لاہور ہائیکورٹ نے لیسکو سے 60 ارب کی وصولی کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک لیسکو کو شہری کو 60 ارب ادا کرنے سے روک دیا۔
عدالت عالیہ نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے 3 ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔ جسٹس جواد حسن نے لیسکو کی درخواست پر عبوری تحریری حکم جاری کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او قصور کو معاوضے کا حق دار قرار دیے شخص کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس جواد حسن نے حکم نامہ میں تحریر کیا کہ اگر 60 ارب کا دعویٰ دائر کرنے والا زندہ ہے تو پیش کریں، مر گیا ہے تو قبر کا نمبر بتائیں۔
حکم نامہ میں کہا گیا کہ شہری کے مطابق 1976 میں پہلے واپڈا پھر لیسکو نے اسکی 45 کنال اراضی پر گرڈ اسٹیشن بنایا ہے۔
شہری کے مطابق لیسکو کی جانب بطور معاوضہ 60 اراب واجب الادا ہیں۔ وفاقی محتسب نے 2013 میں زمین کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ دینے کی سفارش کی تھی۔ لیسکو نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدر سیکریٹریٹ کو درخواست دی تھی۔
فیصلہ میں کہا گیا کہ 2015 کے فیصلے میں معاوضے سے قبل ریونیو ریکارڈ اور معائنہ کرکے ملکیت اور رقبے کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ سول کورٹ قصور نے 8 مئی 2023 کو لیسکو کے حق میں عبوری حکم جاری کیا تھا۔ معاوضے پر عملدرآمد کی کارروائی 16 ستمبر 2024 کو بند کردی گئی تھی۔ معاوضے کا حکم اگر پہلے نافذ نہیں ہوا تو آئندہ سماعت تک اس پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ لیسکو نے زمین کی ملکیت ہی کو متنازع قرار دیا، صوبائی حکومت کو اصل مالک قرار دیا تھا۔ زمین کی ملکیت کا تنازع پہلے ہی سول کورٹ قصور میں زیرِ سماعت ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ملکیت کے تعین کے بغیر معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ قانونی سوال بن گیا۔ عبوری حکم کو کیس کے میرٹ یا زمین کی ملکیت پر حتمی رائے نہ سمجھا جائے۔