• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑے لوگوں کی اولاد اکثر اُن جیسی نہیں نکلتی۔ شعراء میں سے کتنے ایسے ہیں جن کی اولاد نے بھی شاعری کی اور باپ جیسی شہرت پائی؟ اقبال کی نسل میں کوئی شاعر نہیں۔منٹو کی اولادمیں کوئی افسانہ نگار نہیں۔محمد رفیع کی اولاد میں کوئی گلوکار نہیں۔علماء کی علمی وراثت بھی زیادہ تر اُن کے شاگردوں کے حصے میں آئی۔تخلیقیت اور ملوکیت میں کوئی ربط نہیں ہوتالیکن ہمارے ہاں بڑے قد کا باپ دنیاسے گز ر جائے تو اکثر بے ہنر اولاد کیلئے سوالاکھ کا ہاتھی ثابت ہوتاہے اور اولاد چاہتی ہے کہ اب باپ کی وجہ سے دُنیا اُسے بھی تسلیم کرے اور قدم قدم پراُس کا خیال رکھے۔ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ میرٹ پر کام ہونا چاہیے اور دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ بڑے باپ کی اولاد کے ساتھ خصوصی سلوک روا رکھا جائے۔ہنرمندی اگرتسلسل قائم نہ رکھ سکے تو وہ ایک بڑا حوالہ تو بن سکتی ہے معیارنہیں۔اگرکسی کا باپ بہت بڑا سائنسدان ہو تو اس کی وفات کے بعد اس کے میٹرک پاس بیٹے کو محض باپ کی وجہ سے سائنسدان نہیں مانا جاسکتا۔باپ کاحوالہ وہیں دینے کی ضرورت پیش آتی ہے جہاں آپ کا اپنا کوئی حوالہ نہ ہو۔حفیظ جالندھری کتنا بڑا نام ہے، شاہنامہ اسلام سے قومی ترانے تک ان کی گونج ہے لیکن اُن کے بعد کیا ہوا؟مجھے ایک صاحب ملے جو حفیظ جالندھری کے دور پار کے رشتہ دارہیں اوربڑے فخر سے اپنی رشتہ داری کا تذکرہ کرتے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ ’ابھی تو میں جوان ہوں‘کبھی سنا ہے؟ اس پران کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔پتا چلا کہ موصوف کو قومی ترانہ بھی ٹھیک سے نہیں آتا۔بڑے باپوں کی اولادوں کو اپنے اندر بھی باپ جیسی کوئی صفت پیدا کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ ہرجگہ باپ کا نام استعمال کرکے بھیک مانگی جائے کہ آؤ اور ہمیں پالو۔مسائل سب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں لیکن بڑے باپوں کی جو اولادیں خود اولادوں و الی ہوچکی ہیں انہیں والدمرحوم کے نام پر رعایتیں مانگنے کی بجائے خود اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

