• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کا اربوں پاؤنڈ کے سرکاری ٹھیکے اسرائیلی غیرقانونی بستیوں سے منسلک کمپنیوں کو دینے کا انکشاف

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

عرب میڈیا کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں سے منسلک کم از کم 17 کمپنیوں اور ان کی ذیلی اداروں کو برطانیہ کے سرکاری شعبے کے 125 ٹھیکے مل چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت 2.129 ارب پاؤنڈ ہے۔

عرب میڈیا کی تحقیقات کے مطابق ان کمپنیوں میں وہ کاروباری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔

ان کمپنیوں کو سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ٹرانسپورٹ، ہنگامی خدمات اور ڈرائیونگ لائسنسنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرکاری معاہدے دیے گئے۔

سب سے زیادہ رقم امریکی ٹیکنالوجی اور مواصلاتی کمپنی سے منسلک اداروں کو ملی جن کے 91 سرکاری معاہدوں کی مجموعی مالیت 1.726 ارب پاؤنڈ ہے، ان ایک اور کمپنی کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروسز کے محفوظ مواصلاتی نظام کے لیے 1.562 ارب پاؤنڈ کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق امریکی مواصلاتی کمپنی اسرائیلی غیر قانونی بستیوں میں سیکیورٹی، نگرانی اور مواصلاتی نظام کی فراہمی سے منسلک رہی ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سرکاری دستاویز کے مطابق مئی 2026ء میں اس کمپنی کے اسرائیلی ادارے کو اسرائیلی پولیس کے تقریباً 19,000 ریڈیوز کی دیکھ بھال اور انکرپشن لائسنسز کے لیے 25.5 ملین شیکل کا معاہدہ بھی دیا گیا۔

عرب میڈیا کی جانب سے مرتب کی گئی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں کئی ٹھیکوں اور منصوبوں کا ڈیٹا شیئر اور سرمایہ کاری سے متعلق انکشافات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2024ء میں عالمی عدالتِ انصاف نے قرار دیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور دیگر ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ اس غیر قانونی صورتِ حال کو برقرار رکھنے میں مدد یا معاونت نہ کریں۔

دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے ہر معاہدے کے لیے کمپنیوں کو خارج کرنے کا فیصلہ الگ الگ کرتے ہیں اور جب تک باضابطہ پابندیاں، تجارتی پابندی یا دیگر حکومتی پابندیاں نافذ نہ ہوں، سرکاری خریداری کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے منسلک کمپنیوں کا بائیکاٹ نہیں کیا جا سکتا۔

سابق برطانوی لیبر پارٹی رہنما جیریمی کوربن نے عرب میڈیا کی تحقیقات پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کے مؤقف اور اس کے معاشی تعلقات میں واضح تضاد موجود ہے اور برطانیہ اسرائیل کے قبضے کے نظام میں اپنی شمولیت مزید گہری کر رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید