امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے تو لیوی ختم کریں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر سے حکومت اور ہمارے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گا، دھرنے اور بات چیت ساتھ ساتھ چلے گی، ہمیں یقین ہے ہم عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اب بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم پہیہ جام کی طرف جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اتنا زیادہ کیوں ہے۔
امیرِ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ 8 ہزار ارب روپے قرض پر سود ادا کرتے ہیں، جبکہ 7 ہزار ارب روپے مقامی بینکوں کا قرض ہے اور بینکوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت عوام پر ظلم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 13 سو ارب روپے کی کرپشن ایف بی آر کی نااہلی کی وجہ سے ہوتی ہے، ایف بی آر کا عملہ نااہل ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ساز باز کر کے جمہوریت کو نقصان پہنچایا، ایم کیو ایم ایسی چیز ہے جو ہر جگہ فٹ ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم ہر اس احتجاج کی حمایت کرتے ہیں جو آئینی اور جمہوری طریقے سے کیا جائے، ہماری کال پُرامن ہوتی ہے، عوام کا ہماری کال پر ردِعمل زبردست تھا اور ہم زبردستی نہیں کرتے، پُرامن کال دیتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ابھی بھی آئی پی پیز سے بات کی جائے تو بجلی مزید سستی ہو سکتی ہے، یہاں ایک مافیا ہے جس کا بجلی، تیل اور گیس ہر شعبے پر قبضہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیوی بھتے کے حوالے سے عوام کو مکمل آگاہی ہوگئی ہے، مجھے یقین ہے کہ حکومت پیچھے ہٹے گی اور ہم پاکستان کے 5 کروڑ عوام سے مطالبات پر دستخط لیں گے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے یہ بھی کہا کہ حکومت پالیسی ریٹ 3 فیصد کم کر دے پیٹرولیم لیوی نہیں لینی پڑے گی، حکومت جتنا تاخیر کرے گی اتنا ہی دھرنوں میں اضافہ ہوگا اور حکومت ریلیف نہیں دے گی تو ہم عوام کا دباؤ بڑھائیں گے۔