٭ ٭ ٭

اداکار عثمان پیرزادہ کا ایک بیان زیرگردش ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ چھوٹے شہروں سے آنے والوں نے لاہور کا کلچر بہت خراب کیا ہے اور وہ لاہور کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ویسے تو اس بیان پر محمد حنیف نے بی بی سی پر اپنے پنجابی تبصرے میں بخیے ادھیڑ دیے ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ عثمان پیرزادہ کو ایسی بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔لاہور یے تو محبت کرنے والے لوگ ہیں یہاں تو کبھی کسی نے ایساعصبیت بھرا جملہ نہیں بولا۔دنیابھرمیں لوگ اپنے ملک کے مختلف شہروں میں ہجرت کرتے ہیں، بستے ہیں اورپھر وہیں کے ہورہتے ہیں۔یہ اچھی بات ہے یا بری بات؟ اسی طرح کراچی میں پورے پاکستان سے مختلف لوگ آکر آباد ہوتے ہیں تو کیا کراچی نے کوئی ناک بھوں چڑھائی ہے؟لاہور میں آنے والوں کی اکثریت نے تو اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیا، لاہور کا شناختی کارڈ بنوایا، یہاں شادیاں کیں اور ان کی اولادیں بھی یہیں پیدا ہوئیں۔تو کیا یہ اولادیں لاہوری نہیں؟چھوٹے شہروں سے آنے والے تو زیادہ محنتی تھے کہ انہیں لاہور میں قدم جمانے کے لیے اپنی اوقات سے بڑھ کرکام کرنا پڑا۔ان لوگوں نے لاہور سے محبت کی، لاہور سے عشق کیا اور لاہور کا حصہ بن گئے۔آج لاہور جتناخوبصورت ہے اس میں تناسب نکال کر دیکھیں کہ چھوٹے شہروں سے آنے والوں نے اضافہ کیا ہے یا کمی کی ہے۔جولوگ لاہور کی محبت کے دعوے کرتے ہیں ان سے پوچھنا چاہیے کہ آپ اندرون لاہور چھوڑ کر کیوں لاہور سے باہر کی آبادیوں میں منتقل ہوگئے؟اندرون شہر کا خوبصورت کلچر آپ کو کیوں نہیں روک سکا۔لاہورکے کلچر میں تھڑے پر چائے پینے کا رواج تھا’کیفے‘ بنانے کانہیں۔آئیے اپنے آبائی گھروں میں واپس تشریف لائیے اورپھر نئے آنے والوں کے لتے لیجئے۔پاکستان کے کسی بھی شہر میں بسنے کے لیے ویزانہیں لگوانا پڑتا، نیشنیلٹی نہیں لینی پڑتی۔چھوٹے شہروں کے جو لوگ لاہور آئے تھے وہ لاہور فتح کرنے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے آئے تھے، روزگار کمانے آئے تھے۔انہی چھوٹے شہروں سے آنے والوں نے لاہور کو بڑا بنایا ہے۔آج یہ لاہور سے بھی اُسی طرح پیار کرتے ہیں جس طرح اپنے چھوٹے شہر سے۔ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ یہ لاہور میں پیدا نہیں ہوسکے۔ لاہورکشادہ دلوں کاشہر ہے، اب یہ چاردیواری میں مقید نہیں لہٰذا اپنا دل بھی کشادہ کیجئے اور برسوں سے لاہور میں بسنے والوں کو مہاجر نہ ثابت کیجئے۔

٭ ٭ ٭

ڈاکٹر فخر عباس انتقال کرگئے۔ کاش یہ جملہ کبھی لکھنے کی نوبت نہ آتی۔ خوبصورت، ذہین اورشرارتی ڈاکٹر فخر عباس نے ہمیشہ منفرد اور اچھوتا شعر کہا۔ان کا یہ شعر تو جوانی میں ہی ان کا حوالہ بن گیا تھا ’یہ جو لاہور سے محبت ہے....یہ کسی اور سے محبت ہے۔‘ شاعری میں لاہور کا یہ ذکر پھر بعد میں بہت شاعروں نے استعمال کیا لیکن جوشہرت فخر عباس کو ملی وہ کسی کے حصے میں نہیں آسکی۔کافی دنوں سے ڈاکٹر صاحب کے متعلق تشویشناک اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔پتا چلا کہ وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔شاعر ادیب برادری ان کیلئے دعا گو رہی لیکن پھر یہ کلیجہ چیر دینے والی خبر آہی گئی جسے دہراتے ہوئے بھی دل لرزتاہے۔مجھے مختلف پروگرامز میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ انہیں بھی ہنسنے ہنسانے کا شوق تھا اور باریک آدمی تھے۔ایک دفعہ بتانے لگے کہ میں اپنے سرکے بال خود ہی کاٹتاہوں۔میں نے قہقہہ لگایا اور طریقہ پوچھا تو ہنستے ہوئے بتانے لگے کہ میں بال زیادہ بڑھنے ہی نہیں دیتاشیشے کے سامنے بیٹھ جاتاہوں اور مختلف اینگلز سے اپنے بال سیٹ کرتا رہتاہوں اب تو اتنی مہارت ہوگئی ہے کہ کوئی چھوٹا موٹا اڈا بھی کھول سکتاہوں۔دعاہے کہ خدا ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں رکھے۔آمین۔

تازہ ترین