پچھلے چند برسوں میں اچانک بلوچستان کے حالات ایسےکیسے ہو گئے کہ پورا صوبہ ہی تقریباً ’نوگوایریا‘ بن گیا۔ گزشتہ سال ایک نوجوان لڑکی نے ایک ناول ’ڈریم‘ کے نام سے لکھا جسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں کے حالات کیا ہیں اور کس طرح وہاں کے نوجوان سڑکوں پر بلب کی روشنی کے نیچے پڑھ کر کالج اور جامعات تک پہنچتے ہیں۔
میری ذاتی رائے اور تجزیے میں بلوچستان کو اس کا نہ تو جائز سیاسی حل دیا گیا اور نہ ہی میرٹ پر اوپر لایا گیا۔ اب جس صوبے میں آج نوجوان کسی گیٹ ہائوس کے استقبالیہ پر بیٹھا جناب کے کے عزیز کی کتاب ’دی مرڈر آف ہسٹری‘ پڑھ رہا ہو اور اسی انداز میں گفتگو کر رہا ہو تو اسے مطمئن تو آپ کو کرنا پڑے گا اب معاملہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی ۔ مجھے آج بھی یاد ہے 9/11 کے بعد سے جہاں کے پی، کراچی میں حالات خاصے خراب ہوئے وہیں بلوچستان میں بھی طالبان اور خوارج سے معاملات خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ کوئٹہ شوریٰ نے تو بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ مجھے آج بھی یاد ہے، کئی سال پہلے کوئٹہ میں خوفناک خود کش حملہ ایک مذہبی جلوس پر ہوا تھا اور ایک بار ایمل کانسی جسے دو سی آئی اے اہلکاروں کو مارنے پر موت کی سزا ہوئی تو میں فرانس پریس نیوز ایجنسی (اے ایف پی) میں کام کرتا تھا اسکے جنازے کی کوریج کیلئے کوئٹہ گیا تھا۔ معاملات خراب ہوتے نظر آ رہے تھے۔
رہ گئی بات سیاسی معاملات کی تو بنیادی غلطی 70ء کی دہائی میں بائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی تھی جس کا کوئی جواز نہ تھا یہ اقدام شاہ ایران کے کہنے پر کیا گیا کیونکہ افغانستان اور خطے میں خود ایران میں تودہ کمیونسٹ پارٹی مضبوط ہورہی تھی لہٰذا بائیں بازو کو دنیا بھر میں کچلنے کی امریکی سازشیں ہو رہی تھیں۔ نیپ پر پابندی نے قوم پرستی کی سیاست کو تقسیم کردیا اور مختلف جماعتوں نے جنم لینا شروع کیا۔ آج بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں نوجوان قیادت سامنے آرہی ہے۔ مسئلہ مسنگ پرسن کا ہو یا کوئی اور اسکو سیاسی گفتگو سے ہی حل کیا جا سکتا ہے اگر آپ گفتگو پر ہی پابندی لگا دینگے، قلم کو ہی روک دیں گے، سیاست پر بات کرنے پر سزا دینگے تو کیا معاملات حل ہو جائیں گے ۔
پاکستان کے معاملات بات چیت سے حل ہونگے اور جب بات ہو گی تو رنگ ضرور لائے گی۔ لوگوں کو سوالات کے جواب دیں اور مطمئن کریں۔ دو سال پہلے کوئٹہ فیسٹیول میں جو رنگ دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نوجوان کو بھی آج پتا ہے کہ پروفیسر کرار حسین لڑائی کے دوران درمیان میں آکر نوجوانوں کو لڑنے سے روکتے تھے۔ انکی بیٹی کا نام لیا گیا تو پورا ہال کھڑا ہو گیا۔ بلوچستان ہمارا ہے اس سے مکالمہ کریں۔