• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور بلوچ و پشتون اقوام کی عظیم تہذیبی،قبائلی اور قومی روایات کا امین بھی ،مگر بدقسمتی سے وسائل کی فراوانی اس کے عوام کی خوشحالی کی ضمانت نہیں بن سکی۔ قدرتی دولت کے باوجود پسماندگی، بیروز گاری، بنیادی سہولتوں کی کمی اور احساس محرومی کے سوالات آج بھی شدو مد سے موجود ہیں اوریہی وہ بنیادی مسائل ہیں جنہیں سیاسی بصیرت اور سنجیدہ حکمت عملی کیساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان کا مسئلہ محض امن وامان کا ہی نہیں بلکہ سیاسی ، معاشی ، انتظامی اور سماجی محرومیوں سے جڑا ایک پیچید ہ معاملہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی بلوچستان نیشنل ور کشاپ سے خطاب میں گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل کا مستقل حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، اعتماد سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا اب جولوگ اپنا راستہ درست کرنے پر آمادہ ہیں انہیں خوش آمدید کہا جائے گا، ایک ایسے وقت میں اہم پیش رفت ہے جب بلو چستان میں بد اعتمادی کی خلیج کو مزید گہرا ہونے سے روکنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا صد فی صد درست ہے کہ بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کئے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی محرومی صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑ ا معاملہ ہے اگر ملک کے کسی بڑے حصے کے عوام خود کو قومی ترقی کے ثمرات سے دور محسوس کریں تو قومی یکجہتی کا تصور بھی کمزور ہوتا ہے اس لئے بلوچستان کے وسائل سے استفادے کے ساتھ وہاں کے عوام کو اس ترقی کا حقیقی شریک بنانا بھی ناگزیرہے، جائز شکایات اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بیگناہ شہریوں کا قتل ، مزدوروں کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا ،ریاستی ا داروں پر حملے اور بندوق کے ذریعے مطالبا ت منوانے کی کوشش کسی صورت درست تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ ڈائیلاگ کا مقصد صرف حکومت کی بات سنانا نہیں بلکہ شرکاء اور بلوچ عوام کی بات سننا بھی ہے۔ یہی جملہ اس پورے عمل میں کامیابی کی کنجی بن سکتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی بات بھی سنی جائے، ان کے جائز تحفظات کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے اور قابل عمل مطالبات پر فوری عملی اقدامات کئے جائیں۔بلوچستان اور خبیر پختونخوا میں دہشتگردی کے حوالے سے وزیر اعظم نے اندرونی و بیرونی عناصر ، فتنہ الخوارج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے گروہوں کی نشاندہی کی ہے۔ دہشتگردی کیخلاف ریاستی اداروں اور سیکورٹی فورسز کی قربانیاں بلاشبہ قابل قدر ہیں لیکن دہشتگردی کا مستقل سد باب صرف عسکری کارروائی سے ممکن نہیں اس کیلئے سرحدی نگرانی ،مؤثر انتظامیہ، معاشی ترقی، تعلیم ، روزگار اور مقامی آبادی کا ریاستی نظام پراعتماد بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کے معدنی وسائل پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں، مگر اس دولت کا استعمال مقامی آبادی کی شمولیت، شفافیت اور منصفانہ تقسیم کے اصول پر ہونا چاہئے۔ وفاق اور صوبہ اگر باہمی اعتماد کے ساتھ سرمایہ ،ٹیکنالوجی اور مہارت فراہم کریں، بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگارو ہنر کے مواقع فراہم کئے جائیں تو یہی وسائل خوشحالی کا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گرینڈ ڈائیلاگ کو مستقل اور نتیجہ خیز سیاسی عمل بنا لیا جائے۔

تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، دانشوروں، کاروباری طبقوں اور سول سوسائٹی کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے حکومت کو بھی اپنے وعدوں کیلئے واضح ٹائم فریم اور عملی منصوبہ دیناہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کا دل بندوق کے زور سے نہیں بلکہ اعتماد،ا نصاف ،ترقی اور مکالمے کے اہتمام سے جیتا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اپنی گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش کوحقیقی سیاسی عمل میں بدلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر بلوچستان کا مسئلہ قومی اتحاد اور ترقی کانقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات میں بجا طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست کے غیر متزلزل عزم اور فیصلہ کن ردعمل سے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔ ان کا یہ موقف اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف آپریشنز تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔ ریاست نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں جس عزم کا مظاہرہ کیا ہے، اسے مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔اسی تناظر میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بلوچستان کے علاقوں مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے فتنہ الہندوستان کے37دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقوں بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر اضلاع میں دورانِ آپریشن 12 خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی ان مشترکہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر49دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ صدر مملکت اور وزیراعظم نے ان کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے جو اس قومی احساس کی ترجمانی ہے کہ ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کیلئے قربانیاں دینے والے ہمارے حقیقی محسن ہیں۔بلوچستان میں بدامنی کے محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان کے دشمن طویل عرصے سے صوبے کی محرومیوں، پسماندگی اور عوامی شکایات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں بہر صورت یہ امر بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی صرف سکیورٹی آپریشنز سے مکمل نہیں ہوگی، بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

تازہ ترین