تاریخی مکّہ دفاعی معاہدے نے دُنیا بَھر میں یہ نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا دفاعی معاہدے جنگیں روکنے، امن کے قیام میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں؟ تاہم، اس سوال سے قطع نظر یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بُحران کے تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے اور خطّے کے عوام نے اس سے بہت سی توقّعات وابستہ کرلی ہیں۔ ہر چند کہ امریکا، ایران جنگ رواں برس فروری میں شروع ہوئی، لیکن اگر مشرقِ وسطیٰ کے بُحران پر نظر ڈالی جائے، تو اس کا آغاز غزہ جنگ کے بعد سے ہوا۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے، تو یہ حماس کی کام یابی تھی کہ اُس نے 2015ء کی جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر دُنیا کی توجّہ مسئلۂ فلسطین کی جانب مبذول کروا دی، جو کچھ ایسے اہم واقعات کی وجہ سے پس منظر میں چلا گیا تھا کہ جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لےلیا تھا۔ مثال کے طور پر ’’عرب اسپرنگ‘‘ کے نتیجے میں خطّے کے بڑے بڑے بُت پاش پاش اور مصر، یمن، شام، مراکش اور دوسرے ممالک بُری طرح متاثر ہوئے۔
’’عرب اسپرنگ‘‘ اس قدر شدید تھی کہ اس کا موازنہ انقلابِ فرانس سےکیا جانے لگا لیکن سوشل میڈیا کالایا ہوا یہ ’’انقلاب‘‘ جس برق رفتاری اور شدّت سے آیا، اتنی ہی تیزی سے پسِ پردہ بھی چلا گیا اور بس اپنے پیچھے کچھ تلخ و شیریں یادیں ہی چھوڑ گیا۔ اسی طرح حالیہ عرصے میں بنگلادیش اور بھارت میں ہونے والے احتجاج بھی جلد ہی ختم ہوگئے۔ سیاسی ماہرین اس کی بنیادی وجہ مظاہرین کا غیرمنظّم، لیڈرشپ کے بغیر اور سیاسی مقاصد کا واضح نہ ہونا بتاتے ہیں۔
بہرکیف، مسئلہ فلسطین کے پس منظرمیں جانے کی دوسری وجہ شام کی خانہ جنگی تھی، جو گرچہ ’’عرب اسپرنگ‘‘ ہی کی پیداوار تھی، لیکن یہ گیارہ سال پر محیط رہی۔ یوں تواس خانہ جنگی نےتمام علاقائی وعالمی طاقتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن علاقائی طور پر یہ ایران، عرب تنازعے کی شکل اختیار کرگئی۔
شام کی خانہ جنگی کے دوران لاکھوں شہری ہلاک اورایک کروڑ کے قریب بےگھر ہوئے، جب کہ یہ شورش ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کی پہلی بڑی آزمائش تھی، جس میں اُس نے نہ صرف اپنی تمام ملیشیاز کو جھونک دیا بلکہ رُوس تک سے فضائی مدد لی۔ اس طویل خانہ جنگی کے دوران ایک موقعے پر ایسا لگا کہ شامی اپوزیشن ناکام ہوگئی، جسے تُرکیہ اور خلیجی ممالک سپورٹ کررہےتھے، جب کہ بشارالاسد، ایران اور رُوس کام یاب ہوگئے، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور اپوزیشن نے فتح حاصل کی۔
اسرائیل اورحماس کےمابین جنگ کی صُورت مسئلۂ فلسطین ایک بار پھر اُبھرکر سامنے آیا لیکن اب عربوں کی بجائے ایران نے اس کا بِیڑا اُٹھانے کی کوشش کی اور اس کی چالیس سال میں تیار کردہ ملیشیاز اس جنگ کو آگے بڑھاتی رہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس جنگ نے جہاں غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا، وہیں ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کا، جو اس کی پراکسیز کے مرہونِ منّت تھی، دَور بھی ختم ہوا اور ایران کو خُود جنگ کے میدان میں کودنا پڑا۔
گو کہ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کی قیادت پچھلے چالیس سال سے کررہے تھے، لیکن فوجی ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ ایران خطّے میں اپنی خارجہ پالیسی اپنی پراکسیز حزبُ اللہ، حماس، حوثیوں اور عراقی ملیشیاز کے ذریعے چلا رہا تھا اور یہ اُس وقت ناکام ہوگئیں، جب اسرائیلی حملوں میں اُن کی ٹاپ لیڈر شپ ہلاک ہوگئی۔
اس وقت آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ امریکا، ایران جنگ کے دوران پاکستان، قطر اور تُرکی کی کوششوں کے نتیجے میں ایران کے حملوں پر عرب ممالک نے انتہائی تحمّل کا مظاہرہ کیا اور بُحران آبنائے ہرمز تک محدود رہا۔ تاہم، اس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوا اور اس دباؤ سے ہی نکلنے کے لیے پاکستان نے ایران اور امریکا کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
