• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کال سینٹر کسی کمپنی یا ادارے کا وہ شعبہ یا دفتر ہوتا ہے جہاں کارکن باقاعدہ طور پر ٹیلیفون اور کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کرتے یا ان کی کالیں وصول کرتے ہیں۔ بینک، موبائل کمپنی، تجارتی ادارہ یا کوئی سرکاری محکمہ اپنے صارفین کی رہنمائی اور شکایات کے ازالے کیلئے کال سینٹر قائم کرسکتا ہے۔ اس اعتبار سے کال سینٹر جدید کاروباری اور عوامی خدمات کا معمول کا حصہ ہے۔ اس میں کوئی خرابی نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس نوع کی سہولت کو قانون شکنی کا ذریعہ بنایا جائے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی ایسے غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور کچھ عرصے قبل اسلام آباد میں ہونے والی بڑی کارروائیوں نے ایک بار پھر اس مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔ اس سے پہلے سال2025میں اسلام آباد کے ایک غیر قانونی کال سینٹر پر کارروائی کے دوران60سے زیادہ افراد وہاں کام کرتے پائے گئےتھے۔جبکہ تحقیقات میںجعلی شناختوں اور مصنوعی ذہانت سے تیارکردہ تصاویر کے ذریعے لوگوں کو آن لائن فراڈ میں پھنسانے کی باتیں بھی سامنے آئی تھیں۔

پچھلے دنوں اسلام آباد کے ایک پلازہ میں بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی گرفتاری اور اس کے بعدغیر قانونی کال سینٹروں کے خلاف ملک گیر کارروائی کی اطلاعات نے اس معاملے کی سنگینی مزید نمایاں کردی ہے۔ یہ واقعات محض چند عمارتوں یا چند افراد کی کہانی نہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ کال سینٹر، کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت اور دوسرے ڈیجیٹل ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے جرائم کا ایک نیا انداز سامنے لاچکے ہیں جسکی سرحدیں کسی ایک شہریا ملک تک محدود نہیں رہیں۔

