• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہاسٹل کے دن تھے۔ اخبار سارے پڑھنے ہوتے تھے خرید ایک بھی نہیں سکتے تھے۔دوسرے اور تیسرے درجے کے اخبار حجام کی دکان اور ڈھابے پر مل جاتے تھے۔جنگ اخبارصرف ہاکر کے پاس ملتا تھا۔ہاکر سے پان سیگریٹ والی دوستی گاڑی ہوئی تھی۔اس نے اسٹال پر کھڑےکھڑے اخبار پڑھنے کی اجازت دی ہوئی تھی۔میری اور میرے ایک سینئر کی لینڈنگ سیدھا ادارتی صفحے پر ہوتی تھی۔جتنے کالم چھپے ہوتے تھے سب بلاتمیز رنگ ونسل چاٹ جاتے تھے۔یہی ہمارے مطالعے کا کُل سامان تھا۔

پھر عمر کے اس حصے میں آئے جب ہم موٹیویشنل اسپیکرز کی فقرہ بازیوں سے بیٹھے بٹھائے متاثر ہوجاتے تھے۔ڈیل کارنیگی سے شروع ہوتے تھے، اسٹیفن آرکووی سے ہوتے ہوئے جاوید چوہدری پر پہنچ کر ختم ہوجاتے تھے۔اسی عرصے میں جنگ کے ادارتی صفحے پر یاسر پیرزادہ نام کے کوئی صاحب ’ذرا ہٹ کے‘ کے عنوان کے ساتھ نمودار ہوگئے۔معاملہ جولیس سیزر جیسا تھا۔وہ آیا، اس نے لکھا، وہ چھا گیا۔آجو باجو انکے تذکرے ہونے لگے۔ ہمارے لیے انکے کالم عجیب طرح کی آزمائش تھے۔پڑھنا نہیں چاہتے تھے مگر پڑھنے پڑ رہے تھے۔وہ موٹیویشنل اسپیکرز کی دنیا میں ڈی موٹیویشنل اسپیکر بن کر آئےتھے۔خواب، سپنے اور فقرے بیچنے کی بجائے حقیقت، منطق اور شعور کے کچکوکے لگارہے تھے۔ ہمیں لگتا تھا غریب وہ ہوتا ہے جسکے پاس احساس نہیں ہوتا۔انہوں نے بتایا، نہیں بیٹا غریب وہ ہوتاہے جسکے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ کھچ مت مارو، پیسے کمائو دنیا گھومو۔کرنٹ افیئرز کے شور شرابے میں ہمیں یاسر سے چراغ، کتاب، فلم، تھیٹر اور موسیقی کی باتیں پڑھنے کو مل رہی تھیں۔سترھویں صدی کے سپینوزا جیسے زیر عتاب فلسفیوں کے حوالے مل رہے تھے۔انکی تحریر میں کرنل محمد خان اور سید محمد تقی والے ذائقے ایک ساتھ مل جاتے تھے۔کبھی تو ایسے بھی لگتا تھا جیسے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اپنی محبوبہ کو کیلکولیٹر کی مدد سے خط لکھ دیا ہو۔یہ آدمی آخر ہے کون۔محمود شام صاحب سے اتفاقاََ ملاقات ہوگئی۔لوگ ان سے پوچھ رہے تھے کہ امریکا کیا سوچ رہا ہے۔بینظیر بھٹو کیوں خاموش ہوگئی ہیں۔ میں نے پوچھا، یاسرپیرزادہ کون ہیں۔عطاالحق قاسمی صاحب کو جانتے ہو بیٹے؟ جی جی شوق سے پڑھتا ہوں۔انہی کے صاحبزادے ہیں۔ اللّٰہ اکبر۔

جھوٹ نہیں بولوں گا، یقین نہیں آیا۔یقین نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ قاسمی صاحب کی تحریروں سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امرتسر کے ایک بڑے عالم پیر بہاوالحق قاسمی کے فرزند ہیں۔انکے گھرانے میں اس قدر دنیاوی باتیں لکھنے والا شخص کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟اب جیسے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ یاسر قاسمی صاحب کے فرزند ہوسکتے ہیں، ایسے ہی یہ خیال کرنا عجیب لگتا ہے کہ یاسر پیرزادہ نے کہانیاں لکھی ہیں۔ ریاضی میں فلسفیانہ کالم لکھنے والا شخص کہانی کیوں لکھے گا۔اگر لکھے گا بھی تو کیا ہی لکھے گا۔کہانی آوارہ ہوتی ہے ریاضی کو آوارہ گردی نہیں پسند۔کہانی دھوکہ دیتی ہے، ریاضی کو دھوکہ نہیں پسند۔کہانی میں دو اور دو پانچ ہوجاتے ہیں، ریاضی کو یہ حرکت نہیں پسند۔

