حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، تحریک انصاف نے آج لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ مذاکرات کا نیا راؤنڈ بھی طے نہ کیا جا سکا۔
حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات رات تقریبا ڈھائی بجے تک چلے مگر مسودے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
دو نوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور کردار ادا کرنے پر یقین دہانی سے انکاری ہے۔ اس وجہ سے معاہدہ نہیں ہوسکا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں تھی لیکن نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔
پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ چار مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا۔ لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سے انکار کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ملک کو انتشار سے بچایا جائے۔انسداد دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