پاکستان اور دیگر ممالک کی کوششوں سے بُحران کی شدت میں کمی تو آئی، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ دوسری جانب ایران کی موجودہ پالیسی صرف فتح یا شکست کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے ایرانی انقلاب کی بقا پر بھی براہِ راست اثرات مرتّب ہوں گے۔ ایران کی سخت گیر لیڈرشپ کسی قسم کی لچک دکھانے پر آمادہ نہیں اور اُس نے اپنی سیاسی قیادت کو صرف بیان بازی تک محدود رکھا ہوا ہے۔ جنگ کی طوالت سے ایران اس تاثر کو گہرا کرنا چاہتا ہے کہ وہ کم زور ہے اور نہ لچک دکھائے گا اور نہ ہی پیچھے ہٹے گا۔ تاہم، ایک بات واضح رہے کہ ایران کے اپنے پڑوسی ممالک پرحملوں ہی سے دفاعی معاہدوں کی سوچ نے جنم لیا۔
امریکا 2010ء سے یہ بات دُہرا رہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں، جسے وہ ’’انڈو چائنا‘‘ کہتا ہے، چین کو محدود کرنا اس کے لیے سب سے بڑ ا چیلنج ہے اور آسیان، کواڈ فورم اور جاپان کو فوجی قوّت بنانا اِسی پالیسی کا حصّہ ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ جب امریکا یورپ، مشرقِ وسطیٰ یا جنوب اور مغربی ایشیا میں الجھتا ہے، تو اس کی توجّہ اور وسائل بٹ جاتے ہیں، اس لیے گزشتہ پندرہ سال سے ہر امریکی صدر ’’پائیووٹ‘‘ کا ذکر کرتا آیا ہے۔ درحقیقت، چین آج بہت زیادہ ترقّی کرچُکا ہے اور اپنی اقتصادی طاقت کی وجہ سے اُس نے اپنی فوجی قوّت میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
اسی لیے اب عالمی سیاست کے ہرمعاملے اور ہر مرحلے پر اُس کا کردار اہمیت کا حامل ہے، جس کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا، ایران جنگ کے دوران دُنیا کی توجّہ چین پر بھی مرکوز رہی۔ اس موقعے پر صدر ٹرمپ، شی جِن پِنگ سے ملے اور کوشش کی کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی مشترکہ راہ نکالی جائے لیکن اس بات کو کسی صُورت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ چین کی لیڈر شپ اپنی اقتصادی پالیسی کو کسی بھی تنازعےکی نذر کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنگ کا میدان فی الحال چین کی پالیسی میں شامل نہیں اور اس وقت اُس نے اپنی پوری توجّہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوّت بننے پر مرکوز رکھی ہوئی ہے۔
کچھ عرصہ قبل غزہ کی لڑائی کے، جو ایران، اسرائیل اور امریکا کی جنگ کی اصل وجہ ہے، خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ صدر ٹرمپ کی زیرِ سرپرستی ہوا اور اس کی بنیاد مصر میں رکھی گئی۔ اسے ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں پاکستان سمیت اسلامی دُنیا کے اہم ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور غزہ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا۔
اس معاہدے میں سعودی عرب، متّحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، ملائیشیا، عراق، شام، کویت، بحرین اور اومان سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔ ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جن چار اہم نکات پراتفاق کیا گیا، اُن میں سیزفائر، اسرائیلی افواج کی واپسی، حماس کا مسلّح جدوجہد سے دست بردار ہونا اور فلسطین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور پھر بحالی شامل ہے۔ اس معاہدے پر بتدریج عمل جاری ہے۔
بعد ازاں، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ ہوا اور اب حال ہی میں پاکستان، تُرکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ ان دونوں دفاعی معاہدوں کی رُو سے نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر کسی ایک رُکن مُلک پر حملہ تمام رُکن ممالک پر حملہ تصوّر کیا جائے گا اور یہی اس معاہدے کی سب سے اہم شِق ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اب مشرقِ وسطیٰ امن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ اس معاہدے میں توسیع ہوگی اورجلد ہی مصر، یو اے ای، قطر اور دوسرے عرب ممالک بھی اس میں شامل ہوجائیں گے۔ اس لیےاسے ’’مسلم نیٹو‘‘ بھی کہا جارہا ہے۔
چوں کہ مذکورہ بالا تمام معاہدوں میں پاکستان کا مرکزی کردار ہے، اسی لیے عالمی سطح پر پاکستان کی ڈپلومیسی کی خُوب تعریف کی جا رہی ہے۔ عام طور پر دفاعی معاہدے کا ذکرآتے ہی ایک عام آدمی کے ذہن میں جنگ، ہتھیاروں اور دشمن کو زیر کرنے کا خیال آتا ہے، لیکن ان معاہدوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کسی خاص مُلک کے خلاف نہیں بلکہ اگر کسی موقعے پر ایران چاہے، تو امن قائم ہونے کے بعد وہ بھی اس معاہدے کا حصّہ بن سکتا ہے، لیکن ایران کے لیے یہ فیصلہ خاصا مشکل ہوگا، کیوں کہ اس صُورت میں اُسے مشرقِ وسطیٰ میں جاری اپنی موجودہ جارحانہ پالیسی ترک کرنا پڑے گی کہ معاہدے میں پراکسیز اور ملیشیاز کی کوئی گنجائش نہیں۔
