امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے سخت اقتصادی پابندیوں اور معاشی تنہائی کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے تاہم خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں ایران خطے میں مزید حملے کرسکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نئی مہم کو ’اکنامک ڈی ڈے‘ قرار دیتے ہوئے ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری تجارت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت میں معاونت کرنے والی 60 کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات جاری رکھنے والے بینکوں اور کمپنیوں کو بھی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کیے گئے تجزیے کے مطابق ماہرین کی رائے ہے کہ امریکا کا خیال ہے اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جاسکتا ہے تاہم ایرانی ردعمل کے خدشات برقرار ہیں۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک امریکا کی اقتصادی جنگ میں شامل ہوئے تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔
واضح رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، اس لیے اس کی طویل بندش خلیجی معیشتوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کی جانب عملی قدم اٹھا لیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دبئی ایران کے لیے غیر ملکی کرنسی اور درآمدات کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، اس لیے اماراتی پابندیاں ایران کی معیشت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں تاہم متحدہ عرب امارات کو ایران کے حالیہ حملوں کا بھی سامنا رہا ہے اور وہ امریکا و اسرائیل کے ساتھ قریبی سیکیورٹی تعلقات رکھتا ہے۔
اس کے برعکس سعودی عرب، قطر اور عمان کے امریکا کی اقتصادی مہم میں فوری طور پر شامل ہونے کے امکانات کم ہیں۔
قطر آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی حملوں سے اپنے مائع قدرتی گیس کے شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنے سے گریزاں ہے۔
قطر ایران کے ساتھ ایک بڑے گیس فیلڈ میں بھی شراکت دار ہے اور خطے میں ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عمان بھی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر ایران سے براہِ راست بات چیت کر رہا ہے، اس لیے مسقط کے لیے تہران سے سفارتی رابطے برقرار رکھنا اہم ہے۔
سعودی عرب نے بھی ایران کے خلاف مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھائی، ریاض نے 2023ء میں چین کی ثالثی سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور اب اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر مکمل انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسی سلسلے میں سعودی عرب نے رواں ماہ پاکستان اور ترکیے کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران ماضی میں دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اکثر کشیدگی بڑھانے کا راستہ اختیار کرتا رہا ہے، اس لیے اگر نئی امریکی پابندیوں سے ایرانی معیشت پر شدید دباؤ پڑا تو ایران کے جانب سے خلیج میں امریکی مفادات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہیں، امریکا کی اقتصادی مہم کا ساتھ دینا انہیں مزید میزائل حملوں سے بچنے کا راستہ دکھائی دے سکتا ہے لیکن ایران کے خلاف پابندیوں میں شامل ہونا خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کی ترجیح آئندہ بھی جنگ کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور ایران اور امریکا کے درمیان کسی معاہدے کی کوشش رہے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں طویل مدتی استحکام ان کی معیشت اور سلامتی دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