• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا قتل: بزنس پارٹنر کے چرس کی سگریٹ کا بتانے پر جوڈیشل کمیشن کے سخت سوالات

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شروع ہو گئی۔ 

میر رضا کے اہلِ خانہ وکیل جبران ناصر کے ہمراہ کمیشن میں شریک ہوئے جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال بھی کارروائی میں موجود تھے۔

میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے اور عبداللّٰہ، دوست رازق اور حیثم جبکہ میر رضا کو رائیڈز فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان علی بھی کمیشن میں پیش ہوئے۔

کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے کو طلب کر کے سوالات کیے کہ وہ میر رضا کو کب سے جانتے ہیں؟

احمد بھردے نے بتایا کہ میں میر رضا کو بچپن سے جانتا ہوں اور پہلی جماعت سے ساتھ تھا۔

کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے یا کاروباری؟

احمد بھردے نے بتایا کہ میں کالج میں بھی ساتھ تھا، ایونٹس بھی ساتھ کیے اور کاروبار بھی ساتھ میں کیا، 2020ء میں مشترکہ کاروبار شروع کیا جس کی ڈیزرٹ شاپ کی 2 برانچز اور 2 کلاؤڈ کچن ہیں۔

کمیشن نے کاروباری ڈیل کے بارے میں سوال کیا تو احمد بھردے نے بتایا کہ کاروبار کے آغاز میں پارٹنر ڈیڈ بنائی تھی اور دونوں مل کر تمام برانچز چلاتے تھے، میر رضا کا گھر بہادر آباد کے قریب تھا اس لیے میر رضا وہاں زیادہ کاروباری معاملات دیکھتا تھا۔

کاروبار کی صورتِ حال سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے کہا کہ کاروبار اچھا چل رہا تھا اور کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا، دونوں نے طے کیا تھا کہ ذاتی اخراجات کے لیے روزانہ 5 ہزار روپے نکالے جائیں گے جبکہ اضافی ضرورت کی صورت میں پارٹنر کو بتا کر رقم نکالی جاتی تھی۔

کاروبار کے مالی معاملات سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ جولائی میں اکاؤنٹنٹ رکھا گیا، اس سے پہلے دونوں خود مالی معاملات دیکھتے تھے۔

کمیشن نے کاروبار فروخت کرنے کے ارادے کے بارے میں پوچھا تو احمد بھردے نے کہا کہ کاروبار فروخت کرنے کا کبھی نہیں سوچا۔

میر رضا کی گمشدگی کے دوران صبح 8 بجے اس کے گھر جانے سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ میں اپنی کار میں میر رضا کے گھر گیا تھا، میرے پاس ایک کار ہے جو والد کے نام پر ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ کیا بیان میں 2 گاڑیوں کا ذکر نہیں کیا گیا تھا؟

احمد بھردے نے جواب دیا کہ دوسری گاڑی کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ پہلے فروخت کر دی گئی تھی، عبداللّٰہ بھی ساتھ تھا۔

کمیشن نے مزید لوگوں کے ساتھ ہونے کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ کمیشن کے پاس بیان ہے کہ مزید افراد بھی ساتھ تھے۔

احمد بھردے نے بتایا کہ وہاں پہنچنے پر منیجر شیری، کاظم، رازق اور حیثم بھی موجود تھے۔

کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کی فیملی سے کیا بات کی گئی؟

احمد بھردے نے بتایا کہ میں نے سوچا شاید میر رضا کوئی نوٹ وغیرہ چھوڑ کر گیا ہو، اس لیے فیملی سے بات کی اور کہا کہ چیک کرتے ہیں۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا یہ معمول تھا کہ احمد بھردے میر رضا کے گھر جاتا رہتا تھا جبکہ میر رضا کے کمرے میں جانے والے افراد کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔

احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا کی والدہ، عبداللّٰہ، رازق اور شیری کمرے میں گئے تھے، کمرے میں میر رضا کا والٹ، چارجر اور چابیاں موجود تھیں، میر رضا ہمیشہ اپنے ساتھ چارجر اور چابیاں رکھتے تھے۔

احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا شیلف میں سگریٹ کے پیکٹ رکھتے تھے جن میں کبھی چرس بھی ہوتی تھی۔

چرس کا ذکر کرنے پر کمیشن نے احمد بھردے سے سوال کیا کہ اس بات کو بتانا کیوں ضروری سمجھا؟ اس کے بعد کمیشن نے احمد بھردے سے پے در پے سوالات کیے۔

احمد بھردے نے کہا کہ میں یہاں خود کو کلیئر کرنے آیا ہوں۔

کمیشن نے سوال کیا کہ تمہیں کیسے پتہ تھا اور کیا تم نے کبھی چرس دیکھی تھی؟ کیا یہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ میر رضا کی فیملی کمرہ چیک کر لے؟

کمیشن نے احمد بھردے سے کہا کہ آپ نے خود بہت اچھی طرح تلاشی لی اور سوال کیا کہ کسی کی ذاتی جگہ میں اس طرح جانا کیوں ضروری تھا؟

قومی خبریں سے مزید