• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں اگر انکا ٹرمپ تو ہے ہمارے پاس ہمارا واوڈا ہے کل امریکی صدر ٹرمپ کی فوجی کمانڈولباس اور پستول والی تصویر دیکھی تو نہایت ہی پیارے واوڈا بہت یاد آئے کئی دنوں سے وہ ٹی وی اسکرینوں سے غائب ہیں اسی وجہ سے شدید بےرونقی ہے نہ کوئی نیا کرپشن اسکینڈل سامنے آرہا ہے اور نہ حکومت جانے کی تاریخیں دی جارہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی حالیہ جنگی تصویر ایرانی جزیرے پر واقع میزائل سینٹر پرحملے کے وقت جاری ہوئی یا دش بخیر بعینہ اسی طرح کی تصویر فیصل واوڈا کی عین اس روزجاری ہوئی تھی جب کراچی میں ایک غیر ملکی قونصل خانے پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا واوڈا بہادر اپنی بھاری ریسنگ موٹر بائیک پر سوار کمر میں پستول لٹکائے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے یہ تو ان دہشت گردوں کی قسمت اچھی تھی کہ انہیں کمانڈوز نے ختم کرڈالا اگر ان میں سے کوئی زندہ بچا ہوتا اور ہمارے پیارے واوڈا کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کی وہ درگت بنتی کہ دنیا دیکھتی رہ جاتی اور اگر ان میں کسی کم نصیب کی قسمت پھوٹی ہوتی تو وہ پہلوانی اوربہادری کے وہ کرتب دیکھتا کہ رستم وسہراب اور امام بخش وبھولو پہلوان کی داستانیںسب کو بھول جاتیں۔ دہشت گردوں کی قسمت اچھی تھی جو پہلے ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وگرنہ یونانی اندھے شاعر ہومرکو ایک نئی کہانی لکھنی پڑتی جس کا ہیرو اکیلیس نہیں، فیصل واوڈا ہوتا۔

مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ نے فیصل واوڈا کی وہ تصویرپہلے سے دیکھی ہوئی تھی اور اب تازہ ایرانی حملے پر صدر ٹرمپ کی جو تصویر جاری ہوئی ہے وہ واوڈا بہادر کی ہوبہو نقل ہے اب کہاں اصل اور کہاں اسکی نقل؟ ہمارے با نصیب واوڈا کا بیچارے ٹرمپ سے کیا مقابلہ؟ کیا رستم وسہراب جیسا بہادر نوجوان اور امام بخش اور بھولوجیسا پہلوان ،ہمارا واوڈا اور کہاں بوڑھا امریکی۔ واوڈا کے چہرے پر غصے کی سرخی، جذبے کی بہادری، حب الوطنی کی خود اعتمادی اور طاقت کی روشنائی صاف نظر آتی ہے جبکہ صدر ٹرمپ کا غصہ بھی جعلی، جذبہ بھی جعلی، طاقت اور حب الوطنی بھی جعلی لگ رہی ہے ۔ہمارا واوڈا بےلوث ہے مخلص ہے جبکہ انکا ٹرمپ مفاد پرست ہے اوروہ کسی سے مخلص بھی نہیں۔ ہمارا واوڈا جو بھی دعویٰ کرتا ہے وہ سچا ثابت ہوتا ہے جبکہ انکا ٹرمپ جو بھی کہتا ہے وہ کرہی نہیں پاتا بلکہ وہ جوبھی دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے ۔ واوڈا ہمیشہ جیتتا ہے جبکہ انکا ٹرمپ ہمیشہ ہارتا ہے ۔ ہمارا واوڈا مرتبے میں ٹرمپ سے بہت بڑا ہے ہوسکتا ہے کہ اسے ٹرمپ جتنا بڑا عہدہ اور اختیار نہ ملا ہو مگر اسکا کردار اور اسکا مقام یقینی طور پر انکے ٹرمپ سے بہت بلند تر ہے۔

بات یہیں رکنے والی نہیں۔ نسیم حجازی کے مجازی ناولوں میں گم نام کردار، بڑے واقعات سے جوڑ دئیے جاتے تھے انگریزی کہانیوں کا کردار Nedبھی ہر جنگ میں مردانہ وار لڑتا تھا اور فتح کے جھنڈے گاڑ کر آتاتھا بغدادی الف لیلہ کے عمروعیار کی زنبیل میں بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز آجاتی تھی۔ ٹرمپ کا دنیا میں امن قائم کرنے اور جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ تھا مگر اس نے جو عمل کیا وہ ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے جو عمرو کی زنبیل کی طرح پھیلتی ہی جارہی ہے۔ ہمارا واوڈا، انکے ٹرمپ کی طرح کا دوغلا نہیں ہے اسکے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے عالمی امن میںگواسکے کردار کا کہیں ذکر نہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ اس ملک کے لئے جو بھی اچھا ہورہا ہے وہ ہمارا واوڈا ہی کررہا ہے ہوسکتا ہے کہ تاریخ اس پر خاموش ہی رہے مگر واوڈا کے کارنامے خود ہی بول کر اسکی گواہی دیں گے۔

