مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے، پھر نئے صوبوں کی بات کی جائے، آئین کی توہین کریں گے تو جتنے مرضی صوبے بنا لیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
لاہور میں نئے صوبوں کی تشکیل پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا جس سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں جمہوری آدمی ہوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا حامی ہوں۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ ملک میں جو بھی وزیرِ اعظم بنا، اسے جیل جانا پڑا، شاہد خاقان عباسی کو عزت سے بھیجا گیا مگر پھر بھی جیل میں ڈال دیا گیا، 40 سال بعد وہ ایسے چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں لوگ لیڈر کو بت پرستی کی حد تک لے جاتے ہیں اور ہر سیاسی جماعت خاندان کی جاگیر بنی ہوئی ہے، پہلے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائی جائے کیونکہ ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سب سے پہلے مینڈیٹ چوری کا کام شروع کیا گیا، چھوٹے صوبے بنانے سے کیا آبِ حیات پھیل جائے گا؟ پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے کوئی امید نہیں کیونکہ ہر جماعت پر ایک خاندان مسلط ہے۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ ’گورا انگریز چلا گیا اور کالا انگریز چھوڑ گیا۔‘