اسلام آباد کے مذکورہ پلازہ میں ایک ہی دن میں دو کارروائیاں کی گئیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی پہلی کارروائی میں258غیر ملکی گرفتار ہوئے۔ اس کے فوراً بعد اسی پلازہ میں قوی سائبر تحقیقاتی ادارے نے ایک اور کارروائی کی جس میں114غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں کارروائیاں الگ الگ مقدمات میں ہوئیں اور مجموعی طور پر 370افراد عدالت کے سامنے پیش کئے گئے۔کسی ایک عمارت میں بہت سے غیر ملکیوں کی محض موجودگی شاید تشویش کی بات نہ ہو مگر جب دنیا کے مختلف حصوں سے ایسی خبریں آرہی ہوں کہ جرائم پیشہ افراد کال سینٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کو ہتھیار بناکر گھناؤنی سرگرمیوں کا ایک نیا رخ اختیار کرچکے ہیں، تواس نوع کے معاملات کو سرسری طور پرلینا ممکن نہیں رہتا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں تحویل میں لئے گئے کئی افراد پاکستان بدر کردئیے گئے ہیں جب کہ سائبر کرائم سے متعلق ادارے نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ایک کال سینٹر پر کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کو فراڈ کا نشانہ بنانے والے چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ کمبوڈ یا، میانمار اور لاؤس میں ایسے اسکینڈلز کا سلسلہ سامنے آچکا ہے کہ لوگوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر بلایا گیا۔ پھر بعض کوان کے پاسپورٹ اور دستاویزات سے محروم کرکے ایسے مراکز میں رکھاگیا جہاں تشدد سمیت ہر طریقے سے انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ دوسروں کوآن لائن دھوکا دینے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں۔ کمبوڈیا سے بازیاب کرائے گئے بنگلہ دیشیوں کے بیانات لرزہ خیزہیں۔ اچھی ملازمت کے وعدوں پر لیجائے گئے ان افراد کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا ان کا اصل کام ان لوگوں کو آن لائن، دھوکا دینا ہے جنہیںوہ جانتے تک نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے درجنوں بچ جانے والے افراد کے انٹرویو کرکے بتایا کہ تشدد اور انسانی اسمگلنگ کے شکار متعدد متاثرین کے ذریعے بزرگ افراد کو سرکایہ کاری کیلئےپھنسایا گیا۔ لاؤس میں خواتین سمیت متعدد افراد کو سوشل میڈیا شناختیں بناکر اجنبی لوگوں سے دوستی اور محبت کا تعلق قائم کرنے اور پھر انہیں جعلی سرمایہ کاری منصوبوں میں رقم لگانے پر آمادہ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی مہاجرت کی عالمی تنظیم کے اندازے کے مطابق ان فراڈ مراکز میں کام کرنیوالوں کی تعداد تین لاکھ ہوسکتی ہے اور ان کے متاثرین80سےزیادہ ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ ایساپیچ وخم والا مسئلہ ہے جس میں جرم کی جڑیں ایک ملک میں اور ان کے شکار دوسرے ملک میں ہوتے ہیں۔ رقم کسی تیسرے ملک کے ذریعے منتقل ہوسکتی ہے جبکہ اصل سرغنہ چوتھے ملک میں بیٹھا ہوسکتا ہے۔ ان جرائم میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا جس کا یہ مطلب بہرطور نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت یا ٹیکنالوجی بجائے خود کوئی بری چیز ہے۔ اصل مسئلہ ا سکے استعمال کا ہے۔ ایک ہی ٹیکنالوجی کسی طالب علم کیلئے علم کا ذریعہ، کسی ڈاکٹر کیلئے مددگار، کسی کاروباری شخص کے لئے سہولت اور کسی محقق کیلئے طاقت بن سکتی ہے لیکن اگر وہی طاقت کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھ میں پہنچ جائے تو وہ دھوکے کی رفتار اور دائرہ، دونوں بڑھا سکتی ہے مجرمانہ سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال روکنےکیلئےبھی نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے بلکہ افراد ، ملکوں،علاقوں اور عالمی سطح پر کی جانے والی احتیاطی تدابیر کی بھی خاص اہمیت ہے۔اس وقت کی صورتحال میں عام شہری کیلئے یہ احتیاط پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹ اور پاس ورڈ جیسی معلومات کسی اجنبی کو نہ دے۔ کوئی شخص خود کو بینک، پولیس، عدالت، کسی سرکاری ادارے یا کسی عزیز کا نمائندہ ظاہر کرکے فوری رقم یا معلومات طلب کرے تو صرف ا سکی بات پر یقین نہ کیا جائے، فون بند کرکے متعلقہ ادارے یا عزیز سے اس کے معلوم اورقابل اعتماد نمبر پرخود رابطہ کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت سے آواز کی نقل بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اگر کسی عزیز کی آواز میں اچانک رقم کی ضرورت بتائی جائے تو پہلے دوسرے ذرائع سے تصدیق کی جائے۔ اسی طرح بیرون ملک ملازمت، سرمایہ کاری، آن لائن کاروبار یا غیر معمولی منافع کی پیش کش کوبھی تحقیق کے بغیر قبول نہیں کیا جانا چاہئے۔اس باب میں ریاست کی ذمہ داری بالخصوص اس صورت میں بڑھ گئی ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز کی موجودگی کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ ریاست اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کربھی رہی ہے اور سرکاری ذرائع کئی اقدامات کے اشارے دے رہے ہیں۔ چھاپوں میںسامنے آنے والے شواہد سے جوخدشات نمایاں ہوئے ان کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اندرون ملک اقدامات کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ پولیس، سائبر کرائم اداروں، مالیاتی اداروں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سطح پر فوری معلومات کا تبادلہ یقینی بنایا جائے۔ دنیا بدل رہی ہے اور جرم بھی اپنا چہرہ بدل رہا ہے۔ اسلام آباد کا واقعہ اس بدلتی دنیا کی ایک جھلک ہے۔ اس کے پیچھے موجود یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہماری قانون نافذ کرنے والی مشینری اس رفتار سے بدل رہی ہے جس رفتار سے جرم ٹیکنالوجی کے ساتھ بدل رہا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف سخت کارروائی نہیں۔ بہتر قانون، جدید تفتیش ، بین الاقوامی تعاون، مالیاتی نگرانی، عوامی آگاہی اورٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔

تازہ ترین