واوڈا کی ہر بات درست وہ ہر بات میں نمبرون ہے بس ایک کمی ہے کہ اسکی قوم اسکے کارناموں کی جتنی معترف ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ اگر قوم میں شعور ہوتا تو ہمارے واوڈا جیسے نابغہ روزگار کو سر پر بٹھا کر سیدھا ایوان اقتدار تک پہنچا دیتی ٹرمپ کوتو اسکی قوم نے دوسری بار اقتدار سے نوازا ہے جبکہ ہمارا واوڈا تواس سے کہیں بڑا آدمی ہے اس کو ایک بار بھی اقتدار اعلیٰ کا موقع نہیں ملا۔ اس قوم کے لوگ یقیناََ سادہ ہیں لیکن چرند وپرند ہوشیار ہیں اقتدار کا پرندہ ہما کافی عرصے سے واوڈا کے اردگرد گھوم رہا ہے اور تو اور دیومالائی ایرانی سمیرغ بھی واوڈا کو پہچان کر قریب ہی بسیرا کرچکا ہے۔

انکے ٹرمپ اور ہمارے واوڈا میں فرق بہت ہے حالانکہ دولت مند دونوں ہیں۔ ٹرمپ ارب پتی ہے مگر ابھی تک لالچی ہے واوڈا ٹرمپ جتنا امیر نہیں مگر لالچ سے بالکل خالی اور مکمل طور پرمطمئن آدمی ہے ٹرمپ نے امریکہ میں کھلے عام کرپشن کی منڈی لگائی ہوئی ہے مگر واوڈا کے کردار پر کوئی انگلی تک نہیں اٹھا سکتا۔ واوڈا کا نعرہ ہے’’ واوڈا آئے گا کرپشن مکائے گا‘‘ ٹرمپ بوڑھا اور واوڈا جوان ہے ٹرمپ کے فیشن اور کپڑے پرانے اور اکثرآئوٹ آف فیشن ہوتے ہیں جبکہ ہمارا واوڈا جدید ترین ڈیزائنوں کے برانڈڈ کپڑے پہنتا ہے ٹرمپ کے بڑے بڑے مشہور اسکینڈل بنے مگر واوڈا باوجود جوان اور پرکشش ہونے کے کسی اسکینڈل میں پھنس نہیں سکا۔

نونی آزمائے جاچکے، پیپلے دیکھے جاچکے، انصافی وقت گزار چکے ۔جہاں اتنے تجربات ہوئے ہیں ایک تجربہ ہمارے واوڈا کا بھی کرلیا جائے جہاں بڑےبڑے گرگ باراں دیدہ ناکام ہوچکے ہیں وہاں ہمارا یہ نوجوان ہیرو حالات کو بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے عوام کو جس سحر کاکافی دیر سے انتظار ہے لگتا ہے وہ واوڈا کی صورت میں ہی طلوع ہوگی تبھی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی تبھی کرپشن کا مکمل خاتمہ ہوگاتبھی ملک میں امن وسکون قائم ہوگا تبھی صوبوں اور قوموں میں ہم آہنگی پیدا ہوگی تبھی ملک میں پانی اور وسائل کی تقسیم طے ہوگی تبھی بیوروکریسی کی طاقت ختم ہوگی تبھی سول اور فوج ہمیشہ کے لئے ایک صفحے پر آجائیں گے تبھی مڈل ایسٹ اور امریکہ کے خزانے ہمارے لیے کھلیں گےتبھی ملک کی کانوں سے نایاب دھاتیں، سونا اور تانبا نکلے گا تبھی یہ تباہ شدہ نظام اس قابل ہوگا کہ ڈیلیور کر سکے ۔واوڈا آئے گا تو سارے دلدر دور ہونگے سب سیٹ ہوجائے گا ۔اب سب مسائل کا حل ایک ہی ہے کہ واوڈا جہاں بھی ہے جیسا بھی ہے اسے ڈھونڈ ڈھانڈ کر، منت سماجت کرکے یا خوشامد سے مناکراسے اقتدار سونپ دیاجائے کسی زمانے میں ریڈیو پاکستان پر نظام دین کی آواز میں پنجابی کا یہ اشتہار چلتا تھا’’ سارے مسئلیاں دا اکوں ای حل، نواب ٹیوب ویل ، نواب ٹیوب ویل‘‘

اب نیا نعرہ ہے’’ سارے مسئلیاں دا اکوں ای حل/ واوڈا دی گل، واوڈا دی گل…

تازہ ترین