حالیہ دفاعی معاہدوں کے ضمن میں اکثر ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکا کی دفاعی چھتری سے عرب ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں، مطمئن نہیں اور وہ اپنے دفاع کے لیے ایک علاقائی دفاعی نظام وضع کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقعے پر پاکستان کا کردار اس لیے اہم ہے کہ وہ واحد اسلامی مُلک ہے، جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور اس طرح یہ دفاعی معاہدہ اپنے رُکن ممالک کو تحفّظ فراہم کرنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں بین الاقوامی تحفظات کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ’’مکّہ معاہدے‘‘ سے امریکا کو مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے میں آسانی ہوگی؟ واضح رہے کہ اگر اس معاہدے میں تمام عرب ممالک شامل ہو جاتے ہیں، تو یہ امریکا کی ایک بڑی کام یابی ہوگی، کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر ممالک سے اس کے دفاعی معاہدے ہیں، جن پر ایران مسلسل حملے کرتا رہا ہے۔ دوسری طرف ایران یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ سے نکل جانا چاہیے۔ یاد رہے، امریکا، رُوس یا کوئی بڑی طاقت اس بات میں عار یا جھجک محسوس نہیں کریں گے کہ اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد وہ کوئی خطّہ چھوڑ کر چلے جائیں۔
اس ضمن میں افغانستان اور ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ہوا، تو جشن منائے گئے کہ طالبان نے امریکا جیسی سُپر پاور کو شکست دے دی ،لیکن امریکا نے کسی کی پروا کیے بغیر کابل چھوڑ دیا۔ اسی طرح شام میں احمد الشرع کے ٹیک اوور کے بعد رُوس نے وہاں قائم مشرقِ وسطیٰ میں اپنا آخری اڈّا بھی خالی کردیا اور اُسے اس امر پر ذرا بھی شرمندگی نہیں۔ اسی طرح ایران بھی گیارہ سال تک شامی افواج کے شانہ بشانہ اپوزیشن کے خلاف لڑتا رہا لیکن نئی شامی حکومت آنے کے بعد وہ خاموشی سے وہاں اپنے تمام اڈّے بند کر کے اپنی ملیشیاز کے ساتھ نکل گیا۔
درحقیقت، عام آدمی جسے پسپائی یا شکست سمجھتا ہے، عالمی طاقتیں اسےاپنے مفادات کی تکمیل سے منسلک کرتی ہیں۔ اگر امریکا کا مقصد مکّہ دفاعی معاہدے سے پورا ہوجاتا ہے، تو اُسے کوئی پروا نہیں ہوگی کہ کوئی اُسے ایران کی فتح کہتا ہے یا اس کی شکست۔ یہ جذباتی کیفیت پاکستان جیسے ممالک میں پائی جاتی ہے کہ جہاں ہرجھڑپ اور تنازعے کو انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کی حکومتوں اور عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان معاہدوں سے ان کے قومی مقاصد حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ مختلف خطّوں میں طاقتوں کا آنا جانا عارضی معاملات ہیں اور بین الاقوامی امور کی ان چالوں پر زیادہ جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ جیت یہی ہے کہ آپ کا مُلک اقتصادی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہو اور اگر ایسا نہ ہوتا، تو چرچل، جو دوسری عالمی جنگ کا ہیرو تھا، جنگ کے بعد الیکشن نہ ہارتا۔ برطانیہ کے عوام کو جنگ کے لیے چرچل چاہیے تھا اور امن کے زمانے میں ایٹلی۔
سو، اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت معاشی استحکام ہے۔ امریکا کا خطّے میں آنا اور یہاں سے جانا اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا آج سے پانچ برس قبل ہم نے افغانستان میں طالبان کی فتح کا جَشن نہیں منایا تھا، جب کہ آج وہی احسان فراموش طالبان بھارت کی شہ پر ہمارے مُلک میں دہشت گردوں کے سرپرست بنے ہوئے ہیں، تو پھر اس فتح اور جشن سے ہمیں کیا ملا؟ یہ سوال ہمیں کسی اور سے نہیں، خود سے کرنا چاہیے۔
امریکا اور مغربی طاقتیں ہی نہیں بلکہ رُوس اورچین بھی ایک ایسا مشرقِ وسطیٰ دیکھنا چاہیں گی کہ جس میں فلسطین کا مسئلہ حل ہو لیکن ساتھ ہی اسرائیل کو بھی تحفّظ ملے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب اگر مذکورہ دفاعی معاہدوں میں وسعت ہوتی ہے، تو اس میں وہی ممالک شامل ہوں گے کہ جو اسرائیل کو تسلیم کرچُکے ہیں اور اس سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ دفاعی معاہدے نہ صرف خطّے بلکہ ہمارے مُلک کے لیے بھی خاصے اہم ہیں، کیوں کہ ہم نے اپنے مُلک کوایک مضبوط اورطاقت وَرمعیشت بنانا ہےاوران ہی معاہدوں سے ہم اپنے قومی مفادات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