• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یاسر پیرزادہ اُن کالم نگاروں میں شامل ہیں جنہیں عقل و شعور رکھنے والے قارئین میں بے حد مقبولیت حاصل ہے۔ فلسفے کے باریک نکات انکے کالم میں دلچسپ گفتگو کی طرح بیان ہوتے ہیں اور کہیں بھی بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔دقیق علمی بات کو قابل ہضم بنا کر پیش کرنا انکا خاصا ہے۔ حال ہی میں بک کارنر کی جانب سے انکے افسانوں کی کتاب’کاف کہانی‘ شائع ہوئی ہے۔ سننےمیں کتنا عجیب لگتاہے کہ یاسر پیرزادہ اور افسانے؟ لیکن یہ سچ ہے کہ افسانہ انکے اندر بستاہے۔ انکے کئی افسانے آپ پڑھ چکے ہوں گے لیکن شائدآپ کو اندازہ ہی نہیں ہوا ہوگا کہ آپ کالم کی شکل میں کتنا شاندار افسانہ پڑھ رہے ہیں۔ یاسر کے افسانوں میں رمز ہے، کنایہ ہے، علامت ہے اور جھنجوڑ دینے والا سچ ہے۔ وہ اپنے مجموعی تاثر کی طرح اپنے افسانوں میں بھی اٹل نظر آتے ہیں۔ اس کتاب کی کہانیاں حیرت سے لبریز ہیں۔موضوعات ایک نئی دنیا کا منظرنامہ دکھاتے ہیں اوربیان میں ایک عجیب سی پراسراریت ہے جو خود قاری کے بدن میں بھی سرسراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ افسانےنتیجے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرتے ہیں اور انکا اختتام سوچ کے ایسے در وا کرتاہے جہاں پڑھنے والا اپنے دماغ کی بتی جلانے پر مجبور ہوجاتاہے۔یاسر پیرزادہ کی کہانیاں کورے کاغذ پر بنی وہ تصویریں ہیں جو صرف آنکھ کے بھروسے نہیں دیکھی جاسکتیں۔یہ کہانیاں قصہ گو نہیں بیان کرسکتا۔ یہ سننے نہیں پڑھنے والی کہانیاں ہیں جن میں تجسس تو ہے لیکن ہولناکی بھی پس پردہ ساتھ ساتھ چلتی ہے۔افسانے میں ختم ہوتی ہوئی کہانی یہاں دوبارہ جنم لیتی نظر آتی ہے۔وہ کہانی جس کا انجام بعض اوقات رُلا دینے والی کیفیت سے دوچار کر دیتاہے ’اے کہانی تیرے انجام پہ رونا آیا‘۔یہ کتاب ادب کے سنجیدہ قارئین کیلئے ہے۔ اُن کیلئے جو الفاظ کی کیفیات سے آشنا ہیں، جملوں کی ترتیب سے مسنگ ڈاٹ مکمل کرنا جانتے ہیں۔یاسر کا افسانہ سماج کی تیسری اور چوتھی پرت کھولنے کا کام کرتاہے جہاں کی پاتال میں بہت سے بے چہرہ قیدی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملیں گے۔اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو ضرور پڑھ لیجئے کہ یہ اس طرز تحریر کا آخری دور چل رہا ہے۔

٭ ٭ ٭

آپ کی گلی کا ٹرانسفارمر خراب ہوجائے تو بنیادی طور پر یہ بجلی کے محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے بروقت ٹھیک کروائے لیکن ہوتا کیا ہے کہ اکثر ورکر موقع پر ہی تخمینہ بتا تے ہوئے ڈرا دیتے ہیں کہ اگر کل تک ٹھیک چاہیے تو ہمیں اتنے پیسے دے دیں ورنہ دفتر کے چکر لگائیں اور تھرو پراپر چینل کام کروا لیں۔ اس مسئلے کا سب سے بہترین حل یہ نکالا گیا ہے کہ علاقے کے سب لوگ آپس میں پیسے ملا کر بھائی صاحبان کو پیش کرتے ہیں اور ٹرانسفارمر ٹھیک ہوجاتاہے۔آپ کے گھر پانی نہیں آرہا۔آپ واسا میں شکایت کرتے ہیں۔ وہاں سے بروقت آپ کے ہاں سینٹری ورکرز پہنچ جاتے ہیں اور آپ خوش ہوجاتے ہیں کہ مسئلہ حل ہونے والا ہے۔لیکن اصل میں یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ باقی تو سب کے گھروں میں پانی آرہا ہے لیکن آپ کی شائد لائن میں کوئی فالٹ ہے لہٰذا زمین کھود کر یہ فالٹ ٹھیک کرنا ہوگا جسکے اتنے پیسے لگیں گے۔آپ بے بسی سے فرماتے ہیں کہ یہ کام تو واسا کا ہے۔جواب میں آپ کو باور کرایا جاتاہے کہ چونکہ صرف آپ کی لائن میں مسئلہ ہے اس لیے اب یہ پرائیویٹ کام شمار ہوگا جسکے آپ کو پیسے دینا پڑیں گے۔بندہ سوچتا رہ جاتاہے کہ یہی کام کرنا تھا تو پرائیویٹ بندے ہی بلوا لیتے۔شکایات سیل میں فون کرنے کا ایک فائدہ تو ہوتاہے کہ ٹیم آجاتی ہے لیکن اس ٹیم کا رویہ بیشتر اوقات پرائیویٹ بندوں والا ہی ہوتاہے۔تھوڑا سا بھی محنت والا کام ہوتو یہ ہاتھ اٹھا دیتے ہیں کہ اس کام کا باقاعدہ ہدیہ ہوگا۔پنجاب گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سرکاری ملازمین کے اِن پرائیویٹ ڈاکوں پر بھی توجہ دے۔

٭ ٭ ٭

ہر دوسرے دن اخبارات یا سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی اشتہار پر نظر پڑ جاتی ہے جس میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہوتی ہے کہ اب آپ کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے قرض دیا جارہا ہے اور وہ بھی نہایت معمولی شرائط پر۔ یہ معمولی شرائط کچھ زیادہ ہی معمولی ہوتی ہیں اور اشتہار میں کبھی مینشن نہیں کی جاتیں۔ میں نے کچھ لوگوں سے اس سلسلے میں پوچھا تو اکثریت کا جواب یہی تھا کہ انہوں نے درخواستیں بھی دیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ہر درخواست پر کوئی نہ کوئی ’معمولی‘ اعتراض لگا کر واپس کردیا جاتاہے۔جو شرائط بینک والے لگاتے ہیں وہ اکثر صورتوں میں ناقابل عمل ہوتی ہیں بالکل ایسے جیسے کسی کو کہا جائے کہ تمہیں ایک کروڑ روپیہ فوراً مل سکتاہے اگر تم اپنے ناراض رشتہ داروں سے دستخط کروا کے گارنٹی لے آؤ۔دنیا بھرمیں گھر بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں کیونکہ گھر بینک کی ملکیت ہوتاہے اور تب تک رہتاہے جب تک تمام قسطیں ادا نہیں ہوجاتیں۔ یاد رہے کہ پراپرٹی ایسی چیز ہے جسکی قیمت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی ہے سو اگر بینک دس سال بعد قسطیں نہ دینے پر گھر واپس لیتا ہے تو پھر بھی منافع میں رہتاہے۔یہاں عجیب کام ہوتاہے۔بینک پچاس لاکھ کی گاڑی لیز کرسکتاہے لیکن گھر کے لیے رقم دینے میں اسے تامل ہے۔جن لوگوں کے پاس اپنا پلاٹ ہے اور وہ اشتہارات دیکھ کر اپنا گھر بنانے کیلئے بینک سے قرضہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں آگاہ کیا جاتاہے کہ بینک جانے سے پہلے زیادہ خوش نہ ہوں۔یہ نہ ہوکہ واپسی پرمنہ سے نازیبا کلمات نکل رہے ہوں۔

تازہ ترین