• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران کو اگر یہ یقین دلایا جا سکے کہ مکہ معاہدہ ایران کو گھیرنے یا اس کیخلاف اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ کسی نئے محاذ کی تشکیل نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے ایک نئے نظام کیلئےہے تو ایران کے خدشات بڑی حد تک کم کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایران کو مستقبل میں اس علاقائی سکیورٹی فریم ورک میں شامل ہونے کی دعوت دی جانی چاہئے۔اگر ایران اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے(جس کے امکانات محدوددکھائی دیتے ہیں) تو اس کے نتائج واقعی تاریخی ہوں گے۔تصور کیجیے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران ایک علاقائی سکیورٹی نظام میں بیٹھ کر اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ سلامتی پر بات کر رہے ہوں۔ اس کا مطلب ہوگا کہ کئی دہائیوں سے جاری فرقہ وارانہ، جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کے باوجود مسلم دنیا کے بڑے ممالک کسی مشترکہ مقصد پر اکٹھے ہوسکتے ہیں۔اس کا سب سے بڑا فائدہ مشرق وسطیٰ کے امن کو ہوگا۔ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی، سعودی عرب اور ایران کے تعلقات مزید بہتر ہوسکتے ہیں، اور اسرائیل و ایران کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات کم کرنےکیلئے ایک علاقائی سفارتی راستہ پیدا ہوسکتا ہے۔اسی کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ امن یا مفاہمتی معاہدے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ دیرپا تعلقات قائم کرنا اور کسی بڑے امن معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تو ایک علاقائی سکیورٹی نظام ان کیلئے بھی ایک آسان راستہ پیدا کرسکتا ہے۔ ایران کو مکمل طور پر تنہا کرنے کے بجائے اسے ایک علاقائی امن کے فریم ورک میں شامل کرنا زیادہ موثر حکمت عملی ثابت ہوسکتی ہے۔یہاں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی سکیورٹی بھی انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔ دنیا کی توانائی اور تجارت کا ایک بڑا حصہ ان سمندری راستوں سے گزرتا ہے۔ اگر مستقبل میں ان راستوں کی حفاظت علاقائی ممالک کے مشترکہ تعاون سے ہونے لگے تو عالمی تجارت کو بھی فائدہ ہوگا۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پوری دنیا میں مہنگائی اور معاشی بحران پیدا کرسکتی ہے، اس لیے ان راستوں کی سلامتی صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کا مسئلہ ہے۔ایران کو بھی اس نظام میں شمولیت کے فوائدحاصل ہوسکتے ہیں۔ اگر ایران کو ایک وسیع علاقائی سکیورٹی ”چھتری“مل جائےتو ۔ اس سارے منظرنامے میں بھارت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ہی شدید سیاسی اور دفاعی کشیدگی موجود ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد بھار ت کیلئے پاکستان کی علاقائی دفاعی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں مختلف ہوجائے گی۔بھارت گزشتہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے میں کامیاب رہا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ اسکے دفاعی اور تزویراتی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ کیا نئی دہلی اس نئے دفاعی ماحول کو قبول کرے گا یا اس کا کوئی متبادل جواب تلاش کرے گا؟یہ خدشہ موجود ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی نیا محاذ کھولنے، کسی محدود عسکری مہم جوئی یا کسی نئے تزویراتی انتظام کی کوشش کرسکتا ہے۔ بھارت اگر امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کسی نئے دفاعی فریم ورک کی طرف جاتا ہے تو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی سیاست مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان کیلئے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ بھارت کے ممکنہ ردعمل کا جواب ایک اور محاذ بنانے سے نہ دے بلکہ سفارتکاری کے ذریعے پہلے خلیجی ممالک کو اعتماد میں لے۔خصوصاً متحدہ عرب امارات کو مکہ معاہدہ کے وسیع تر علاقائی سکیورٹی فریم ورک میں شامل ہونے کی دعوت دینا ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ اگر یو اے ای بھی اس نظام کا حصہ بنتا ہے تو یہ اتحاد معاشی اعتبار سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا اور بھارت کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات پاکستان کیلئے ایک اضافی سفارتی پُل کا کام کرسکتے ہیں۔ پاکستان کیلئےمکہ دفاعی معاہدے کے فوائد صرف بھارت یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ اس کا سب سے مثبت اثر افغانستان کے حوالے سے بھی سامنے آسکتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور اعتماد کے فقدان نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مشکل بنا رکھا ہے۔ یہاں سعودی عرب ایک غیر معمولی کردار ادا کرسکتا ہے۔سعودی عرب کے افغانستان میں مذہبی، سیاسی اور سفارتی اثرات بہت گہرے ہیں۔ اگر سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے عمل میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں سعودی عرب اور ترکیہ دونوں کو اس مشترکہ سفارتی کوشش میں شامل کرے۔افغانستان میں امن کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔اگر افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کم ہوتی ہے، دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے راستے بند ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان موثر سرحدی انتظام قائم ہوجاتا ہے تو پاکستان کی داخلی سلامتی میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ اسکے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کم ہوں گے، سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تازہ ترین