چیخوف نے لکھا تھا کہ کہانی کا کام مسئلے کو درست طریقے سے پیش کرنا ہے، مسئلے کا حل دینا نہیں۔جیسے منٹو نے کہا تھا کہ میں درزی نہیں ہوں جو ننگا پن دکھانے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی سی کر دوں۔ریاضی میں لکھنے والے مسائل بھی لکھتے ہیں ساتھ کپڑے بھی سی کر دیتے ہیں۔کہانی کے آخر میں فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں۔فرید ایاز کی طرح رک رک کر شعر کی تشریح بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔ہر جملے کو لوڈڈ رکھتے ہیں تاکہ کوئی بات مبہم نہ رہ جائے۔شعر اور کہانی کا معاملہ اور ہے۔معانی کم ہونے سے شعر بڑا ہوتا ہے اور بات نامکمل ہونے سے کہانی بڑی ہوتی ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی یاسر پیرزادہ کی کاف کہانی بڑی ہے؟ یہ میں نہیں بتا سکتا۔اپنی اوقات تصدیق یا تردید کرنےکی نہیں ہے۔میں یہ بتا سکتا ہوں کہ مزا بڑا آیا۔مزا بھی اسلئے آیا کہ سوال جیسے ہی جواب کی تلاش میں نکلتا ہے کہانی رک جاتی ہے۔

مصنف کی ریاضی شعوری یا غیر شعوری طور کہانی میں اپنا کام دکھا رہی ہے۔بنیادی طور پر تو شعر،موسیقی اور کہانی ریاضی ہی ہیں۔عروض، کمپوزیشن، کرافٹ، پلاٹ سب ریاضی ہیں۔یہ خیال اور معانی ہیں جو آوارہ ہوتے ہیں۔یاسر کی کہانیاں فیتے پر رکھ کر دیکھ لیں۔ہر کہانی سائز میں ایک جتنی ہے۔ایسے لوگ درزی اور حجام کو بہت تنگ کرتے ہیں۔پھر ایک چیز روانی ہوتی ہے۔کہانی میں روانی یونہی الفاظ کی جگل بندی سے نہیں آجاتی۔لفظ اور معانی کے تال میل سے آتی ہے۔ وحدت تاثر سے آتی ہے، جسے ادیب لوگ Unity of Effect کہتے ہیں۔یہی کہانیاں ہوتی ہیں جو قاری کو عنوان کے کنڈے میں پھانستی ہیں اورآبشار کی طرح بہاکر لے جاتی ہیں۔کاف کہانی کی کہانیاں اسی روانی کے دم پر چل رہی ہیں۔ورنہ ان کہانیوں میں ایک بڑا عیب ہے۔یہ سماجی سانحوں، جذباتی حادثوں اور نظریاتی الجھنوں کی کہانیاں نہیں ہیں۔یہ وقت، انتظار، تنہائی اور تلاش کی کہانیاں ہیں۔اسلئے یہ کم ہی پڑھی جائیں گی۔

ایک بات آپ بھی جانتے ہیں۔یاسر پیرزادہ کرنٹ افیئرز کے محدود کینوس پر کالم کے رنگ نہیں بکھیرتے۔وہ وقائع نگاری سے بچ بچاکر سیدھا تھاٹ پراسیس کو پکڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یاسر کے کالم وقت گزرنے کے بعد بھی تازہ ہوتے ہیں۔کاف کہانی کی کہانیوں کو آپ اسلئے کالم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جنگ اخبار میں شائع ہوئی ہیں۔مگر انکو کہانی اس لیے کہنا پڑے گا کہ انکا کینوس یاسر کے کالموں والے کینوس سے بہت بڑا ہے۔ایک سوال جو نہیں ہونا چاہیے۔کاف کون ہے؟ کاف فرانز کافکا کے ناول دی ٹرائل کا کردار K جیسا نہیں ہے۔ وہ اس قصورجیسا ہے جو K کو کبھی نظر نہیں آتا۔ کاف سیموئیل بیکیٹ کا کردار گوڈوٹ ہے، جو کہانی میں موجود تو ہوتا ہے مگر کبھی سامنے نہیں آتا۔یہ کہانیاں دراصل اس چٹان کے گرد گھوم رہی ہیں جسے سسی فس روز پہاڑ کی چوٹی تک پہنچانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ مشتے نمونے از خروارے کے طور پر کہانیوں کے کچھ اقتباسات سنائے جاسکتے ہیں مگر کیوں سنائے جائیں۔بزرگوں نے فلم اور کہانی کے اسپوائلرز دینے کو بداخلاقی کہا ہے۔اچھی کتاب کا خراج یہ ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے۔

تازہ ترین